کانگریس کے نڈر و بیباک لیڈراور ناندیڑ سے رکن پارلیمنٹ وسنت راؤ چوہان کا انتقال
ملکارجن کھڑگے، نانا پٹولے، بالا صاحب تھورات اور رمیش چنیتھلا کی اظہار تعزیت
نئی دہلی/ممبئی، 26 اگست: کانگریس کے سینئر رہنما اور ناندیڑ لوک سبھا حلقے کے رکن پارلیمنٹ وسنت راؤ چوہان کے انتقال سے کانگریس پارٹی نے ایک نڈر، مخلص اور عوام کے لیے لڑنے والے رہنما کو کھو دیا ہے۔ کانگریس کے اعلیٰ قائدین نے ان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وسنت راؤ چوہان ایک ایسے لیڈر تھے جو انتہائی مشکل حالات میں بھی کانگریس کے ساتھ کھڑے رہے اور عوام کے حقوق کی جنگ لڑتے رہے۔
کانگریس پارٹی کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے وسنت راؤ چوہان کے انتقال پر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وسنت راؤ چوہان کے انتقال سے ہم نے ایک وفادار اور نڈر لیڈر اور بہترین عوامی نمائندے کو کھو دیا ہے۔ وہ انتہائی مشکل حالات میں بھی پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے اور ناندیڑ لوک سبھا حلقے سے عوامی حمایت سے جیت حاصل کی۔ ملکارجن کھڑگے نے مزید کہا کہ وسنت راؤ چوہان نے گاؤں کے سرپنچ سے لے کر لوک سبھا کے رکن تک کا سفر طے کیا اور ہمیشہ عوام کے مسائل حل کرنے میں پیش پیش رہے۔
کانگریس کے مہاراشٹر انچارج رمیش چنیتھلا نے وسنت چوہان کے انتقال پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وسنت راؤ چوہان کا انتقال کانگریس پارٹی کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ انہوں نے ہمیشہ عوامی مسائل کو سمجھا اور انہیں حل کرنے کے لیے اپنی پوری توانائی صرف کی۔ وہ ایک مخلص، نڈر اور بیباک لیڈر تھے جنہوں نے اپنے آخری سانس تک کانگریس پارٹی کے ساتھ وفاداری نبھائی۔ ان کی قیادت میں ناندیڑ حلقے نے کانگریس پارٹی کو مضبوطی سے قائم رکھا۔
کانگریس پارٹی کے مہاراشٹر ریاستی صدر نانا پٹولے نے بھی وسنت چوہان کے انتقال پر گہرے رنج کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وسنت راؤ چوہان کا انتقال انتہائی دکھ اور افسوس کا باعث ہے۔ انہوں نے مشکل حالات میں بھی کانگریس کے نظریات کو عوام تک پہنچایا اور آخری وقت تک کانگریس کے اصولوں پر قائم رہے۔ ان کے انتقال سے ایک تجربہ کار عوامی نمائندہ اور کانگریس کے نظریات کا وفادار پیروکار ہم سے جدا ہو گیا ہے۔
کانگریس کی قانون ساز پارٹی کے لیڈر اور کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن بالا صاحب تھورات نے بھی وسنت چوہان کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وسنت چوہان کا انتقال کانگریس کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ہے۔ انہوں نے گاؤں کے سرپنچ سے لے کر لوک سبھا کے رکن تک کا سفر طے کیا اور ناندیڑ میں پارٹی کو مضبوطی سے کھڑا رکھا۔ وہ ایک نڈر لیڈر تھے جنہوں نے مشکل وقت میں بھی کانگریس کا علم بلند رکھا اور عوام کے حقوق کے لیے لڑتے رہے۔ ان کی موت سے ہم ایک قابل اور بہادر ساتھی سے محروم ہو گئے ہیں۔
کانگریس کے ان تمام قائدین نے وسنت راؤ چوہان کے خاندان کے ساتھ اس دکھ کی گھڑی میں ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
مہاراشٹر میں لا اینڈ آرڈ کی صورت حال قابل رحم، پولیس پر بھی ہو رہے ہیں حملے: نانا پٹولے
یونیفائیڈ پینشن اسکیم کے ذریعے سرکاری ملازمین کے زخموں پر نمک پاشی، پرانی پینشن اسکیم فوری نافذ کی جائے
ممبئی: مہاراشٹر میں لا اینڈ آرڈر کی حالت انتہائی قابل رحم ہو چکی ہے۔ غیر آئینی شندے-فڈنویس- پوار حکومت کے دور میں غنڈوں کی ہمتیں بڑھ گئی ہیں کیونکہ انہیں حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے۔ نہ صرف عوام بلکہ پولیس اہلکار بھی اب غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ حال ہی میں ممبئی کے ماہم پولیس کالونی میں ایک ہی وقت میں 13 پولیس اہلکاروں کے گھروں پر ڈاکہ ڈالا گیا اور پونے میں ایک پولیس سب انسپکٹر پر چاقو سے حملہ ہوا۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت کی پشت پناہی سے غنڈوں کی اتنی ہمت بڑھ گئی ہے کہ اب وہ پولیس پر بھی حملہ کرنے لگے ہیں۔
