ایم وی اے کی سیٹ شیئرنگ پر بات آخری مرحلے میں، 27 و 28 فروری کو فیصلہ: رمیش چینتھلا
’بھرشٹاچارمکت بھارت‘ کا کھولا نعرہ، بی جے پی میں تمام بدعنوان لیڈروں کی پناہ گاہ : نانا پٹولے
ممبئی: مہاوکاس اگھاڑی میں شامل تمام پارٹیاں مل کر لوک سبھا انتخابات میں مہایوتی کا مقابلہ کریں گی۔ ہمارے اتحادی پارٹیوں میں سیٹوں کی تقسیم آخری مرحلے میں پہنچ گئی ہے اور اس معاملے میں ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔یہ باتیں مہاراشٹر پردیش کانگریس کے انچارج رمیش چنیتھلا نے کہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی ریاستی الیکشن کمیٹی کی میٹنگ کے بعد 27 اور 28 فروری کو ایم وی اے میں شامل پارٹیوں کی میٹنگ ہورہی ہے ،، اس میں سیٹ شیئرنگ کی بات چیت فائنل ہوجائے گی۔
ریاستی الیکشن کمیٹی کی میٹنگ سے قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے ریاستی انچارج نے کہا کہ مہاراشٹر میں ایم وی اے پوری طرح سے مضبوط اور متحد ہے۔ ہم ایک ساتھ الیکشن لڑ کر زیادہ سے زیادہ سیٹیں جیتنے کی کوشش کریں گے ۔ تمام اتحادی پارٹیوں سے مثبت انداز میں بات چیت جاری ہے۔ ونچیت بہوجن اگھاڑی کے صدر پرکاش امبیڈکر سے بھی بات چیت ہوئی ہے۔ این سی پی کے صدر شرد پوار اور شیوسینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے بھی امبیڈکر سے بات چیت کر رہے ہیں۔ پرکاش امبیڈکر کے تمام نکات پر اتفاق ہوا ہے۔ کانگریس پارٹی لوک سبھا انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ اس کے پیش نظر حال ہی میں لونا والا میں دو روزہ تربیتی کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔ اس کیمپ میں تنظیم کو مضبوط بنانے پر بات چیت ہوئی۔ ممبئی کانگریس کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ چونکہ انتخابات آرہے ہیں، اپوزیشن پارٹیوں کے لوگوں پر سرکاری ایجنسیوں کے ذریعہ حملے کئے جارہے ہیں۔ لیکن بی جے پی کے کسی بدعنوان لیڈر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ہندوستان کو’بھرشٹاچار مکت‘ بنانے کا نعرہ دیا تھا لیکن جن لوگوں پر بی جے پی نے کرپشن کے الزامات لگائے تھے،انہیں کو ہی ساتھ لے کر کرپٹ بی جے پی بنائی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم مودی نے اجیت پوار پر 70 ہزار کروڑ روپے کے گھوٹالہ کا الزام لگایا تھا۔ کیا اب اجیت پر چھاپہ مارا جائے گا؟ اس کے برعکس انہیں نائب وزیر اعلیٰ بنایا گیا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے پارلیمنٹ میں آدرش گھوٹالہ کا ذکر کیا اور پھر اشوک چوہان کو بی جے پی میں لے کر راجیہ سبھا کا ممبر بنایا، اس طرح بی جے پی نے بدعنوانوں کو سیکورٹی فراہم کر رہی ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے 303 ایم پیز میں سے 165 اپوزیشن لیڈر ہیں، جب کہ 67 کانگریس کے سابق ایم پی ہیں جن پر بی جے پی نے بدعنوانی کا الزامات لگائے تھے ۔ اب اس صورتحال میں بی جے پی کس منھ سے ’بھرشٹاچار مکت بھارت‘ کی کی بات کرتی ہے؟
اس پریس کانفرنس میں انچارج رمیش چنیتھلا، ریاستی صدر نانا پٹولے، ممبئی کانگریس کی صدر ورشا گائیکواڑ، اے آئی سی سی سکریٹری آشیش دووا، سابق وزیر انیس احمد، نائب صدر نانا گاوندے، چیف ترجمان اتل لونڈھے، ترجمان راجو واگھمارے وغیرہ موجود تھے۔