اترپردیش میں اب قانون کی حکمرانی نہیں رہ گئی ہے: نواب ملک اگر وزیراعظم کو ہاتھرس واقعے پر دکھ ہوا ہے تو یوگی کا استعفیٰ لے کر حکومت برخاست کردیں

2

ممبئی: اترپردیش میں اب قانون کی حکمرانی کے بجائے یوگی کے خاص لوگوں کی حکمرانی قائم ہوگئی ہے۔ یوگی مہاراج ہیں لیکن ریاست کو ایک راجا کی طرح چلارہے ہیں جو جمہوریت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ یہ باتیں آج یہاں راشٹروادی کانگریس پارٹی کے قومی ترجمان اور اقلیتی بہبود کے وزیر نواب ملک نے کہی ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ اترپردیش میں یوگی جی جس طرح سے سرکار چلارہے ہیں اس کے مطابق وہ اپنے ساتھیوں وکارکنان کو کھلی چھوٹ دے رہے ہیں۔ ہاتھرس میں دلت لڑکی کی اجتماعی عصمت دری ہوئی اور اس کے بعد اس کو قتل کردیا گیا۔ ابتداء میں اسے فیک نیوز قراردے کر اس طرح کا کوئی واقعہ نہیں ہوا کہنے والی یوگی حکومت نے اس لڑکی کا راتوں رات انتم سنسکار بھی کردیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اترپردیش میں اب قانون نام کی کوئی چیز نہیں رہ گیا ہے۔ نواب ملک نے کہا کہ اناؤ میں سینگر کوبچانے کی کوشش کی گئی اسی طرح اس کیس میں بھی ہوا ہے اور اس طرح کے بیشتر کیسس میں اترپردیش میں ہیں جن کی حکومت پشت پناہی کررہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہاتھرس کے واقعے پر وزیراعظم کواگر دکھ ہوا ہے تو وہ فوری طور پر یوگی کا استعفیٰ لے کرحکومت کوبرخاست کریں۔