فون ٹیپنگ معاملے میں اس وقت کے وزیر داخلہ دیویندر فڈنویس کے رول کی جانچ ہونی چاہئے: ناناپٹولے

ریاستی حکومت کی سرپرستی کے بغیر فون ٹیپنگ ناممکن

ممبئی:فون ٹیپنگ معاملے میں سینئر پولیس افسر رشمی شکلا کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس معاملے کی جڑ تک پہنچنا ضروری ہے۔ یہ مطالبہ ریاستی کانگریس کے صدر نانا پٹولے نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ فون ٹیپنگ کے لیے ہوم سیکرٹری کی اجازت لازمی ہے۔

ایسے میں یہ واضح ہے کہ حکومت کے کسی سنیئر کے آشیرواد کے بغیر رشمی شکلا کی فون ٹیپنگ کی ہمت کرنا ناممکن ہے۔ پٹولے نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے میں اس وقت کے وزیر داخلہ کے طور پر خدمات انجام دینے والے دیویندر فڈنویس کے رول کی بھی جانچ ہونی چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس وقت کے وزیر داخلہ بھی غیر قانونی فون ٹیپنگ میں ملوث تھے۔

اس ضمن میں بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ 2017-18 میں ریاست میں دیویندر فڈنویس کی قیادت والی بی جے پی کی حکومت کے دوران میرے علاوہ شیوسینا، این سی پی سمیت کئی وزراء، لیڈروں، آئی اے ایس، آئی پی ایس افسران کے فون غیر قانونی طور پر ٹیپ کیے گئے تھے۔ منشیات فروشوں کو پکڑنے کی آڑ میں میرا نام امجد خان کہہ کر فون ٹیپ کیا گیا اور بچو کڈو کا فون نظام الدین بابو شیخ کے نام سے ٹیپ کیا گیا۔ میں نے اسمبلی میں فون ٹیپنگ کا معاملہ بھی اٹھایا تھا اور اعلیٰ سطحی انکوائری کا مطالبہ کیا تھا۔ وزیر داخلہ دلیپ والسے پاٹل نے کہا ہے کہ تحقیقات میں رشمی شکلا کے قصوروار پائے جانے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

پٹولے نے کہا کہ دہشت گردانہ سرگرمیوں، منشیات کی سمگلنگ جیسے سنگین معاملات کی تفتیش کے لیے خصوصی اجازت کے ساتھ فون ٹیپنگ کی جاتی ہے لیکن ہمارا منشیات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کے باوجود میرا فون ٹیپ ہو گیا۔ فون ٹیپ کرکے کسی پر نظر رکھنا جرم اور ذاتی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔ یہ بات سامنے آئی ہے کہ مرکز کی مودی حکومت پیگاسس کے ذریعہ اسی طرح وزراء، سیاسی قائدین، عدلیہ اور صحافیوں کی جاسوسی کرتی رہی ہے۔ اس پورے معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے۔پٹولے نے کہا کہ اگرچہ رشمی شکلا کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن انہوں نے فون ٹیپنگ کا ریکارڈ کس کو دیا؟ فون ٹیپ کرنے کا اصل مقصد کیا تھا؟ رشمی شکلا کو فون ٹیپ کرنے کا حکم کس نے دیا؟ ایسے بہت سے سوالات کے جوابات تلاش کرنا بہت ضروری ہے۔ پٹولے نے ریاستی حکومت پر زور دیا ہے کہ فون ٹیپنگ کیس کی تحقیقات میں تیزی لائی جائے اور اس کیس کے اصل ماسٹر مائنڈ کا پتہ لگایا جائے اور اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے.

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading