10 سال اقتدار میں رہنے کے باوجود بی جے پی حکومت نے ریزرویشن پرفیصلہ کیوں نہیں لیا؟
راہل گاندھی کی ذات پر مبنی مردم شماری کے مطالبے کی تمام لوگوں کوحمایت کرنی چاہیے
ممبئی: ریاست میں اس وقت ریزرویشن کے معاملے پر مراٹھا اور او بی سی برادری آمنے سامنے ہیں۔ ریزرویشن کے معاملے پر ٹرپل انجن حکومت کاموقف غیر واضح ہونے کی وجہ سے یہ تنازعہ بڑھتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے سماج میں شکوک و شبہات بڑھتے جارہے ہیں۔ ریزرویشن کے معاملے پر ریاستی حکومت کے اندر ہی اتفاق رائے نہیں ہے۔ حکومت میں شامل ایک وزیر مختلف بیان دے رہے ہیں جبکہ دوسرے وزیر کی رائے مختلف ہے۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے ریاستی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اسے اس مسئلہ پر ٹھوس کرموقف اپناتے ہوئے مراٹھا اور او بی سی برادری کو گمراہ کرنا بند کرنا چاہئے۔
اس ضمن میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ کہہ رہے ہیں کہ حکومت مراٹھا برادری کو ریزرویشن دینے کی پابند ہے، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھرآخر انہیں ریزرویشن دینے سے کسی نے روکا ہے؟ مرکز میں بی جے پی کی حکومت قائم ہوئے 10 سال ہونے والے ہیں،اس نے آج تک مراٹھا ریزرویشن پر کوئی فیصلہ کیوں نہیں کیا؟ گزشتہ ماہ پارلیمنٹ کا پانچ روزہ خصوصی اجلاس بلایا گیا تھا۔ اگر مرکزی حکومت اس اجلاس میں ریزرویشن کی 50 فیصد حد کو ہٹانے کا فیصلہ کرتی تو یہ معاملہ حل ہو جاتا۔ پٹولے نے کہا کہ اب مودی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو گئی ہے۔ پارلیمنٹ کا آخری اجلاس دسمبر میں ہوگا اور پھر فروری میں انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہوسکتا ہے۔
ناناپٹولے نے کہا کہ نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کا یہ موقف درست ہے کہ ایک برادری سے ریزرویشن ہٹا کر دوسری کو دینا غلط ہے، لیکن ریاستی حکومت کو اپناموقف واضح کرنا چاہیے۔ وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اور نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس کے بیانات میں تضاد ہے۔ یہ سب بند ہونا چاہیے اور ٹھوس موقف اپنایاجانا چاہیے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر ریزرویشن کا مسئلہ حل کرنا ہے تو سب کو ہمارے لیڈر راہل گاندھی کے اس مطالبے کی حمایت کرنی چاہئے کہ ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کرائی جائے اور ریزرویشن کی 50 فیصد کی حد کو ختم کیا جائے۔ تب ہی یہ تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
چھترپتی سمبھاجی نگر میں 250 کروڑ روپے مالیت کی منشیات کی ملنے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ گجرات کے موندرا بندرگاہ سے تین سے چار بار کروڑوں روپے کی منشیات پکڑی گئی ہیں۔ جب سے ملک کی بندرگاہیں حکومت کے دوستوں کے حوالے کی گئی ہیں، بڑی مقدار میں منشیات ملک میں آرہی ہیں۔ اس سب کی جڑیں ان نجی بندرگاہوں میں ہیں۔ بی جے پی حکومت نوجوانوں کو منشیات اور بیئر فراہم کر کے انہیں نشے کی دلدل میں ڈالنے کا گناہ کر رہی ہے۔ شندے حکومت نے اب بیئر کی قیمتوں کو کم کرنے کے لیے ایک کمیٹی مقرر کی ہے۔اگر یہ حکومت کل سے راشن کی دوکانوں پر بھی بیئر فروخت کرنے کا فرمان جاری کردے تو حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ کیا حکومت لوگوں کو پانی کی بجائے بیئر پلانے کا ارادہ رکھتی ہے؟ نانا پٹولے نے کہا کہ سچائی یہ ہے کہ بی جے پی حکومت نوجوان نسل کو برباد کرنے کررہی ہے۔