اعتراضات داخل کرنے کی مدت 7 دن سے بڑھا کر 15 دن کی جائے، کانگریس کا ریاستی الیکشن کمیشن سے تحریری مطالبہ
ووٹروں کے نام بڑی تعداد میں غلط وارڈز میں منتقل، اعتراضات درج کرانے کا طریقہ انتہائی پیچیدہ
ممبئی: مہاراشٹر کی میونسپل کارپوریشنوں کے لیے جاری کی گئی ابتدائی ووٹر لسٹوں میں بڑے پیمانے پر گڑ بڑیاں منظرِ عام پر آنے کے بعد مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی نے ریاستی الیکشن کمیشن کو ایک خط لکھ کر اعتراضات داخل کرنے کی مدت میں فوری توسیع کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ 20 نومبر کو جاری کی گئی ووٹر لسٹوں پر اعتراضات یا تجاویز داخل کرنے کے لیے صرف 27 نومبر تک کی مہلت دی گئی ہے، جو ہر اعتبار سے ناکافی، غیر عملی اور ووٹرز کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔
کانگریس کے مطابق ووٹر لسٹوں کی موجودہ حالت اس قدر خراب ہے کہ ہزاروں شہریوں کے نام اپنے اصلی علاقوں سے غائب ہیں اور انہیں ایسے وارڈز میں درج کر دیا گیا ہے جہاں وہ کبھی رہے ہی نہیں۔ کئی میونسپل حدود میں لسٹیں وارڈ وار صحیح طور پر تقسیم ہی نہیں کی گئیں۔ ایسے میں محض سات دن کی مہلت شہریوں اور سیاسی پارٹیوں دونوں کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے اور انتخابی شفافیت پر سوالیہ نشان لگا دیتی ہے۔ ریاستی کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال، کانگریس لیجسلیٹو پارٹی کے لیڈر وجے وڈیٹیوار اور قانون ساز کونسل میں پارٹی کے گروپ لیڈر ستیج عرف بَنٹی پاٹل نے اپنے مشترکہ خط میں کہا ہے کہ اعتراضات درج کرانے کا موجودہ طریقہ نہایت پیچیدہ، بوجھل اور وقت طلب ہے۔ کسی بھی شہری کو مخصوص فارم جمع کروانا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ آدھار کارڈ منسلک کرنا لازمی ہے۔ خط میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ اگر کسی سیاسی جماعت یا شخص کی طرف سے انتخابی افسر کے سامنے کوئی مناسب اور مستند اعتراض رکھا جائے تو اصولاً ایک ہی درخواست میں متعدد غلط اندراجات کو درست کرنے کی اجازت ہونی چاہیے، مگر افسوس کہ عملی طور پر ایسا ہو نہیں رہا۔
کانگریس نے واضح کیا ہے کہ بہت سے وارڈز میں آبادی کا حجم خاصا زیادہ ہے، جس کے سبب ووٹر لسٹوں کی مکمل جانچ پڑتال میں وقت لگنا فطری ہے۔ ایسی صورت میں صرف سات دن کی مقررہ مدت انتخابی تیاریوں کو متاثر کر رہی ہے اور ووٹروں کے حقِ رائے دہی پر براہ راست ضرب لگاتی ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ یہ مدت کم از کم پندرہ روز کی جائے تاکہ غلطیوں کی نشاندہی، اصلاح اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ کانگریس نے ریاستی الیکشن کمیشن کو یاد دلایا ہے کہ انتخابی شفافیت، ووٹر لسٹ کی درستی اور عوامی اعتماد انتخابی نظام کی بنیاد ہیں اور اگر ووٹر لسٹیں ہی غلط ہوں تو پورا انتخابی عمل مشکوک ہو جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ شہریوں کی شکایات کو سنجیدگی سے لیا جائے، مدت میں توسیع کی جائے اور لسٹوں کی اصلاح کے عمل کو آسان و موثر بنایا جائے۔
MPCC Urdu News 25 November 25.docx
