جمہوریت اور ووٹروں کے حقوق کے تحفظ لیے کانگریس کا 25 جنوری کو قومی ووٹرز ڈے پر ریاست بھر میں احتجاج کا اعلان

ممبئی: انتخابی کمیشن کا فرض ہے کہ وہ غیرجانبدار اور شفاف انتخابات منعقد کرے، لیکن جس طریقے سے حالیہ انتخابات منعقد کیے جا رہے ہیں، اس سے انتخابی کمیشن کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ بی جے پی اور انتخابی کمیشن نے ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں ووٹوں پر ڈاکا ڈال کر جمہوریت کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ انتخابی کمیشن کی ان حرکات کے خلاف، جمہوریت کے تحفظ اور ووٹروں کے حقوق کے لیے کانگریس پارٹی 25 جنوری کو قومی ووٹرز ڈے کے موقع پر ریاست بھر میں ضلعی اور تحصیل سطح پر احتجاجی مظاہرے کر کے عوامی بیداری پیدا کرے گی۔ ان مظاہروں میں ریاست کے اہم رہنما بھی شامل ہوں گے۔ یہ معلومات مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے دی ہیں۔

تلک بھون میں پریس کانفرنس سے بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ ریاستی اسمبلی انتخابات میں دھاندلی واضح طور پر نظر آتی ہے۔ لوک سبھا انتخابات کے چھ ماہ بعد منعقد ہونے والے اسمبلی انتخابات میں 50 لاکھ ووٹروں کا اضافہ کیسے ہوا؟ پولنگ کے دن شام 5 بجے کے بعد رات کی تاریکی میں 76 لاکھ ووٹوں کا اضافہ کیسے ہوا؟ کانگریس پارٹی نے انتخابی کمیشن سے اس کے شواہد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن ابھی تک یہ اعداد و شمار فراہم نہیں کیے گئے۔ مرکز میں بی جے پی حکومت نے ایسا قانون بنایا ہے جو انتخابی کمیشن کو یہ معلومات فراہم کرنے سے روکتا ہے۔ یہ قانون دراصل بی جے پی اور انتخابی کمیشن کی جانب سے ووٹوں پر ڈالے گئے ڈاکے کو چھپانے کی کوشش ہے۔

بدلاپور جنسی تشدد کے ملزم کے انکاؤنٹر کے معاملے میں ریاستی کانگریس کے صدر نے کہا کہ بدلا پور میں ایک اسکول کی طالبات پر جنسی تشدد کے معاملے میں گرفتار ملزم اکشے شندے کو فیک انکاؤنٹر میں مارا گیا، جیسا کہ کانگریس نے پہلے ہی کہا تھا۔ اب ہائی کورٹ نے متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر کے کارروائی کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ نانا پٹولے نے کہا کہ صرف پولیس اہلکاروں پر کارروائی کافی نہیں ہے بلکہ انکاؤنٹر کا حکم دینے والے وزیروں اور پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف بھی کارروائی کی جانی چاہیے۔

پربھنی کے سومناتھ سوریہ ونشی کی پولیس حراست میں موت کے معاملے پر بھی نانا پٹولے نے میڈیا سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ پر بھنی کے سومناتھ سوریہ ونشی کو پولیس کے ہاتھوں حراست میں تشدد کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ پولیس نے انہیں کومبنگ آپریشن کے دوران گرفتار کیا اور حراست میں مارا پیٹا، جس سے ان کی موت واقع ہوئی۔ تاہم، وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس نے اسمبلی میں غلط معلومات دے کر کہا کہ ان کی موت دمے کے باعث ہوئی۔ کانگریس اس کے خلاف استحقاق کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج کرے گی اور اس واقعے کے تمام ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرے گی۔

نانا پٹولے نے کہا کہ بیڑ ضلع میں سرپنچ سنتوش دیشمکھ کا بے رحمانہ قتل مافیا راج کی ایک اور مثال ہے۔ بیڑ میں قتل، بھتہ خوری، اغوا اور بدعنوانی کے معاملات میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ نانا پٹولے نے کہا کہ بیڑ میں مافیا راج حکومتی وزراء کی سرپرستی میں جاری ہے۔ حکمران جماعت کا ایک رکن اسمبلی بھی مافیا راج کی کھلی معلومات فراہم کر رہا ہے، لیکن حکومت محض دکھاوے کی تحقیقات کر رہی ہے اور اپنی کرسی بچانے کی فکر میں ہے۔

ریاستی کانگریس کے صدر نے کہا کہ ریاست میں حکومت بننے کے بعد سے ہی مختلف عہدوں پر تنازعات جاری ہیں۔ پہلے وزیراعلیٰ کے عہدے پر اختلاف ہوا، پھر کابینہ کی توسیع اور محکمہ جات کی تقسیم پر جھگڑے ہوئے اور اب سرپرست وزیر کے عہدے پر رسہ کشی جاری ہے۔ نانا پٹولے نے کہا کہ سرپرست وزیر اور معاون وزیر کے عہدے عوام کی خدمت کے لیے نہیں بلکہ ذاتی مفادات اور لوٹ مار کے لیے بنائے گئے ہیں۔

بیڑ ضلع میں فصل انشورنس اسکیم میں بڑا گھوٹالہ سامنے آیا ہے، جہاں بنجر زمین کے لیے انشورنس حاصل کر کے 350 کروڑ روپے کی لوٹ مار کی گئی۔ اس گھوٹالے میں انشورنس کمپنیوں کے ساتھ حکومت بھی شامل ہے۔ کسانوں کو معاوضہ نہیں ملا، لیکن انشورنس کمپنیوں نے خوب منافع کمایا۔ نانا پٹولے نے کہا کہ یہ گھوٹالہ کسانوں کی محنت پر ڈاکا ڈالنے کے مترادف ہے اور حکومت کو اس پر جواب دینا ہوگا۔

MPCC Urdu News 21 January 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading