ایکناتھ شندے کے ذریعے ڈانس بار کے دفاع پر ہرش وردھن سپکال کی سخت تنقید
خود کو ’لاڈلی بہنوں کا بھائی‘ کہہ کر ووٹ مانگنے والے کس منہ سے’ڈانس بار‘ جیسی فرسودہ ثقافت کا دفاع کر رہے ہیں؟
ممبئی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے آج بی جے پی اتحاد کی حکومت اور خاص طور پر نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہاراشٹر میں جو حکومت برسرِ اقتدار ہے وہ ریاست پر ایک بدنما داغ ہے۔ صرف اقتدار میں رہنے کی ہوس میں ان لوگوں نے تمام اخلاقی اور سماجی حدود پار کر دی ہیں۔ سپکال نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ اور موجودہ نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے جس بے شرمی کے ساتھ وزیر مملکت برائے داخلہ یوگیش کدم کے ڈانس بار کا دفاع کیا ہے، وہ نہ صرف شرمناک ہے بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ یہ حکومت اخلاقی طور پر مکمل دیوالیہ ہو چکی ہے۔
ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ ممبئی کے کاندیولی علاقے میں ’ساولی‘ نامی جو ڈانس بار چل رہا تھا، وہ یوگیش کدم کی والدہ کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ اس ڈانس بار پر پولیس نے باقاعدہ چھاپہ مارا اور ایف آئی آر میں کئی اصولوں کی خلاف ورزی درج کی گئی۔ خود یوگیش کدم کے والد اور سابق وزیر رام داس کدم نے بھی اس ڈانس بار کو اپنی بہو کے نام پر ہونے کی بات تسلیم کی ہے۔ ایسے میں ایکناتھ شندے جیسے سینئر لیڈر کا اس ڈانس بار کا دفاع کرنا نہایت شرمناک ہے۔ سپکال نے سوال کیا کہ جو شخص ’ہندوتو‘ کے نام پر سیاست کرتا ہے، وہ یہ بتائے کہ لڑکیوں سے رقص کروانا کون سے ہندوتوا کا حصہ ہے؟ یہ کیسا ترقی کا ماڈل ہے اور کس کے لیے یہ ترقی ہے؟
سپکال نے کہا کہ ایکناتھ شندے نے یہ کہہ کر کہ ’جو کانگریس کے اشارے پر ناچتے ہیں، انہیں ڈانس بار پر بولنے کا حق نہیں‘، اپنی سچائی خود بیان کر دی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایکناتھ شندے خود بی جے پی کے اشاروں پر کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں۔ سپکال نے یاد دلایا کہ کانگریس اتحاد کی حکومت کے دوران وزیر اعلیٰ ولاس راؤ دیشمکھ کی قیادت میں اُس وقت کے وزیر داخلہ آر آر پاٹل نے ہی ریاست میں ڈانس بارز پر پابندی عائد کی تھی۔ اس لیے شندے کو کانگریس پر بولنے سے پہلے کم از کم تھوڑی سی تحقیق ضرور کرنی چاہیے تھی۔ہرش وردھن سپکال نے سوال کیا کہ جو لیڈر خود کو ’لاڈلی بہنوں کا بھائی‘ کہہ کر ووٹ مانگتے ہیں، وہ کس منہ سے ان ہی بہنوں کے گھروں کو برباد کرنے والی ’ڈانس بار‘ جیسی فرسودہ ثقافت کا دفاع کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یوگیش کدم جیسے وزیر کو فوری طور پر کابینہ سے برطرف کیا جانا چاہیے اور وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس کو بھی ایکناتھ شندے کے اس بیان پر وضاحت دینی چاہیے۔
MPCC Urdu News 28 July 25.docx