- ۶ اضلاع کا نگراں وزیر صرف ایک، وزیر یا ’اسپائیڈر مین‘؟
-
سیلاب زدگان کے لیے ابھی تک کوئی حکومتی مدد نہیں،پنچنامہ بھی ٹھیک سے نہیں ہوا
ممبئی:شاہو، پھولے، امبیڈکر کی سرزمین والی ریاست کے وزیر اعلیٰ علانیہ کہہ رہے ہیں کہ وہ مودی وشاہ کے مرید ہو گئے ہیں۔دوسری جانب مہاراشٹر کی صنعتوں اور سرمایہ کاری کو گجرات بھیجا جا رہا ہے۔کیا مہاراشٹر کے دو وزراء مہاراشٹر کی صنعت کو گجرات کو دینے کے لیے وہاں گئے تھے؟ یہ سوال آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدرناناپٹولے نے کیا ہے۔
اس ضمن میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ناناپٹولے کہا کہ ریاست میں شندے وفڈنویس حکومت دہلی کے اشارے پر کام کر رہی ہے۔ شندے وفڈنویس دہلی میں بیٹھے اعلیٰ کمان سے پوچھے بغیر کوئی فیصلہ تک نہیں لے سکتے۔ یہ مہاراشٹر کی بدقسمتی ہے کہ اسے اپنے مفاد کا فیصلہ لینے کے لیے دہلی پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ناناپٹولے نے کہا کہ ہم شروع سے کہہ رہے ہیں کہ ریاست کی شندے وفڈنویس(ای ڈی) حکومت غیر آئینی ہے۔ پٹولے نے کہا کہ ایک طرف ملک کے عوام مہنگائی سے نبرد آزما ہیں، لیکن مرکزی حکومت اپنی ذمہ داری سے بھاگ رہی ہے۔ مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کہہ رہی ہیں کہ ریاستی حکومتوں کو مہنگائی کو کم کرنا چاہیے۔ ایسے میں دیکھنا یہ ہوگا کہ دہلی کے اشارے پر کام کرنے والی شندے فڈنویس حکومت ریاست میں مہنگائی کو کم کرنے کے لیے کیا قدم اٹھاتی ہے۔
پٹولے نے کہا کہ شندے۔ فڈنویس حکومت نے تین ماہ بعد نگراں وزراء کی تقرری کا اعلان کیا ہے۔اس ضمن میں سب سے چونکا نے والی بات یہ ہے کہ ۶/ اضلاع کے لیے صرف ایک نگراں وزیر کا تقرر کیا گیا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ وزراء ا سپائیڈر مین ہیں، جو بیک وقت چھ اضلاع کو سنبھال سکتے ہیں؟ کیا وہ ان تمام اضلاع کے ترقیاتی کاموں کے لیے درکار وقت دے پائیں گے؟ ریاستی حکومت کے اندر جاری تنازعے کا خمیازہ یہاں کے لوگوں کو بھگتنا پڑے گا۔ پٹولے نے کہا کہ حکومت پہلے ہی منظور شدہ ترقیاتی کاموں پر روک لگاچکی ہے۔ ریاست کے کئی اضلاع میں سڑکوں کی حالت کافی خراب ہے۔ سڑک پر گڑھے ہیں یا گڑھوں میں سڑک ہے، یہ معلوم ہی نہیں ہوپارہاہے۔ پٹولے نے کہا کہ میں نے ذاتی طور پر امراؤتی، اکولا سمیت ریاست کے کئی اضلاع کا دورہ کیا ہے۔ بارش سے کسانوں کے بھاری نقصان کے بعد بھی پنچنامے کا کام مکمل نہیں ہو سکا۔ سویابین، سبزیوں اور باغات کی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں لیکن کسانوں کو حکومت کی طرف سے ابھی تک کوئی مدد نہیں ملی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست کی ای ڈی حکومت کس قدرکسان مخالف ہے۔
بھارت جوڑو یاترا میں مہاراشٹر سے حصہ داری زیادہ ہوگی
نانا پٹولے نے کہا کہ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کی قیادت میں بھارت جوڑو پدیاترا کو عوام کا زبردست تعاون مل رہا ہے۔ اس پد یاترا میں مہاراشٹر کے ضلع سے بھی بڑی تعداد میں لوگ شرکت کریں گے اورمہاراشٹر کی حصہ داری زیادہ ہوگی۔ بائیں بازو کی جماعتوں، سماجی تنظیموں نے بھی اس مارچ کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ہم بی جے پی کے علاوہ دیگر جماعتوں کو بھی اس پد یاترا میں مدعو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پٹولے نے کہا کہ ہندوستان جوڑو یاترا کوئی سیاسی سفر نہیں ہے۔ اس یاترا کا مقصد تمام ذاتوں اور مذاہب کے لوگوں کو متحد کرکے ملک، جمہوریت اور آئین کو بچانا ہے۔ بھارت جوڑو یاترا سے ملک کا ماحول بدل رہا ہے اور سرسنگھ چالک موہن بھاگوت نے بھی مسجدوں ومدرسوں کا دورہ شروع کردیا ہے اوراماموں سے ملاقاتیں کرنے لگے ہیں۔ بابا رام دیو نے بھی اس یاترا کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ایک اچھی پہل ہے۔
پٹولے نے کہا کہ لوگ راہل گاندھی کی سادگی اور نرمی کو محسوس کر رہے ہیں، اس لیے ان کی حمایت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بہت سے بددماغ لوگ پد یاترا اور کانگریس پارٹی کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن وہ اس منصوبے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ اس یاترا سے خوفزدہ لوگ جان بوجھ کر کانگریس پارٹی اور اس کے کچھ لیڈروں کے بارے میں افواہیں پھیلا رہے ہیں۔ پٹولے نے یقین ظاہر کیا ہے کہ اس پدیاترا کو مہاراشٹر میں سب سے بڑا بنانے کے لیے بڑی تعداد میں لوگ شامل ہونگے۔