MPCC Urdu News 26 Feb 24

اگر ہمت ہو تو وزیر اعلیٰ و جرانگے پاٹل کے درمیان کیا بات چیت ہوئی وہ عوام کے سامنے ظاہر کریں: ناناپٹولے

مراٹھا ریزرویشن سب کمیٹی میں ایکناتھ شندے و اشوک چوہان تھے تو پھردوسرں پر الزام کیوں؟

ممبئی:شندے فڈنویس پوار حکومت نے مراٹھا ریزرویشن کے معاملے پر دھوکہ دیا ہے۔ انہوں نے ریزرویشن کے نام پر مہاراشٹر کو تشدد کی آگ میں جھونکنے کا گناہ کیا ہے۔ چھترپتی شیواجی مہاراج، شاہو، پھلے، امبیڈکر کی نظریات کو تباہ کردیا گیا ہے۔یہ کہتے ہوئے کہ کسی بھی طبقے کے ریزرویشن میںدخل دیئے بغیر کنبی ذات سرٹیفکیٹ کے ذریعے اوبی سی رزرویشن سےچھیڑ چھاڑ کی گئی۔ آخر مہاراشٹر میں چل کیا رہا ہے؟یہ حکومت کو واضح کرنا چاہئے اور اگر ہمت ہے تو وزیر اعلیٰ اور جرانگے پاٹل کے درمیان کیا بات چیت ہوئی اسے عوام کے سامنے ظاہر کریں۔ یہ مطالبہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کیا ہے۔

اسمبلی سیشن کے پہلے ہی دن کانگریس کے ریاستی صدر نے نانا پٹولے نے کہا کہ حکومت میں شامل لوگ الزام لگا رہے ہیں کہ ایم وی اے حکومت نے مراٹھا ریزرویشن برقرار نہیں رکھا، لیکن ایم وی اے کے دور میں مراٹھا ریزرویشن سب کمیٹی میں ایکناتھ شندے و اشوک چوہان تھے۔ اجیت پوار بھی اس وقت اقتدرامیں شامل تھے۔ اگر ایم وی اے حکومت مراٹھا ریزرویشن برقرار نہیں رکھ سکی تو کیا یہ لوگ اس کے ذمہ دار نہیں ہیں؟ آج وہی ایک دوسرے کی گود میں بیٹھے ہیں اور الزام ایم وی اےحکومت پر لگا رہے ہیں۔ نانا پٹولے نے کہا کہ اس وقت کے ایڈوکیٹ جنرل اشتوش کمبھ کونی نے کہا تھا کہ ’’ دیویندر فڈنویس نے ان سے کہا تھا کہ مراٹھوں کی حمایت کا موقف اختیار نہ کریں۔ اس لیے اصل دھوکہ باز کون ہے؟ یہ عوام کے سامنے آچکا ہے۔ اب الزام در الزام اور اشتہاربازی بند کیجئے، عوام کے پیسوں کا ضیاع بند کیجئے اور شاہو، پھلے، امبیڈکر کے نظریات کو سبوتاژ کرنے کی جو سازش رچی گئی اس کی وضاحت کیجئے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بتائے کہ سچائی کیا ہے۔

نانا پٹولے نے کہا کہ انتراولی سراٹی میں ہلکی لاٹھی چارج کا حکم فڈنویس نے دیا تھا اور اس بات کا انہوں نے اعتراف کیا ہے۔ لیکن جرانگے پاٹل پر لاٹھی چارج کرنے کی وجہ کیا تھی؟ جرانگے پاٹل سے آخر کیا بات چیت ہوئی تھی؟ انہیں بھوک ہڑتال پر کس نےبٹھایا تھا؟ یہ سب وزیر وزیر اعلیٰ کو عوام کے سامنے ظاہر کرنا چاہئے۔ یہ ہمارا سوال ہے اور اس کا جواب دینا وزیر اعلیٰ کی ذمہ داری ہے۔ مہاراشٹر میں آگ لگنے پر حکومت کیوں خاموش تھی؟ وزیر اعلیٰ ایک بار ایوان میں بتائیں کہ حکومت اس میں کتنی ملوث ہے۔ یہ حکومت کا پولیس پر دباؤ ہے، پسماندہ طبقات کمیشن پر دباؤ تھا، اسی دباؤ کی وجہ سے کمیشن کے چیئرمین سمیت کئی اراکین نے استعفیٰ دیدایا۔ یہ دراصل جھوٹی رپورٹ کی بنیاد پر الیکشن میں فائدہ اٹھانے کی کوشش ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading