قرض معافی نہیں ملنے والا بیان کسانوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف

’دادا‘ آپ کے وعدوں کا کیا ہوا؟، ہرش وردھن سپکال کا سوال

بی جے پی حکومت نے کسانوں اور لاڈلی بہنوں کے ساتھ دھوکہ کیا، اقتدار میں آتے ہی وعدے بھلا دیے

ممبئی: جن لوگوں کو عوام نے بھاری اکثریت سے اقتدار سونپا تھا، وہ اب عوام کے مسائل پر توجہ دینے کے بجائے ظالمانہ فیصلے کر رہے ہیں۔ اسمبلی انتخابات کے دوران قرض معافی کا وعدہ کر کے مہایوتی اتحاد نے کسانوں کے ووٹ حاصل کر کے اقتدار حاصل کیا تھا، لیکن اب یہی حکومت کسانوں سے کہہ رہی ہے کہ وہ 31 مارچ تک فصل کے قرضے واپس کریں اور انہیں قرض معافی نہیں دی جائے گی۔ نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کا یہ بیان کہ کسانوں کو قرض معافی نہیں ملے گی، کسانوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ یہ باتیں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہی ہیں۔ انہوں نے نائب وزیر اعلیٰ سے سوال کیا ہے کہ ’دادا! آپ کے وعدے کا کیا ہوا؟‘

سنیچر کو الہاس نگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ انتخابی مہم اور منشور میں مہایوتی حکومت نے کسانوں کے قرض معافی اور 10 لاکھ روپے کی امداد کا وعدہ کیا تھا۔ اسی طرح لاڈلی بہنوں کو 2,100 روپے دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر اب بھی انہیں صرف 1,500 روپے دیے جا رہے ہیں۔ اس کے برعکس، لاڈلی بہن اسکیم سے 10 لاکھ بہنوں کے نام کاٹ دیے گئے ہیں، جبکہ بجٹ میں کسانوں کے قرض معافی پر ایک لفظ بھی نہیں کہا گیا۔ سپکال نے کہا کہ ہمیشہ مودی-شاہ کی تعریفیں کرنے والے ٹرپل انجن حکومت کے رہنماؤں کو دہلی جا کر ریاست کے لیے خصوصی مالی پیکیج لانا چاہیے۔

مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت نے متوسط طبقے اور اعلیٰ متوسط طبقے کی ترقی کے لیے پالیسیاں نافذ کیں، لیکن مودی حکومت کے 10 سالوں میں یہ طبقہ کمزور ہو چکا ہے۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے بعد چھوٹے، درمیانے اور بڑے کاروبار ختم ہونے لگے ہیں، جبکہ الہاس نگر جیسے شہروں میں چھوٹے کاروباری بحران کا شکار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوٹ بندی سے کالادھن واپس نہیں آیا، بلکہ RBI کی جتنی کرنسی تھی، وہی واپس بینکوں میں جمع ہو گئی۔ نتیجتاً، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار تباہ ہو گئے۔ جمہوریت میں برابری اور سماجی انصاف کے اصول سب سے اہم ہوتے ہیں، مگر مودی حکومت میں امیر اور امیر ہو رہے ہیں، جبکہ غریب مزید غربت کا شکار ہو رہا ہے۔ حکومت کو غریبوں اور پسماندہ طبقے کے لیے کام کرنا چاہیے اور چھوٹے کاروباروں کو فروغ دینا چاہیے۔

سپکال نے کہا کہ کانگریس حکومت نے اقتدار کو نچلی سطح تک تقسیم کیا، مگر مودی حکومت اقتدار کو مرکز میں رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 140 کروڑ آبادی والے ملک کو صرف چند وزراء اور ارکان پارلیمنٹ کے ذریعے چلانا ممکن نہیں، اس لیے اقتدار کو مقامی بلدیاتی نمائندوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ مگر بی جے پی، خاص طور پر وزیر اعظم نریندر مودی اور مہاراشٹر میں دیویندر فڑنویس کی ضد کے باعث، تین سال سے مقامی بلدیاتی انتخابات نہیں ہو رہے۔ اس دوران میونسپل کارپوریشنز میں ایڈمنسٹریٹرز حکمرانی کر رہے ہیں اور عوام کے حقوق پامال کیے جا رہے ہیں۔

ہرش وردھن سپکال نے ہفتے کو الہاس نگر، کلیان، اور ڈومبیولی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مقامی کانگریس رہنماؤں اور کارکنوں سے ملاقات کی۔ کانگریس کارکنوں کی ایک بڑی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی نے غریب ہٹاؤ مہم شروع کی۔ کانگریس حکومت نے بینکوں کو قومی ملکیت میں لانے کے ساتھ ساتھ راجیو گاندھی نے ملک میں پنچایتی راج مضبوط کیا اور کمپیوٹر انقلاب لایا۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت نے ایسی پالیسیاں بنائیں کہ پیسہ براہ راست عوام تک پہنچے۔ کانگریس کے ہر وزیر اعظم نے ملک کے لیے کچھ نہ کچھ کیا، مگر موجودہ وزیر اعظم کی پہچان جھوٹے وعدے اور نفرت پھیلانے کے سوا کچھ نہیں۔ مودی کا راج صرف ’ہم دو، ہمارے دو‘ کے لیے ہے۔

سپکال نے کانگریس کارکنوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ لڑائی اب ’کرو یا مرو‘ کی ہے۔ ہمیں نفرت پھیلانے والی حکومت کے خلاف متحد ہو کر لڑنا ہوگا۔ اس موقع پر سابق رکن پارلیمنٹ حسین دلوی، مہاراشٹر پردیش کانگریس کے نائب صدر ایڈووکیٹ گنیش پاٹل، الہاس نگر شہر کانگریس کمیٹی کے صدر روہت سالوے، اور دیگر اہم رہنما و کارکنان موجود تھے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading