ارسال واڑی حادثے میں 5 لاکھ کی مدد بہت کم،تمام خطرناک گاؤں کی بازآبادکاری کی جائے: ناناپٹولے
اقتدار کے نشے کی وجہ سے چیف جسٹس کے خلاف بی جے پی کے ایم ایل اے کی بولنے ہمت ہوئی ہے
منی پور میں خواتین پر تشدد کے واقعے سے دنیا ہندوستان کی شبیہ مزید داغدار ہوئی ہے
ممبئی:رائے گڑھ ضلع کے کھالاپور تعلقہ میں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ارسال واڑی نامی پورا گاؤں دنیا کے نقشے سے غائب ہو گیا ہے۔ گرچہ امدادی کام جاری ہے لیکن اس کی بھی ایک حد ہے۔ حکومت نے 5 لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کیا ہے لیکن یہ بہت کم ہے،اس میں اضافہ کیا جاناچاہئے۔ بازآبادکاری کرتے ہوئے صرف ارسال واڑی کی ہی بازآبادکاری سے کام نہیں چلے گابلکہ اس علاقے کے تمام خطرناک گاؤں کی بازآبادکاری کی جانی چاہئے۔ یہ مطالبہ آج یہاں مہاراشٹرپردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے کیا ہے۔
احاطہ اسمبلی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نے مزید کہا کہ کوکن میں کئی مقامات پر ارسال واڑی جیسی صورتحال ہے۔ بازآبادکاری کرتے ہوئے اس پورے علاقے کے بارے میں سوچنا پڑے گا۔بازآبادکاری مناسب جگہ پر ہونی چاہئے۔مادھو گاڈگل کمیٹی کی بنیاد پر بازآبادکاری کی جانی چاہئے۔ اس کے علاوہ اس بات کو بھی یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ مستقبل میں ایسے حادثات نہ ہوں تاکہ بے گناہ لوگوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ نا دھونا پڑے۔پٹولے نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ممبئی سے قریب ان گاؤں میں ابھی تک راستہ نہیں بنا ہے۔ میں نے خود جاکر وہاں کے لوگوں اور متاثرین سے بات کی، ابھی تک ان لوگوں کے آنسو نہیں تھمے ہیں۔
اقتدار کے نشے میں چیف جسٹس پر تنقید
ناناپٹولے نے کہا کہ منی پور تین ماہ سے جل رہا ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی امریکہ و فرانس کے دورے میں مصروف رہے۔ وہاں سے واپسی کے بعد وہ پارٹی کی تشہیر میں مصروف ہوگئے۔ انہوں نے منی پور پر ایک لفظ بھی نہیں بولا۔ 78 دنوں کے بعد وزیر اعظم مودی نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے بیان دیا ہے کہ’کسی کو نہیں بخشا جائے گا‘۔ اتنا بولنے میں انہیں تین مہینے لگ گئے۔ منی پور معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ حکومت کارروائی کرے ورنہ عدالت اپنے طور پر کارروائی کرے گی۔ عدالت کی تشویش فطری ہے۔ چیف جسٹس کے اس موقف پر ریاست کے ایک بی جے پی ایم ایل اے نے تنقید کرتے ہوئے ٹویٹ کیاہے۔ بی جے پی کے اس ایم ایل اے کی سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کے خلاف بولنے کی ہمت اس لیے آئی ہے کہ وہ اقتدارکے نشے میں بدمست ہوچکا ہے۔ اس معاملے میں گورنر اور عزت مآب چیف جسٹس کو آگاہ کریں گے۔بی جے پی کی ریاست میں عورتوں کی عصمت دری کرنا حیوانیت ہے۔ اس واقعے کی دنیا بھر میں مذمت کی جا رہی ہے۔یہ عمل ہندوستانی ثقافت کو داغدار کرنے والا اور قابل مذمت ہے۔کانگریس پارٹی اس واقعے کی سخت مذمت کرتی ہے۔