-
بی جے پی کی ملک میں ایک بار پھرزمیندارانہ نظام لانے کی کوشش: ایچ کے پاٹل
-
زرعی قانون کی منسوخی تک مرکزی حکومت کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی
-
سیاہ قانون کے خلاف ریاست بھر میں احتجاج کریں گے: بالاصاحب تھورات
-
مرکزی حکومت نے کسانوں اورمزدوروں کے وجود پر سوالیہ نشان لگادیا ہے: اشوک چوہان
ممبئی: مرکز کی نریندرمودی حکومت بڑے صنعتکاروں کے دباؤ میں ہے اورکچھ صنعتکاروں کے مفاد کے لیے حکومت کسانوں وصنعت کاروں کو تباہ کردینے والا قانون لے آئی ہے۔ اس قانون کے ذریعے بی جے پی ملک میں ایک بار پھرزمیندارانہ نظام لانے کی کوشش کررہی ہے۔ یہ کسان مخالف قانون جب تک منسوخ نہیں ہوجاتا کانگریس کے کارکنان گاؤں گاؤں جاکر کسانوں کے ساتھ مل کر احتجاج کریں گے۔ یہ اعلان آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے نگرا ں ایچ کے پاٹل نے کیا ہے۔
مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے نئے نگراں ایچ کے پاٹل آج مہاراشٹر کے پہلے دورے پر تھے۔ کانگریس کے ریاستی دفتر واقع تلک بھون میں کانگریس کے ریاستی صدر بالاصاحب تھورات، تعمیرات عامہ کے وزیر اشوک چوہان، سابق وزیراعلیٰ پرتھوی راج چوہان، آدیواسی بہبود وزیر کے سی پاڈوی، امداد وبازآبادکاری کے وزیر وجیے ویڈیٹی وار، طبی تعلیم کے وزیر امیت دیشمکھ، ریاستی وزیر برائے داخلہ ستیج پاٹل(بنٹی)، ریاستی کانگریس کے ورکنگ صدر مظفر حسین سمیت کانگریس کے دیگر عہدیداران وکارکنان نے ان کا استقبال کیا۔
اس موقع پر تلک بھون میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایچ کے پاٹل نے مرکزی حکومت کی کسان مخالف پالیسی پرسخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے سنگین بحران کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مرکزی حکومت نے جلدبازی میں رزعی بال پاس کرکے جمہوریت اور پارلیمنٹ کے تمام اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے اور کسانوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ اس بل سے زراعت اور کسان مکمل طور پرتباہ ہوجائیں گے۔ کرشی اتپن بازار سمیتیوں کے خاتمے کے ساتھ کاشتکاروں کو اپنی پیداوارکھلے بازار میں فروخت کرنا پڑے گا۔ نئے قانون میں مینیمم سپورٹ پرائز کی لازمیت نہیں ہے اس لیے کاروباری وصنعت کاروں کے ذریعے کاشتکاروں کا بڑے پیمانے پر لوٹ کھسوٹ ہوگا۔ کنٹریکٹ فارمنگ کی آڑ میں صنعتکار چھوٹے واوسط طبقے کے کسانوں کوختم کردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت وبازار ریاستوں کے دائرہ اختیار میں ہونے کے باوجوود انہیں اعتماد میں نہ لیتے ہوئے مودی حکومت نے یہ قانون بنایا ہے۔ بازار سمیتوں کے وجود پرخطرہ آجانے سے ان بازار سمیتیوں میں کام کرنے والے لاکھوں مزدور بیروزگار ہوجائیں گے۔
پاٹل نے مزید کہا کہ بی جے پی کے لیڈران اس قانون کے تعلق سے عوام میں یہ جھوٹ پھیلارہے ہیں کہ کانگریس نے 2019کے اپنے انتخابی منشور میں عوام سے جو وعدہ کیا تھا، اسی کی بنیاد پر یہ قانون بنایا گیا ہے۔ بی جے پی کے لوگ اس تعلق سے عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔ جبکہ سچائی یہ ہے کہ کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں ’نیائے‘ اسکیم کا وعدہ کیا تھا۔ اس اسکیم کے تحت ملک کے غریبوں جن میں بڑی تعداد میں غریب کسان شامل ہیں، انہیں سالانہ 72ہزار روپیے نقد دینے کا وعدہ تھا۔ ’منریگا‘ میں 100دن کے بجائے 150 دن کام کی ضمانت کا وعدہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کسانوں کو مضبوط سہارا دینے والی پارٹی ہے، یہ انہیں بے سہارا چھوڑ کر صنعتکاروں کا غلام بنانے والی پارٹی نہیں ہے۔
کسان مخالف سیاہ قانون کے خلاف ریاست بھر میں احتجاج کریں گے: بالاصاحب تھورات
اس پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی کانگریس کے صدر ووزیرمحصول بالاصاحب تھورات نے نے کہا کہ مرکزی کی حکومت کسان ومزدور مخالف حکومت ہے۔ بی جے پی کی حکومت نے کسان مخالف تین قانون پارلیمنٹ میں منظور کیا ہے۔ اس نئے سیاہ قانون کی وجہ سے زراعت وکاشتکار مکمل طورپرتباہ ہوجائیں گے۔ اس سیاہ قانون کے خلاف مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی ریاست گیر احتجاج کرے گی۔
مرکزی حکومت نے کسانوں ومزدوروں کے وجود پر سوالیہ نشان لگادیا ہے: اشوک چوہان
وزیربرائے تعمیرات عامہ اشوک چوہان نے کہا کہ مرکزکی بی جے پی حکومت کسان ومزدور مخالف ہے۔ اقتدار میں آنے کے بعدسے اس حکومت نے کسانوں کو مسلسل گمراہ کیا ہے اور تین زرعی بل منظور کرتے ہوئے اس حکومت نے کسانوں ومزدوروں کے وجود پر سوالیہ نشان لگادیا ہے۔ مزدور قانون میں نئی تبدیلیوں کی وجہ سے مزدور بھی تباہی کے دہانے پر پہونچ جائیں گے۔ مودی حکومت اس قانون کو فائدہ مند بتانے کے لیے اشتہاربازی کرتے ہوئے عوام کوگمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ان قوانین کا فائدہ عوام کو بتانے کے لیے حکومت نے دلیر مہندی وکنگنا راناوت کا انتخاب کیا ہے، اس کے لیے انہیں ایک بھی ماہرزراعت نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کسانوں کے ساتھ ہے اور اس قانون کے خلاف مضبوط جدوجہد کرے گی۔
26 ستمبرکو#SpeakUpForFarmers آن لائن مہم
26ستمبر کو #SpeakUpForFarmers نامی آن لائن مہم چلائی جائے گی جس کے تحت کانگریس پارٹی کے تمام عہدیداران وکارکنان مذکورہ کسان مخالف قانون کوواپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس تعلق سے ویڈیو، فوٹواور میسیج سوشل میڈیا یعنی کہ فیس بک، ٹوئیٹر، انسٹاگرام ویوٹیوب پر پوسٹ کریں گے۔ جبکہ 28ستمبر کو ریاست کے کانگریس کے لیڈران،وزراء وممبران اسمبلی گورنر سے ملاقات کرتے ہوئے اس سیاہ قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کریں گے اور میمورنڈم دیں گے۔
2اکتوبر 2020کو کسان مزدور بچاؤ دن
مہاتما گاندھی وسابق وزیراعظم لال بہادر شاستری کی یومِ پیدائش کے موقع پر ’کسان مزدو بچاؤ دن‘ منایا جائے گا۔ اس دن کانگریس پارٹی ریاست کے تمام اضلاع میں دھرنا، احتجاج ومورچے کا انعقاد کرے گی۔ اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں ریاستی سطح پر کاشتکاروں کا ورچوئل جلسے کا انعقاد کیا جائے گا۔
2سے3 اکتوبر دستخطی مہم
اس دوران کسانوں، زرعی مزدوروں، بازار سمیتیوں کے دوکانداروں، بازار سمیتیوں کے مزدوروں نیز دیگر محنت کش لوگوں کی دستخطی مہم چلائی جائے گی اور ایک کروڑ دستخط صدرجمہوریہ کو روانہ کیا جائے گا۔
