اسمبلی انتخابات میں شکست کے خوف سے نیشنل ہیرالڈ کے خلاف کارروائی ہوئی ہے: نانا پٹولے
کانگریس پارٹی مودی حکومت کے ظلم کے سامنے کبھی نہیں جھکے گی
ممبئی:راجستھان، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، تلنگانہ اور میزورم سمیت پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کواپنی شکست یقینی نظر آنے لگی ہے۔ کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کے جلسے لوگوں میں زبردست مقبول ہورہے ہیں اور ان جلسوں میں عوام کا جم غفیر امڈ رہا ہے۔ جبکہ دوسری جانب وزیر اعظم نریندر مودی کے جلسوں سے لوگوں نے منھ موڑ لیا ہے جس نے بی جے پی شکست یقینی بنادیا ہے۔اس صورت حال سے مایوس اور بدحواس مودی حکومت نے سیاسی انتقام لینے کے لیے نیشنل ہیرالڈ کے خلاف ای ڈی کی کارروائی کی ہے۔ مرکز کی بی جے پی حکومت پر یہ سخت حملہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی مودی کے اس جبر اور آمریت کے سامنے کبھی نہیں جھکے گی۔
بدھ کو ناگپور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے مزید کہا کہ نیشنل ہیرالڈ کیس کے تمام دستاویزات عوامی ہیں۔ مودی حکومت اقتدار میں آنے کے بعد سے نیشنل ہیرالڈ کے خلاف مسلسل کارروائی کر رہی ہے، لیکن اب تک اسے ثبوت کے طور پر کچھ بھی نہیں ملا۔ جب بھی بی جے پی کو انتخابات میں اپنی شکست نظر آنے لگتی ہے، مودی حکومت ای ڈی کا غلط استعمال واسی طرح کے دیگر کاموں کے ذریعے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کرتی ہے۔ لیکن مودی حکومت کو اب اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا،کیونکہ اس طرح کے معاملات کی حقیقت سے اب پورا ملک واقف ہوچکا ہے۔ناناپٹولے نے کہا کہ اس سے قبل بھی ہماری لیڈر محترمہ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو اس معاملے کی تحقیقات کے لیے بلایا گیا اور 10-10 گھنٹے تک انہیں ہراساں کیا گیا، لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ گاندھی خاندان یا اس کے کسی بھی ڈائریکٹر کو نیشنل ہیرالڈ چلانے والی کمپنی ایسوسی ایٹڈ جرنلز سے کوئی تنخواہ یا منافع نہیں ملتا ہے۔ اس لیے بی جے پی کا یہ الزام غلط ہے کہ اس میں بدعنوانی ہوئی ہے۔ اب جب پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو عبرتناک شکست کا یقین ہونے لگا ہے تو اس نے تحقیقاتی ایجنسیوں کے سہارے ہمارے لیڈروں کو پھر سے ہراساں کرنے کی کوشش شروع کردی ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ اب ملک کے عوام بی جے پی کے جھوٹ کو پہچان چکے ہیں اور ای ڈی بھی بی جے پی کو ذلت آمیزشکست سے نہیں بچا سکتی۔
’پنوتی ‘کہنے پر بی جے پی بھلاکیوں پریشان ہورہی ہے؟
صحافیوں کے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ جب راہل گاندھی راجستھان میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کررہے تھے تو جلسے میں موجود بھیڑ میں سے کسی نے ’پنوتی‘ کا نعرہ لگایا۔ راہل گاندھی نے اسی تناظر میں بات کی۔ انہوں نے نریندر مودی یا کسی شخص کا نام نہیں لیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سے مودی کی توہین کیسے ہوجاتی ہے؟ احمد آباد اسٹیڈیم میں کرکٹ ورلڈ کپ کے فائنل میچ کے دوران لفظ ’پنوتی‘ سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہا تھا اور آج بھی ٹرینڈ کر رہا ہے۔ یہ عوامی جذبات ہے لیکن اس سے یہ دکھانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ میں ہر جگہ موجود ہوں۔
اسپیکرکے عہدے کالحاظ برقرار رکھا جاناچاہیے
ناناپٹولے نے کہا کہ ایم ایل اے نااہلی کیس کی سماعت مقررہ وقت کے اندر ہونی چاہیے تھی۔ مہاراشٹر لیجسلیچر کا کام پورے ملک میں جانا جاتا ہے لیکن بی جے پی نے گندی سیاست کھیل کر اس ساکھ کو داغدار کردیا ہے۔ اسمبلی سپیکر کا رویے کودیکھ کر خودسپریم کورٹ کو مداخلت کرنی پڑی۔ اسمبلی سپیکر کے عہدے کا لحاظ برقرار رکھا جاناچاہیے۔ مہاراشٹر نے لوک سبھا اسپیکر کے عہدے کی قیادت بھی کی ہے لیکن آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ کسی طور مناسب نہیں ہے۔ سماعت کے دوران شیوسینا کے سنیل پربھو نے کہا کہ بابا صاحب امبیڈکر کے آئین کے مطابق وہ آج ایم ایل اے ہیں تو سماعت کے دوران اس پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس طرح کی سیاست مہاراشٹر کی شبیہ کو خراب کر رہی ہے۔ جمہوریت میں ہمیں سوال پوچھنے کا حق ہے اور ہم مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی کے سرمائی اجلاس میں اس حق کا بھرپور اور زوردار طریقے سے استعمال کریں گے۔
National Herald Case Hindi Translation.pdf