ریاست کے کسان،بیروزگار نوجوان پریشان اور شندے سرکار گھومنے میں مصروف ہے
ممبئی:وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اور ان کے ساتھی پرتعیش سہولیات کے ساتھ گوہاٹی میں کامکھیا مندر کے درشن کرنے گئے ہیں۔ایک جانب ریاست کے کسان اور بیروزگارنوجوان حکومت کی جانب امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں تو دوسری جانب شندے سرکار اپنی حکومت بچانے کے لیے مندروں کے درشن کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ ترقی پسند مہاراشٹر کے لیے انتہائی افسوسناک ہے۔یہ باتیں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے ترجمان اتل لونڈھے نے کہی ہیں۔
وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اور ان کے ساتھیوں کی گوہاٹی سیاحت پر تنقید کرتے ہوئے اتل لونڈھے نے مزید کہا کہ ریاست میں صورتحال سنگین ہے، شدید بارشوں سے تباہ ہونے والے کسانوں کو معاوضہ نہیں مل رہا ہے، نوکریوں کے انتظار میں بیٹھے نوجوانوں کے لیے نوکری بھرتی نہیں کی جارہی ہے،عام آدمی مہنگائی کا شکار ہے، ریاست میں پروجیکٹس ریاست کے باہر بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں جارہے ہیں جبکہ دوسری جانب پڑوسی ریاست کرناٹک شولاپور، اکلکوٹ سمیت جت تعلقہ کے 40گاؤں پر اپنا حق جتارہی ہے۔ایسی صورت میں جبکہ مہاراشٹر کے سامنے مسائل کے پہاڑ کھڑے ہیں وزیراعلیٰ وان کے ساتھی سرکاری پیسے پر مندروں کی زیارت کرنے خصوصی سہولیات کے ساتھ سیاحت کررہے ہیں۔ یہ لوگوں میں زبردست ناراضگی پیدا کرنے والی حرکت ہے۔
اتل لونڈھے نے کہا کہ مہاوکاس اگھاڑی حکومت گرانے کے لیے انہوں نے سورت، گوہاٹی، گوا کا سفر کیا اور 50 کروڑ روپئے کے بدلے مہاراشٹر کے لوگوں کو دھوکہ دیا۔اگر 50کھوکے سب کچھ اوکے کہاجاتاہے لیکن ریاست میں سب کچھ اوکے نہیں ہے۔ مہاراشٹر میں آپ کے اپنے ایم ایل ایز کے درمیان 50 کروڑپر ہونے والے تنازعے کو پوری ریاست نے دیکھا ہے۔ کبھی گنیش اتسو منڈلوں کا دورہ کرنے میں مصروف اور کبھی نوراتری تہوار میں مصروف وزیر اعلیٰ کے پاس نجومیوں کواپنا ہاتھ دکھانے کا وقت ہے کہ حکومت بچے گی یا نہیں لیکن عوام کے سوالوں کے لیے وقت نہیں ہے۔ آپ مندروں کے درشن کریں، نجومیوں کو ہاتھ دکھائیں لیکن یہ یاد رکھیں کہ اس غیر آئینی حکومت کا مستقبل عدالت کے ہاتھ میں ہے اور وہاں کوئی منت یا نجومیوں کی پیشین گوئی کام نہیں آئے گی۔