مالیگاؤں بلاسٹ معاملے پر یوگی کا بیان چناوی اسٹنٹ: نسیم خان

0 16

این آئی اے کے ذریعے مرکزی حکومت مجرمین کو بچانے کی کوشش کررہی ہے

ممبئی: مالیگاؤں بلاسٹ معاملے میں یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ذریعے کانگریس کوموردِ الزام قرار دیئے جانے پر ریاستی کانگریس کے کارگزار صدر نسیم خان نے سخت تنقید کی ہے اور اسے یوگی آدتیہ ناتھ اور بی جے پی کا چناوی اسٹنٹ قراردیا ہے۔یہاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ سچائی یہ ہے کہ یوپی سے یوگی جی کی اور بی جے پی کی ہوا اکھڑ چکی ہے اور آنے والے چناؤ میں وہ اپنی یقینی سے بچنے کے لئے اپنی روایت کے مطابق ہندومسلم سیاست کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ یوپی کی عوام اب ان کے جھانسے میں آنے والی نہیں ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ دودنو ں سے مالیگاؤں بلاسٹ کے گواہان کے منحرف ہونے کے بنیاد پر بی جے پی وآر ایس ایس کے لیڈران کی جانب سے کانگریس کی حکومت اور کانگریس پارٹی کو ہندومخالف قرار دینے کی مہم چلائی جارہی ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنی ایک ریلی میں اس کے لئے کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ نسیم خان اس پر اپنے ردعمل کا اظہار کررہے تھے۔

نسیم خان نے کہا مالیگاؤں بلاسٹ معاملہ این آئی اے کے پاس ہے اور این آئی کے مرکزی حکومت کے اختیار میں ہے۔مرکزمیں مودی حکومت کے آنے کے بعد سے ہی دھماکوں کے مجرمین کو بچانے کی کوششیں شروع ہوگئی تھیں اور اس کے لئے این آئی اے کے ذریعے سرکاری وکیل روہنی سالین پر دباؤ ڈالا گیا تھاکہ سادھوی پرگیہ سنگھ ودیگر مجرمین کی ضمانت کی وہ مخالفت نہ کریں۔ روہنی سالین نے باقاعدہ میڈیا میں اس تعلق سے بیان تک دیا تھا اور احتجاجا سرکاری وکیل کی ذمہ داری چھوڑدی تھی۔ نسیم خان نے کہا کہ مالیگاؤں بلاسٹ معاملے میں کل 495گواہان ہیں جن میں سے 220کی گواہی مکمل ہوچکی ہے اور ان میں سے صرف15/لوگ منحرف ہوئے ہیں جبکہ بقیہ 205گواہان اپنی گواہی پر قائم ہیں۔ یہ جو 15/گواہ منحرف ہوئے ہیں ان کا تعلق پونے شہر سے ہے جہاں کا کرنل پروہت رہنے والا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان گواہان کو منحرف ہونے کے لئے کون مجبور کررہا ہے اور صرف پونے کے ہی گواہان کیوں منحرف ہورہے ہیں؟

نسیم خا ن نے کہا کہ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ مالیگاؤں بلاسٹ کے گواہان کے منحرف ہونے کا معاملہ یوپی چناؤ کے موقع پر ہی کیوں آتا ہے؟ 2017میں بھی اسی طرح یوگی آدتیہ ناتھ وہندویواواہنی کے لیڈروں نے اس معاملے پر خوب شور مچایا تھا۔ مہاراشٹر کانگریس کے کارگزار صدر نسیم خان نے بی جے پی وآر ایس ایس کی سخت لفظوں میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جب بھی اورجہاں بھی چناؤ ہوتے ہیں یہ لوگ ہندو مسلم، ہندوستان پاکستان، شمشان وقبرستان جیسے موضوعات کو اٹھاکر اصل مدّوں اور بی جے پی حکومتوں کی ناکامی وجھوٹ سے عوام کی توجہ ہٹانے اور ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی مرکزی حکومت کی ایماء پر ہی گواہان منحرف ہورہے ہیں اور یہ بات پورا ملک جانتا ہے کہ مرکزی حکومت سینٹرایجنسیوں کا کس طرح غلط استعمال کرتی ہے۔ اس لئے بی جے پی کو اس معاملے میں بولنے کا کوئی حق ہی نہیں ہے۔

نسیم خان نے کہا کہ یوپی اور ملک کی عوام سنگھ اور بی جے پی کے منصوبوں اور ان کی چالوں کو بہت اچھی طرح سمجھ چکی ہے۔ مودی اور یوگی کے کاموں کو دیکھ چکی ہے۔ اس لئے اب وہ ان کے بہکاوے میں نہیں آنے والی ہے۔ آنے والے تمام انتخابات میں ملک کا ہندو اور مسلمان ایک ساتھ مل کر بی جے پی کی فرقہ پرستی اورجھوٹ کی بنیاد پر چلنے والی حکومتوں کو اکھاڑ پھینکیں گے۔ واضح ہوکہ 29ستمبر2008کو مالیگاؤں میں ہوئے بم دھماکوں میں 6لوگوں کی موت ہوئی تھی اور سو سے زائد لوگ زخمی ہوئے تھے۔ اس معاملے میں سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکور، لیفٹیننٹ کرنل پرسادپروہت، سدھاکر دیویدی، میجر رمیش اپادھیائے، اجئے راہیرکر او رسمیر کلکرنی وغیرہ ملزم بنائے گئے تھے جو آج ضمانت پر جیل سے باہر ہیں۔