مہاراشٹر کو منی پور بنانے کی بی جے پی کی مکروہ سازش: نانا پٹولے
ریاست کے سنگین مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے فسادات بھڑکانے کی کوشش
ممبئی:گزشتہ ڈھائی مہینے میں مہاراشٹر میں 10 مقامات پر فسادات ہوئے اور ان کے پیچھے حکمراں بی جے پی کا ہاتھ ہے۔ یہ فسادات مہنگائی، بے روزگاری اور کسانوں کے مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے کرائے جا رہے ہیں۔ ایک مکروہ سازش کے تحت اقتدار کی طاقت کے زور پر مہاراشٹر کوبھی منی پور بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔یہ الزام مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے عائد کیا ہے۔
جمعرات کونامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ امراؤتی، اکولہ، شیگاؤں، ناسک، احمد نگر، کولہاپور سمیت ریاست میں 10 مقامات پر فسادات کرائے گئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی کی یہ مکروہ سازش کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی کیونکہ شاہو، پھلے، امبیڈکر کا نظریات کی جڑیں مہاراشٹر میں بہت گہری ہیں۔ راجرشی شاہو مہاراج کے کولہاپور میں بھی بی جے پی نے مذہبی انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ ناکام ہوگئی کیونکہ لوگ بی جے پی کی اس سازش کو سمجھ گئے تھے۔ پٹولے نے کہا کہ ریاست کے لوگوں نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور ریاست کے سماجی ہم آہنگی کا بنیادی مذہب کی پیروی کرتے ہوئے بی جے پی کے اس اقدام کی حمایت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے ریاست میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو لے کر ڈائرکٹر جنرل آف پولیس اور گورنر کو میمورنڈم پیش کیا تھا، لیکن ابھی تک کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی ہے۔
پٹولے نے کہا کہ بی جے پی حکومت مہنگائی اور بے روزگاری جیسے اہم مسائل پر کچھ بھی بولنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ریاست کے کسانوں کو قدرتی آفات کا سامنا ہے۔ شندے-فڈنویس حکومت صرف مدد کا اعلان کرتی ہے لیکن یہ مدد کسانوں تک نہیں پہنچتی ہے۔ حال ہی میں وزیر اعلیٰ نے 1500 کروڑ روپے کی امداد کا اعلان کیا تھا، لیکن کسانوں کو یہ رقم نہیں ملی ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ حکومت ان تمام اہم مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے فسادات کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