یوگی کے دس سال بعد بھی بی جے پی کو 2017 کا خوف کیوں؟

ناگیندر

گزشتہ کئی انتخابات کی طرح بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اتر پردیش میں بھی ماضی کی یادوں کو انتخابی موضوع بنانے کی تیاری کر رہی ہے۔ انتخابات سے پہلے سابقہ حکومت کی یاد دلانا کوئی نئی بات نہیں، لیکن جب کوئی جماعت تقریباً دس سال اقتدار میں رہنے کے بعد بھی اپنے انتخابی بیانیے کا بڑا حصہ پچھلی حکومت پر تنقید کے لیے مختص کرے تو اس کے سیاسی مقصد کو سمجھنا ضروری ہو جاتا ہے۔ 2027 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے اتر پردیش میں بی جے پی اور وزیرِاعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کچھ ایسا ہی کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

بہار اسمبلی انتخابات میں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کو گھیرنے کے لیے لالو-رابڑی حکومت کے مبینہ ’’جنگل راج‘‘ کو انتخابی بحث کے مرکز میں رکھا گیا تھا۔ اتر پردیش میں بی جے پی اسی حکمتِ عملی کا ایک نیا انداز آزمانے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہاں نشانے پر سماج وادی پارٹی اور اکھلیش یادو ہیں۔ بی جے پی ووٹروں کو 2017 سے پہلے کا اتر پردیش یاد دلانا چاہتی ہے۔ اس دور کے جرائم، بدامنی اور سیاسی سرپرستی کے واقعات پیش کرکے یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ سماج وادی پارٹی کی واپسی کا مطلب مبینہ ’’غنڈہ راج‘‘ کی واپسی ہوگا۔

وزیرِاعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے حالیہ بیانات میں یہ حکمتِ عملی واضح ہے۔ 2 نومبر 2026 کو گونڈا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سماج وادی پارٹی کو اتر پردیش کے لیے ’’لعنت‘‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی سماج وادی پارٹی کی حکومت آئی، ریاست میں جرائم، بدامنی اور فسادات بڑھے۔ انہوں نے 25 سے 28 سال کی عمر کے نوجوانوں سے کہا کہ وہ اپنے والدین سے پوچھیں کہ سماج وادی حکومت میں کرفیو اور فسادات کا ماحول کیسا تھا اور خواتین و لڑکیوں کی سلامتی کی صورتِ حال کیا تھی۔اتفاق دیکھیے کہ بہار انتخابات کے دوران نومبر 2025 میں مرکزی وزیرِ داخلہ امیت شاہ نے بھی اسی نوعیت کی اپیل کی تھی۔ فرق صرف یہ تھا کہ شاہ بہار میں نتیش کمار کے بیس سالہ مبینہ سوشاسن (بہتر حکمرانی) حکمرانی کے مقابلے میں لالو-رابڑی دور کی یاد دلا رہے تھے، جبکہ یوگی تقریباً دس سال اقتدار میں رہنے کے بعد بھی اپنی حکومت کی کامیابیوں کے بجائے سابقہ حکومت کو موضوع بنا رہے ہیں۔

اس سے پہلے بھارتیہ جنتا یووا مورچہ کی جانب سے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں نوجوانوں کے درمیان مہم چلانے اور انہیں سماج وادی حکومت کے مبینہ ’’جنگل راج‘‘ سے خبردار کرنے کے منصوبے کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں۔ سماجی کارکن پربھات کمار کے مطابق، بی جے پی اس نسل تک بھی 2017 سے پہلے کی منفی یادیں پہنچانا چاہتی ہے جس نے اکھلیش یادو کے دورِ حکومت کو براہِ راست سیاسی تجربے کے طور پر نہیں دیکھا۔ تاہم روزگار کے بحران اور امتحانی پرچوں کے افشا جیسے مسائل سے دوچار نوجوانوں پر اس مہم کا کتنا اثر ہوگا، یہ دیکھنا باقی ہے۔

ماضی کو انتخابی سرمایہ بنانے کی کوشش

بی جے پی کی اس حکمتِ عملی کی ایک اور مثال 30 اکتوبر کو لکھنؤ میں پارٹی کی ریاستی مجلسِ عاملہ کے اجلاس میں امیت شاہ کی تقریر تھی۔ انہوں نے 1990 میں ایودھیا میں کارسیوکوں پر ہونے والی فائرنگ کا معاملہ اٹھایا اور اکھلیش یادو کو ملائم سنگھ یادو حکومت کے فیصلے پر سیاسی طور پر جواب دہ ٹھہرانے کی کوشش کی۔ شاہ نے کہا کہ عوام سماج وادی پارٹی کی اگلی، یعنی ’’تیسری نسل‘‘ کو بھی معاف نہیں کریں گے۔

حالاں کہ 1990 میں ملائم سنگھ یادو وزیرِاعلیٰ تھے اور اکھلیش یادو کا اس حکومت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس کے باوجود بی جے پی اس واقعے کو اکھلیش کے دورِ حکومت اور موجودہ سماج وادی سیاست سے جوڑ رہی ہے۔ یوں ملائم سنگھ یادو کا 1990 کا دور، اکھلیش کی 2012 سے 2017 تک کی حکومت اور 2027 میں سماج وادی پارٹی کی ممکنہ واپسی، ایک ہی سیاسی کہانی میں پروئے جا رہے ہیں۔ اس بیانیے میں رام مندر تحریک کی یاد اور ہندوتوا کی سیاست کو بھی شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اسی اجلاس میں شاہ نے یوگی حکومت کی کارکردگی کو سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کی حکومتوں سے ’’200 فیصد بہتر‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے اگلی حکومت بننے پر اتر پردیش میں یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کا وعدہ بھی کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی کا انتخابی بیانیہ صرف قانون و انتظام تک محدود نہیں۔ اس میں سابقہ حکومتوں پر تنقید کے ساتھ مستقبل کے ہندوتوا پر مبنی ایجنڈے کا اشارہ بھی شامل ہے۔اس حکمتِ عملی کا ایک اور ثبوت ’’یاد رکھے گا یوپی‘‘ نامی ڈیجیٹل تشہیری پلیٹ فارم ہے۔ انڈیا ٹوڈے کی ستمبر 2026 کی تحقیق کے مطابق، اس پلیٹ فارم پر 2017 سے پہلے کے اتر پردیش کے واقعات کو ٹائم لائن کی صورت میں پیش کیا گیا۔ کوسی کلاں کے تشدد، جرائم، مافیا راج، بدعنوانی اور خواتین کے عدم تحفظ جیسے واقعات کو اس دور کی شناخت کے طور پر دکھایا گیا۔ دوسری جانب ’’نان اسٹاپ یوپی‘‘ اور ’’فرینڈز آف یوگی‘‘ کے ذریعے یوگی حکومت کی کارکردگی اور وزیرِاعلیٰ کی ذاتی شبیہ اجاگر کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔

اس طرح بی جے پی کی حکمتِ عملی کے تین حصے ہیں: یوگی حکومت کے کام کی تشہیر، اکھلیش حکومت کے مبینہ ’’جنگل راج‘‘ کی یاد تازہ کرنا، اور یوگی کی انفرادی سیاسی شبیہ بنانا۔

لیکن بہار، اتر پردیش نہیں

بہار کے انتخابی تجربے سے بی جے پی کو یہ اشارہ ضرور ملا ہوگا کہ سابقہ حکومت کے بارے میں منفی یادوں کو دوبارہ زندہ کرنا سیاسی طور پر مفید ہو سکتا ہے۔ لیکن دونوں ریاستوں کے حالات ایک جیسے نہیں۔ بہار میں لالو-رابڑی حکومت ختم ہوئے تقریباً دو دہائیاں گزر چکی تھیں۔ اتر پردیش میں اکھلیش حکومت ختم ہوئے دس سال ہوئے ہیں اور اس دور کے ترقیاتی کاموں کی یادیں بھی باقی ہیں۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں سماج وادی پارٹی کی 37 نشستوں پر کامیابی نے یہ بھی دکھایا کہ بی جے پی کا سماجی اتحاد ناقابلِ شکست نہیں۔

بہار میں ’’جنگل راج‘‘ کا خوف دکھانے کے ساتھ نتیش کمار کی حکومت اور فلاحی اسکیموں کو متبادل کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ اتر پردیش میں یوگی حکومت کو اپنے تقریباً دس سالہ اقتدار کا حساب بھی دینا ہوگا۔ اس لیے یہ فرض کر لینا قبل از وقت ہوگا کہ 2017 سے پہلے کے ’’غنڈہ راج‘‘ کا نعرہ 2027 میں بھی اتنا ہی مؤثر ثابت ہوگا۔ یہ سوال بھی زیرِ بحث ہے کہ بہار میں پرانی یادوں کو تازہ کرنے سے بی جے پی کو کتنا فائدہ ہوا۔

اکھلیش کے پانچ سال کی دوسری تصویر بھی

یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ 2012 سے 2017 کے دوران اکھلیش یادو کی حکومت میں قانون و انتظام کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ سماج وادی پارٹی کے بعض رہنماؤں اور مقامی بااثر افراد کی دھونس، پولیس اور انتظامیہ پر سیاسی دباؤ، اور جرائم پیشہ افراد کو تحفظ دینے کی شکایات موجود تھیں۔ مظفرنگر فسادات، متھرا کا جواہر باغ واقعہ اور بلندشہر میں اجتماعی زیادتی جیسے واقعات نے بھی حکومت کی شبیہ کو نقصان پہنچایا تھا۔

لیکن اس دور کی ایک دوسری تصویر بھی ہے۔ آگرہ-لکھنؤ ایکسپریس وے، لکھنؤ میٹرو کا آغاز، لیپ ٹاپ تقسیم، سماج وادی پنشن اسکیم اور شہری بنیادی ڈھانچے کے کئی منصوبے اکھلیش حکومت کے دور سے وابستہ ہیں۔ لکھنؤ میں ایکانا اسٹیڈیم، جے پی این آئی سی، گومتی ریور فرنٹ، خواتین کے لیے پاور ہیلپ لائن، رام منوہر لوہیا پارک اور جنیشر مشرا پارک بھی اسی دور کی شناخت ہیں۔ ان منصوبوں کے نفاذ اور اثرات کا الگ الگ جائزہ لیا جا سکتا ہے، لیکن پورے پانچ سال کو صرف ’’غنڈہ راج‘‘ قرار دینا اس دور کی پیچیدگیوں کو ایک سیاسی نعرے میں سمیٹنے کے مترادف ہے۔

یوگی حکومت کے دس سال کا حساب بھی ضروری

یوگی حکومت کے دور میں ایکسپریس ویز، ہوائی اڈوں، سرمایہ کاری کے منصوبوں، رہائش اور فلاحی اسکیموں میں توسیع ہوئی ہے۔ حکومت مافیا کے خلاف کارروائی اور جرائم پیشہ افراد پر سختی کو قانون و انتظام کے شعبے میں اپنی نمایاں کامیابیوں کے طور پر پیش کرتی ہے۔ لیکن اس حکومت کی ایک دوسری شناخت ’’بلڈوزر، پولیس مقابلے اور مذہبی تقسیم‘‘ بھی بنی ہے۔

بلڈوزر کو مجرموں اور مافیا کے خلاف کارروائی کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا، تاہم کئی معاملات میں ملزموں کی جائیدادوں کے خلاف کارروائی کی قانونی حیثیت اور مناسب طریقۂ کار پر سوال اٹھے۔ سپریم کورٹ کو بھی ایسی کارروائیوں کے لیے رہنما اصول دینا پڑے۔ اسی طرح پولیس مقابلوں کی شفافیت، جواب دہی اور تحقیقات کی ضرورت پر سوالات سامنے آتے رہے ہیں۔ قانون کی حکمرانی صرف سخت کارروائی سے قائم نہیں ہوتی، اس کے لیے غیر جانب دار اور قانونی طریقۂ کار بھی ضروری ہے۔دوسری جانب مندر-مسجد تنازعات، تبدیلیٔ مذہب، نام نہاد ’’لو جہاد‘‘، کانوڑ یاترا اور مسلم شناخت سے وابستہ موضوعات مسلسل سیاسی بحث کا حصہ رہے ہیں۔ بی جے پی کے حامی انہیں ثقافتی احیا اور اکثریتی سماج کے اعتماد سے جوڑتے ہیں۔ دوسری طرف بہت سے لوگ انہیں سماجی ہم آہنگی اور شہری مساوات کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔

سماجی کارکن انیل چودھری سوال کرتے ہیں کہ دس سال بعد بھی کیا حکومت کے پاس روزگار، تعلیم، صحت، زراعت اور سماجی ہم آہنگی کے شعبوں میں ایسی کامیابیاں ہیں جنہیں وہ اپنی سب سے بڑی سیاسی شناخت بنا سکے؟روزگار اور تعلیم کے شعبوں میں بھی سوالات موجود ہیں۔ سرکاری بھرتیوں میں تاخیر، امتحانی پرچوں کا افشا، مسابقتی امتحانات کے بارے میں غیر یقینی اور نجی شعبے میں مناسب مواقع کی کمی نوجوانوں کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ حکومت کو بتانا ہوگا کہ کتنی اسامیاں منظور ہوئیں، کتنی پُر کی گئیں اور کتنی خالی ہیں۔ سرکاری اسکولوں کا معیار، اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی دستیابی، کسانوں کی آمدنی اور چھوٹے کاروباریوں کی صورتِ حال بھی کارکردگی کے جائزے کا حصہ ہونی چاہیے۔

ترقی کا مطلب صرف ایکسپریس وے اور ہوائی اڈے بنانا نہیں۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ان منصوبوں سے کتنا روزگار پیدا ہوا، سرمایہ کاری کی کتنی تجاویز حقیقی صنعتوں میں بدلیں اور عام شہری کی زندگی میں کتنا فرق آیا۔ وعدوں اور حقیقی نتائج کے درمیان موجود فرق بھی ووٹروں کے سامنے آنا چاہیے۔

اکھلیش کے سامنے بھی مستقبل کا سوال

اس بحث میں اکھلیش یادو کا چیلنج بھی کم نہیں۔ بی جے پی کی سابقہ حکومتوں کے بارے میں مہم کا جواب صرف اپنی حکومت کی کامیابیاں گنوا کر نہیں دیا جا سکتا۔ انہیں اپنی حکومت کی خامیوں کو تسلیم کرتے ہوئے یہ یقین دلانا ہوگا کہ آئندہ قانون و انتظام کے معاملے میں سیاسی سرپرستی اور انتظامی دباؤ کی گنجائش نہیں ہوگی۔ پی ڈی اے کی سیاست کو بھی صرف سماجی اتحاد تک محدود رکھنے کے بجائے پسماندہ طبقات، دلتوں اور اقلیتوں کے لیے تعلیم، روزگار، نمائندگی اور احترام کا واضح پروگرام پیش کرنا ہوگا۔

سیاسی تجزیہ کار راجیو سدھارتھ کے مطابق، انتخابات میں دونوں حکومتوں کے ادوار اور مستقبل کے وعدوں کا جائزہ ہونا چاہیے۔ کسی حکومت کو صرف اس بنیاد پر جواب دہی سے چھوٹ نہیں مل سکتی کہ اس سے پہلے والی حکومت خراب تھی۔ بنیادی سوال یہی ہے کہ تقریباً دس سال اقتدار میں رہنے والی جماعت کو اپنے پیش رو کے دور کا خوف دکھانے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟ کیا یہ اپنی ’’کامیابیوں‘‘ پر اعتماد کی سیاست ہے یا ووٹروں کو موجودہ مسائل سے ہٹا کر ماضی میں الجھانے کی کوشش؟

2027 کا انتخاب ماضی کے مبینہ ’’غنڈہ راج‘‘ اور حال کے دعووں کے درمیان موازنہ تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ووٹروں کو روزگار، تعلیم، صحت، زراعت، سماجی ہم آہنگی اور قانون کی حکمرانی کے بارے میں دونوں جماعتوں سے جواب مانگنا چاہیے۔ ووٹ دینے کے حق کو لاحق خطرہ بھی اب ایک بڑا سوال بن چکا ہے۔ اکھلیش کو اپنے پانچ سال کا حساب دینا ہوگا تو یوگی حکومت کو اپنے تقریباً دس سال کا۔ جمہوریت میں حکومتیں صرف یہ کہہ کر جواب دہی سے نہیں بچ سکتیں کہ ان سے پہلے والے خراب تھے۔ حکومتیں ماضی کے خوف سے نہیں، مستقبل کے وعدوں اور اعتماد سے منتخب ہوتی ہیں۔