تلک بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ بی جے پی کی قیادت والی مہایوتی حکومت نے محکمہ پولیس کو بے حد کمزور بنا دیا ہے۔ اس حکومت کے دور میں غنڈوں کو سرکاری پشت پناہی ملی ہوئی ہے۔ کچھ غنڈے تو وزیر اعلیٰ کے ساتھ ہی نظر آتے ہیں اور کچھ کو تو وائی پلس سیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے جبکہ کچھ کو علاج کے نام پر فائیو اسٹار سہولیات دی جاتی ہیں۔ حکومت کی پشت پناہی کی بدولت ہی یہ غنڈے اب پولیس پر حملہ کرنے کی ہمت کر نے لگے ہیں۔ اس حکومت میں نہ صرف عوام غیر محفوظ ہیں بلکہ پولیس اہلکار بھی خطرے میں ہیں۔ حکومت کی بے شرمی کی انتہا ہے کہ وہ عوام کو بے یار و مددگار چھوڑ کر انہیں ہر طرف سے لوٹنے میں لگی ہوئی ہے۔
نانا پٹولے نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے جلگاؤں کے حالیہ پروگرام میں بھی حقیقت سے پرے باتیں کیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے شکتی قانون بنایا گیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ قانون گزشتہ دو سال سے صدر جمہوریہ کے پاس منظوری کے لیے پڑا ہوا ہے اور اب تک اسے منظور نہیں کیا گیا۔ اس کے باوجود وزیر اعظم خواتین کی حفاظت کے جھوٹے دعوے کر رہے ہیں۔ اسی پروگرام میں وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے کسانوں کے متعلق بات کی لیکن وزیر اعظم مودی نے اپنے خطاب میں کسانوں کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں بولا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعلیٰ کی باتوں کی وزیر اعظم کے سامنے کوئی اہمیت نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ نے بہت کوشش کی لیکن ان کی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ جو بی جے پی کسانوں کو دہشت گرد، نکسلی، اور احتجاجی کہتی ہے، اسے کسانوں کی کوئی فکر نہیں۔ ‘لکھ پتی دیدی’ جیسی اسکیمیں صرف فریب ہیں۔ ایک لاکھ روپے کا قرض پہلے سے دستیاب تھا، جسے پانچ لاکھ کیا گیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی بے شمار شرائط لگا دی گئی ہیں۔ اس طرح ان اسکیموں کا فائدہ ہونے کے بجائے نقصان ہوگا۔
مرکزی حکومت نے یونیفائیڈ پینشن اسکیم نافذ کی ہے اور اسی طرح ریاست میں بھی اس اسکیم کو نافذ کرنے کا فیصلہ شندے حکومت نے کیا ہے۔ اس اسکیم میں ملازمین کی رقم کو کاٹ کر انہیں دیا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ پرانی پینشن سکیم کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے لیکن حکومت اسے نظر انداز کر رہی ہے۔ یونیفائیڈ پینشن اسکیم سرکاری ملازمین کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے اور اس کے نتیجے میں سرکاری ملازمین کے درمیان شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔
پٹولے نے کہا کہ حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ ممبئی-گوا ہائی وے کا کام جلد مکمل کیا جائے گا لیکن چھ ماہ گزر جانے کے باوجود ابھی تک اس ہائی وے کا کام مکمل نہیں ہوا ہے۔ یہ ہائی وے ٹھیکیداروں کے لیے بنایا جا رہا ہے نہ کہ کوکن کے لوگوں کے لیے۔ حکومت ٹھیکیداروں کو پیسے دینے کے لیے یہ پروجیکٹ تاخیر سے کر رہی ہے۔ پٹولے نے کہا کہ یہ حکومت عوام کی خدمت کے بجائے ٹھیکیداروں کے مفادات کا تحفظ کر رہی ہے۔
مہاراشٹر پولیوشن کنٹرول بورڈ کے چیئرمین سدھیش کدم نے حال ہی میں چاکن کے علاقے میں مرسیڈیز بینز کے پلانٹ کا اچانک دورہ کیا اور کمپنی پر ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔ سوال یہ ہے کہ کدم کی اس اچانک دورے کے پیچھے کوئی اور مقصد تھا یا یہ دورہ اصولوں کے مطابق تھا؟ نانا پٹولے نے کہا کہ ریاست سے صنعتیں باہر جا رہی ہیں، بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور اگر مرسیڈیز جیسی کمپنیاں ریاست سے نکل گئیں تو بڑا نقصان ہوگا۔ پٹولے نے سوال کیا کہ یہ دورہ تھا یا چھاپا؟ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں پونہ کے نگراں وزیر اجیت پوار کیا کر رہے ہیں؟
