وزیراعلیٰ فڑنویس کے حلقۂ انتخاب میں 5 ماہ میں 8 فیصد ووٹرز کا اضافہ

یہ انتخابی دھاندلی کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے: ہرش وردھن سپکال

ووٹوں کی اس چوری کی اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے فڑنویس کو فوراً استعفیٰ دینا چاہیے

ووٹوں کی چوری کو چھپانے کے لیے ہی الیکشن کمیشن نے 45 دنوں میں سی سی ٹی وی فوٹیج حذف کرنے کا فیصلہ کیا ہے

ممبئی: مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں ووٹوں کی چوری کے ذریعے بی جے پی-شیوسینا اتحاد نے اقتدار پر قبضہ کیا، جس کے ثبوت روزانہ سامنے آتے جا رہے ہیں۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی اس منظم انتخابی فراڈ کو لگاتار بے نقاب کر رہے ہیں۔ بی جے پی مہاراشٹر کے صدر چندر شیکھر باونکولے کے کامٹھی حلقۂ انتخاب میں ووٹر لسٹ میں گڑبڑی سامنے آنے کے بعد اب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کے ناگپور ساؤتھ اسمبلی حلقے میں محض پانچ مہینے میں 8 فیصد ووٹرز کا اضافہ پایا گیا ہے، جو بی جے پی کی ووٹ چوری کی ایک اور واضح مثال ہے۔ اس معاملے پر مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ کو فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہیے کیونکہ وہ اس دھاندلی کے ذمہ دار ہیں۔

اس پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے حلقۂ انتخاب میں صرف پانچ ماہ کے اندر ووٹر لسٹ میں 8 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ کچھ مخصوص پولنگ بوتھوں پر یہ شرح 20 فیصد سے 50 فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے۔ کئی نامعلوم افراد نے جعلی دستاویزات کے ذریعے ووٹ ڈالے اور یہ بات خود بی ایل اوز (بوتھ لیول آفیسرز) نے رپورٹ کی ہے۔ اس کے باوجود الیکشن کمیشن خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ یہ صورتِ حال صاف ظاہر کرتی ہے کہ یہ منظم ووٹ چوری ہے۔ اسی لیے کانگریس کا مطالبہ ہے کہ مشین ریڈایبل ڈیجیٹل ووٹر لسٹ اور تمام پولنگ مراکز کی سی سی ٹی وی فوٹیج فوراً عوام کے سامنے لائی جائے۔

ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا، لیکن صرف پانچ ماہ بعد اسمبلی انتخابات میں انہیں اکثریت کیسے مل گئی؟ یہ سوال عوام کے ذہنوں میں شدت سے اُبھر رہا ہے۔ ان پانچ مہینوں میں بی جے پی نے الیکشن کمیشن کی ملی بھگت سے ووٹر لسٹ میں چھیڑ چھاڑ کی، جعلی نام شامل کیے اور ووٹنگ کی شرح کو مصنوعی طور پر بڑھایا۔ شام پانچ بجے کے بعد اور اگلے دن جاری کیے گئے اعداد و شمار کے درمیان تقریباً 8 فیصد کا فرق پایا گیا، لیکن آج تک الیکشن کمیشن یہ نہیں بتا سکا کہ یہ اضافی ووٹ کہاں سے آئے؟ اس کے برعکس، کمیشن نے اب یہ نیا اصول نافذ کر دیا ہے کہ 45 دن کے بعد تمام سی سی ٹی وی فوٹیج حذف کر دی جائے گی۔ یہ تمام کارروائی دراصل اس ووٹ چوری کو چھپانے کے لیے ہی کی جا رہی ہے، ایسا بھی الزام ہرش وردھن سپکال نے لگایا ہے۔

MPCC Urdu News 24 June 25.docx

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading