ممبئی: ریاست میں کانگریس، این سی پی وشیوسینا کی مہاوکاس اگھاڑی حکومت نے ایک سال مکمل کرلیے ہیں۔ تینوں پارٹیوں کی یہ حکومت کورونا کے بحران پر قابو پاتے ہوئے اب مستحکم ہوچکی ہے۔ آئندہ سال بھر ریاست میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے لیے اب کانگریس پارٹی کمرکس لی ہے۔ حکومت کی سال بھر کی بہترین کارکردگی، گریجویٹ واساتذہ حلقہئ انتخاب میں حاصل ہوئی بھرپور کامیابی کی وجہ سے پارٹی کے اندر جوش وخروش پیدا ہوگیا ہے۔ گوکہ بلدیاتی انتخابات میں ابھی وقت ہے لیکن کانگریس پارٹی ابھی سے انتخابی حکمت عملی ترتیب دیتے ہوئے تیاریوں میں مصروف ہوگئی ہے۔
ریاست میں 2021 میں نئی ممبئی، اورنگ آباد، وسئی ویرار، کلیان ڈومبیولی وکولہاپور کے پانچ بڑے کارپوریشن کے انتخابات ہونے والے ہیں۔ جبکہ دو ضلع پریشد، 13نگر پریشد و83نگر پنچایت کے انتخابات ہونے والے ہیں۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ووزیرمحصول بالاصاحب تھورات نے ان انتخابات کے لیے 13رکنی انتخابی انتظامیہ کمیٹی تشکیل دی ہے جبکہ ان تمام انتخابات کے لیے پارٹی نگراں کی بھی تقرری بھی کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ کانگریس کے 12وزراء کے پاس بھی وزارت رابطہ کی ذمہ داری ہے۔ ابھی سے ہی مقامی عہدیداران وکارکنان کے ساتھ میٹنگوں کے ذریعے سیاسی صورت حال کا جائزہ لیا جانے لگا ہے۔ مقامی کارکنان کو کس طرح انتخابات میں حصہ لینا ہے؟ اس کے بارے میں رہنمائی بھی کی جارہی ہے۔
ریاستی حکومت نے ایک سال کے اندر کسانوں کی قرض معافی، ژالہ باری کے بعد 10ہزار کروڑ روپئے کے پیکج، بے موسم بارش سے ہونے والے نقصانات کی تلافی کے لیے مالی امداد نیز فیشرمین کے لیے پیکج دیا ہے۔ کورونا بحران سے نمٹنے میں بھی ریاستی حکومت نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ کورونا کے لاک ڈاؤ ن کے دوران کانگریس کے کارکنان نے ریاست کے گاؤں گاؤں پہونچ کر گھر گھر اناجوں کی تقسیم، ادویات کی فراہمی کی جبکہ یوتھ کانگریس کے ذریعے خون کے عطیے کا کیمپ کا انعقاد کیا گیا اور غریبوں ومزدوروں کی بھرپور مدد کی۔
حال ہی میں منعقد ہوئے گریجویٹ وٹیچر حلقہئ اسمبلی کے انتخابات میں ناگپور جیسے بی جے پی وآر ایس ایس کے قبضے کے 50سالہ پرانے قلعے کو فتح کرتے ہوئے کامیابی کا علم لہرایا جبکہ پونے میں بھی بی جے پی کے امیدوار کو کراری شکست سے دوچار کیا۔ ان فتوحات کی وجہ سے کانگریس کے کارکنان کے حوصلوں میں بھرپور اضافہ ہوا ہے۔
ریاست میں فی الوقت تین پارٹیوں کی مشترکہ حکومت ہونے کے باوجود کانگریس اپنے طور پر انتخابی تیاریوں میں مصروف ہوگئی ہے۔ کانگریس کے تمام لیڈران جوش وخروش کے ساتھ کام میں جٹ گئے ہیں۔ کانگریس کو مزید بلندی پر پہونچانے کے لیے پارٹی کے لیڈران پارٹی کے عہدیداران وکارکنان کے درمیان مضبوط رابطہ قائم کرتے ہوئے تیاریاں شروع کرچکے ہیں۔ کانگریس کے عہدیداران وکارکنان میں یہ اعتماد مضبوط ہوتا جارہا ہے کہ ریاست میں حکومت تو ہے لیکن اگر حکومت میں شامل تینوں پارٹیاں متحدہ طور پر انتخابات میں ساتھ آگئیں تو بی جے پی کو شکست دینا بہت آسان ہوگا اور اسی اعتماد کے ساتھ کانگریس بی جے پی کو شکست فاش سے دوچار کرنے کے لیے نہایت مضبوطی کے ساتھ سرگرم عمل ہوچکی ہے۔