MPCC Urdu News 25 April 23

بارسومیں پولیس مظالم کا خمیازہ ریاستی حکومت کو بھگتنا ہوگا: ناناپٹولے

پولیس فورس کی مددسے ریاستی حکومت کونسی ترقی کرناچاہتی ہے؟

دہلی کے آقاؤں کی مہاراشٹر میں غنڈہ گردی نہیں چلے گی

ممبئی:رتناگیری ضلع میں بارسو ریفائنری پروجیکٹ کے لیے پولس فورس کی مدد سے سروے کیا جا رہا ہے۔ کانگریس پارٹی پولیس کے اس مظالم کی سخت مذمت کرتی ہے۔ آخر پولیس فورس کی مدد سے شندے-فڈنویس حکومت ریاست میں کس قسم کی ترقی لانا چاہتی ہے؟ مقامی لوگوں کو اعتماد میں لیے بغیر اس پروجیکٹ کو مسلط کرنا آمرانہ اقدام ہے اور بی جے پی حکومت کی اس غنڈہ گردی کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یہ سخت الٹی میٹم مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بارسو ریفائنری کا کام لوگوں کو لاٹھیوں سے مار کر مکمل کیا گیا تو اس حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس کا پورا خمیازہ انہیں بھگتنا پڑے گا۔

نانا پٹولے نے بی جے پی حکومت پر کڑی نکتہ چینی کی اور مزید کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی عوام کی بھلائی کے لیے نہیں بلکہ کسانوں، نوجوانوں، خواتین، مزدوروں اور عوام کے خلاف کام کررہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس ترقی کے خلاف نہیں ہے، لیکن اگر کوئی ایسا پروجیکٹ ہے جس سے مقامی لوگ متاثر ہورہے ہیں اوروہ اس پروجیکٹ کے خلاف ہیں تو ان سے بات چیت کے ذریعے کوئی راستہ نکالا جاسکتا ہے۔ اگر ریفائنری پروجیکٹ کو لے کر لوگوں کے ذہنوں میں کوئی شک ہے تو بی جے پی حکومت مقامی لوگوں کے ان شکوک کو دور کیوں نہیں کر رہی ہے۔ آخر پولیس فورس کے ساتھ کس قسم کا سروے کیا جا رہا ہے۔ اس غنڈہ گردی اور آمریت کو جاری نہیں رہنے دیا جائے گا۔ ہم سب کوکن کے مقامی لوگوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔

کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ ریاست میں شندے-فڈنویس حکومت دہلی میں بیٹھے مودی-شاہ کی ہدایات پر کام کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ حکومت مہاراشٹر کے عوام کے مفادات پر توجہ نہیں دے رہی ہے۔ پٹولے نے کہا کہ اس حکومت نے جس نے بارسو ریفائنری کے لیے پولیس فورس کا استعمال کررہی ہے اسے بتانا چاہیے کہ اس نے ویدانتا فاکسکان، ٹاٹا ایئربس جیسے پروجیکٹوں کو گجرات جانے سے روکنے کے لیے اس طاقت کا استعمال کیوں نہیں کیا۔ اگر حکومت ان پروجیکٹوں کے سلسلے میں اپنی طاقت دکھاتی تو مہاراشٹر کے لاکھوں نوجوانوں کو روزگار مل جاتا، لیکن دہلی کے اشارے پر کام کرنے والی بی جے پی کی قیادت والی شندے حکومت اس وقت مہاوکاس اگھاڑی کو توڑنے میں مصروف تھی۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے یہ بھی کہا کہ بارسو ریفائنری کے لیے کوئی بھی فیصلہ مقامی لوگوں کو اعتماد میں لینے کے بعد ہی لیا جانا چاہیے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading