
ممبئی: ریاست کی مہاوکاس اگھاڑی حکومت نے اپوزیشن لیڈران کی میٹنگوں میں سرکاری افسران کی موجودگی کے متعلق جو فیصلہ کیا ہے وہ دیوندرفڈنویس کی خواہش کے عین مطابق ہے، پھر بی جے پی لیڈران کے پیٹ میں مروڑ کیوں اٹھ رہا ہے؟ یہ سوال آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری وترجمان سچن ساونت نے کیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ بی جے پی لیڈران ابھی تک یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ اقتدار میں ہیں۔ اپوزیشن میں بیٹھنا انہیں ہضم نہیں ہوپارہا ہے۔گزشتہ ۶ ماہ کے دوران اقتدار کے لیے ان کی جدوجہد صاف طو رسے محسوس کی جاسکتی ہے۔ شاید اسی لیے سرکاری افسران کو اپوزیشن لیڈران کی میٹنگوں میں موجودگی سے متعلق مہاوکاس اگھاڑی حکومت کا فیصلہ ان کے گلے نہیں اتر رہا ہے۔ ساونت کے مطابق جمہوریت میں حزبِ اختلاف کی حد کا تعین واضح کیا گیا ہے۔مختلف حکومتوں نے اس ضمن میں فیصلہ کیا ہے کہ حزبِ اختلاف کے لیڈران نہ تو سرکاری میٹنگیں طلب کرسکتے ہیں اور نہ ہی سرکاری افسران کو حکم دے سکتے ہیں۔ فڈنویس حکومت نے بھی11مارچ 2016 اور 29اگست2018کو ایسا ہی حکم دیا تھا کہ اپوزیشن کے لیڈران سرکاری نوعیت کی میٹنگیں نہ تو طلب کریں اور نہ ہی سرکاری افسران اپوزیشن لیڈران کی میٹنگوں میں موجود ہوں۔ اس کے باوجود اب جبکہ مہاوکاس اگھاڑی حکومت نے اس ضمن میں فیصلہ کیا ہے تو پھر بی جے پی کے لیڈران کے پیٹ میں مروڑ کیوں اٹھ رہا ہے؟
سچن ساونت نے سوال کیا کہ جب فڈنویس نے اس طرح کا فیصلہ کیا تھا تو آج جمہوریت کی دہائی دینے والے بی جے پی کے لیڈران فڈنویس کا فیصلہ جمہوریت کے منافی نظر نہیں آرہا تھا؟ حقیقت یہ ہے کہ فڈنویس کے دورِ حکومت میں بی جے پی لیڈران آمرانہ ذہنیت کے ساتھ حکومت چلارہے تھے اور اس بات سے مہاراشٹر کی عوام کی بخوبی واقف ہے۔ دھرما پاٹل نامی کسان کے اہلِ خانہ کو فڈنویس کے ہردورے کے دوران نظربند کردیا جاتا تھا اور کانگریس کے لیڈران کے ممکنہ احتجاج کے پیشِ نظر انہیں پولیس گرفتار کرلیتی تھی۔
فڈنویس یا بی جے پی کے لیڈران کے جلسوں میں کسی کے سیاہ کپڑے پہن کر شرکت کرنے یا زرعی پیداوار کی تھیلیاں ساتھ لانے تک پر پابندی تھی۔ فڈنویس کے دورے کے دوران بدعنوانی کے خلاف احتجاج کرنے والے ایک کسان کو تڑی پار کی نوٹس دی گئی تھی۔
اپنے دورِ حکومت میں اپوزیشن کی آواز کو مکمل طور پردباڈالنے والے آج جمہوریت کی دہائی دے رہے ہیں، تو یہ ان کا دوغلا رویہ نہیں تو اور کیا ہے؟ سرکاری افسران کو اپوزیشن لیڈران کی میٹنگوں میں نہ جانے کا خود کا فیصلہ فڈنویس کو غالبا معلوم نہیں ہے۔ اس لیے مہاوکاس اگھاڑی حکومت کے مذکورہ فیصلے پر اعتراض کرنے والے لیڈران کو وجہ بتاؤ نوٹس دیا جانا چاہئے۔