آئین بدل کر منو سمرتی نافذ کرنے کا آر ایس ایس اور بی جے پی کا ایجنڈا آج بھی جاری ہے: ہرش وردھن سپکال
آئین کی بقا اور جمہوریت کی سالمیت کے لیے ہر با شعور شہری کو اپنی ذمہ داری سمجھنی چاہیے
ممبئی: 27 جون 2025
مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کو ابتدا سے ہی بھارت کا آئین قبول نہیں ہے۔ ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے ذریعہ تیار کردہ آئین کو بدل کر اس کی جگہ منوسمرتی نافذ کرنے کا ان کا جو پوشیدہ ایجنڈا ہے، وہ اب چھپا ہوا نہیں رہا۔ آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسبولے کے حالیہ بیان نے ایک بار پھر یہ ایجنڈا بے نقاب کر دیا ہے، جس میں انہوں نے آئین کی دیباچہ سے ’سیکولر‘ اور ’سوشلسٹ‘ جیسے الفاظ کو نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ہرش وردھن سپکال نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ آر ایس ایس کا مقصد ہمیشہ سے ہندوستان کو ’ہندو راشٹر‘ بنانا رہا ہے اور یہ مقصد بی جے پی اور سنگھ سے وابستہ تمام قائدین کے بیانات سے وقتاً فوقتاً واضح ہوتا رہا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران بی جے پی کے کئی رہنماؤں نے کھلے عام کہا تھا کہ اگر پارٹی کو 400 سیٹیں مل گئیں تو وہ آئین میں تبدیلی کرے گی۔ اس کے علاوہ خود آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ آئین کا از سرِ نو جائزہ لیا جانا چاہیے۔ یہی نہیں وزیر اعظم نریندر مودی کے اقتصادی مشیر رہ چکے ویویک دیبرائے بھی آئین میں ترمیم کی حمایت کر چکے ہیں۔ سپکال کے مطابق یہ سب بیانات کسی اتفاقی رائے یا انفرادی رائے نہیں بلکہ ایک طویل المیعاد منصوبے کا حصہ ہیں، جس کا مقصد آئین کو کمزور کرنا اور ہندو راشٹر کی بنیاد رکھنا ہے۔
کانگریس کے ریاستی صدر نے نشاندہی کی کہ صرف سات ماہ قبل سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں صاف طور پر کہا تھا کہ ’سیکولرازم‘ اور ’سوشلسٹ‘ نظریات ہندوستانی آئین کی روح ہیں۔ اس کے باوجود آر ایس ایس اور بی جے پی سے وابستہ لوگ مسلسل ایسے بیانات دے رہے ہیں جن سے عوام میں غلط فہمیاں پیدا ہو رہی ہیں اور آئینی اقدار کمزور ہو رہا ہے۔ سپکال کے مطابق یہ سرگرمیاں صرف اظہارِ رائے نہیں بلکہ ایک منظم سازش کا حصہ ہیں، جس کا مقصد ملک کی بنیادی شناخت ’تنوع میں اتحاد‘ کو مٹانا ہے۔
سپکال نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے ایجنڈے میں ’ہندو، ہندی، ہندوراشٹر‘ جیسے نعرے مرکزی حیثیت رکھتے ہیں، جو ملک کے تکثیری سماج اور جمہوری نظام کے سراسر خلاف ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کو آئین اور قومی پرچم جیسے آئینی ادارے قبول نہیں ہیں، اسی لیے وہ بار بار ان کے تقدس کو مجروح کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سپکال نے ملک کے عوام سے اپیل کی کہ وہ ان کوششوں کو پہچانیں اور ان کے خلاف متحد ہو کر جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے لیے ہمیشہ تیار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی بقا اور جمہوریت کی سالمیت کے لیے ہر با شعور شہری کو اپنی ذمہ داری سمجھنی چاہیے اور ان طاقتوں کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے جو ملک کو ایک خاص نظریے کے تابع کرنا چاہتے ہیں۔
MPCC Urdu News 27 June 25.docx