25 ہزار کروڑ کی اضافی مانگ لیکن کسانوں کے لیے کوڑی بھی نہیں:

شندے-فڈنویس حکومت کے دور میں کسانوں کومسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے

ممبئی:ریاست میں شدید بارش کی وجہ سے کسانوں کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ اس کی وجہ سے ریاست میں ژالہ باری کا اعلان کرنے کی سخت ضرورت ہے لیکن ایکناتھ شندے- دیویندر فڈنویس حکومت کسانوں کے مسائل کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہے۔ حکومت کی طرف سے کی گئی 25 ہزار کروڑ کی سپلیمنٹری ڈیمانڈ میں کسانوں کی مدد کے لیے ایک پیسے کا بھی بندوبست نہیں کیا گیا ہے۔ ریاست کی شندے فڈنویس حکومت پر یہ تنقید آج یہاں مہاراشٹرپردیش کانگریس کمیٹی کے صدرناناپٹولے نے کیا ہے۔

اسمبلی کے احاطے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے پٹولے نے کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ حکومت نے کسانوں کو بے سہارا چھوڑ دیا ہے۔ شدید بارش کی وجہ سے کئی گاؤں تباہ ہو گئے ہیں۔ فصلوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ موسلادھار بارش میں کئی جانور بھی بہہ گئے ہیں۔ ایسے میں ریاست میں ژالہ باری کا اعلان کرتے ہوئے کسانوں کو مناسب مدد فراہم کرنے کی ضرورت ہے، لیکن ریاستی حکومت کسانوں کے معاملے کو سنجیدگی سے لے ہی نہیں رہی ہے۔ پٹولے نے کہا کہ اپوزیشن پارٹی ہونے کے ناطے ہم کسانوں کے مسائل کو مسلسل اٹھا رہے ہیں، لیکن حکومت اس پر توجہ دینے کو تیار نہیں ہے۔ ضمنی مطالبات میں بھی کسانوں کے لیے ایک روپیہ تک کا انتظام نہیں ہے۔ پٹولے نے کہا کہ عثمان آباد ضلع کے ایک کسان نے منگل کو منترالیہ کے سامنے خود کو آگ لگانے کی کوشش کی، جبکہ وردھا ضلع کے ایک کسان نے پیر کو خودکشی کر لی۔ منترالیہ کی چھٹے منزلے پر ایک کسان کی پٹائی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں ہر روز کسان خودکشی کر رہے ہیں لیکن ریاستی حکومت اپنے آپ میں ہی خوش ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اس مطالبے پر قائم ہیں کہ زراعت کو پہنچنے والے نقصانات کے لیے عام کسانوں کو 75 ہزارروپے فی ہیکٹر اور پھل اور باغبانی کے کسانوں کو 1.5 لاکھ روپے فی ہیکٹر ادا کیے جائیں۔

کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ رائے گڑھ کے سمندر میں اگر کوئی لاوارث کشتی ملی ہے تو یہ بہت سنگین معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ٹریفک کانسٹیبل کو واٹس ایپ پر ممبئی پر حملہ کرنے کا پیغام ملتا ہے۔ پٹولے نے کہا کہ ممبئی شہر بہت حساس ہے۔ ایسے میں حکومت کو ممبئی کے سیکورٹی سسٹم کے معاملے کو بہت سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading