پی ایم مودی کے جلسے میں عوامی پیسوں کی بربادی، پنڈال پر 13 کروڑ روپے خرچ، زبردستی بھیڑ جمع کرنے کی کوشش: نانا پٹولے
ایوت محل کی عوام اس بار نریندر مودی کے جھانسے میں نہیں آئے گی
جرانگے کے خلاف ایس آئی ٹی جانچ کی آڑ میں بی جے پی کا ایکناتھ شندے پر نشانہ
ناندیڑ ضلع کے تین ارکان اسمبلی سمیت کانگریس کے تمام عہدیدار اور کارکنان پارٹی کے ساتھ ہیں
ممبئی: وزیر اعظم نریندر مودی کی ایوت محل جلسے کے لیے سرکاری مشینری کا جم کر غلط استعمال کیا گیا۔ آشا سیویکا خواتین اور سیلف ہیلپ گروپ کے ارکان کو زبردستی بسوں میں بٹھا کر میٹنگ میں لے جایا گیا۔ مودی کے جلسے کے لیے ودربھ ومراٹھواڑہ کے بسوں کے استعمال سے عوام کو پریشانی ہوئی ہے۔ مودی کی ریلی کے اخراجات بی جے پی کے بجائے سرکاری خزانے سے اٹھائے گئے ہیں۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے الزام لگایا ہے کہ مودی کے جلسے کے پنڈال پر صرف 12 کروڑ 73 لاکھ 33 ہزار 500 روپے خرچ ہوئے ہیں اور ہیلی پیڈ پر 3.5 کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ یہ عوام کے پیسے کا مکمل طور پر بربادی ہے۔
گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ سرکاری مشینری پر دباؤ ڈال کر خود ساختہ ’وشو گرو‘ نریندر مودی کی سیاسی جلسے کے لیے بھیڑ جمع کی گئی ۔ جلسے میں ہجوم جمع کرنے کے لیے مردوں اور عورتوں کو زبردستی بسوں میں یرغمال بناکر لایا گیا۔ گاڑیوں میں گنجائش سے زیادہ لوگ لائے گئے ہیں۔ آر ٹی او کو اس کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے لیکن چونکہ معاملہ حکومت کا ہے توپھر بھلا کارروائی کی ہمت کون کرے گا؟سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بی جے پی کے لیے قانون الگ ہے؟نانا پٹولے نے کہا کہ لوگ نریندر مودی اور بی جے پی سے تنگ آچکے ہیں۔ مودی کی میٹنگ میں کرسی پر راہل گاندھی کا پوسٹر لگا کر عوام نے صحیح پیغام دیا ہے۔
ناناپٹولے نے کہا کہ 2014 کے انتخابات کے دوران نریندر مودی نے کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے، زرعی پیداوار کی مناسب قیمت دینے، سوامی ناتھن رپورٹ کو نافذ کرنے اور کسانوں کے قرض معافی سمیت کئی وعدے کیے تھے۔ لیکن جب وہ اقتدار میں آئے تو سب کچھ بھول گئے اور کسانوں کو دھوکہ دیا کیونکہ مودی کی گارنٹی ایک انتخابی جملہ تھا۔ ایوت محل سنتوں کی سرزمین ہے، نریندر مودی نے سنتوں کی سرزمین پر جھوٹ بولا ہے۔ اب ایوت محل کے عوام اور کسان مودی کے جھانسے میں نہیں آئیں گے۔ نریندر مودی نے کسانوں کی توہین کی ہے، اب یہ کسان بی جے پی کو ان کی حیثیت بتائیں گے۔
جرانگے پاٹل کےبہانے ایکناتھ شندے پر بی جے پی کا نشانہ!
کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ سیٹوں کی تقسیم کو لے کر مہایو تی میں زبردست عدم اطمینان اور کنفیوژن ہے۔ اب ان کے درمیان اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ بی جے پی نے منوج جرانگے پاٹل کی تحریک کی ایس آئی ٹی جانچ کا حکم دے کر وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کو نشانہ بنایا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے انتروالی سراٹی جا کر جرانگے پاٹل سے ملاقات کی تھی جس کے بعد نئی ممبئی میں جرانگے کی بھوک ہڑتال ٹوٹی۔ وزیر اعلیٰ کا ایک او ایس ڈی جرانگے سے مسلسل رابطے میں تھا۔ نانا پٹولے نے کہا کہ جرانگے پاٹل صرف ایک بہانہ ہے۔ بی جے پی کے نشانے پر صرف وزیر اعلی ایکناتھ شندے ہیں۔
ناندیڑ ضلع کےارکان اسمبلی سمیت تمام عہدیدار اور کارکنان کانگریس کے ساتھ ہیں
نانا پٹولے نے کہا کہ ناندیڑ ضلع میں کانگریس پارٹی کی تنظیم مضبوط ہے۔ اگرچہ کچھ لوگوں نے خوف کی وجہ سے پارٹی چھوڑ دی ہے لیکن کارکن اور عوام کانگریس کے ساتھ ہیں۔ ناندیڑ ضلع کے تینوں ایم ایل اے مادھو راؤ پاٹل، موہن راؤ ہمبردے، جیتیش انتا پورکر، ضلع کانگریس صدر، سٹی صدر اور عہدیدار سبھی کانگریس پارٹی کے ساتھ ہیں۔ پٹولے نے یقین ظاہر کیا ہے کہ ناندیڑ ضلع کانگریس لوک سبھا انتخابات میں ایک قابل امیدوار کھڑا کرے گی اور ہم وہاں جیتیں گے۔
اس پریس کانفرنس میں راجیہ سبھا کے رکن چندرکانت ہنڈورے، سابق وزیر انل پٹیل، اقلیتی محکمہ کے ریاستی صدر اور ایم ایل اے وجاہت مرزا، ایم ایل اے مادھو راؤ پاٹل جلگاؤنکر، موہن راؤ ہمبرڈے، جیتیش انتاپورکر، ریاستی کانگریس کے چیف ترجمان اتل لونڈھے، ڈاکٹر راجو واگھمارے، ناندیڑ ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر گووند راؤ شندے ناگیلیکر، سابق میئر عبدالستار، سینئر لیڈر بی آر کدم، کیدار پاٹل سالونکھے سمیت ناندیڑ شہر اور ضلع کے کانگریس عہدیدارو کارکنان موجود تھے۔