مدینۃ العلوم جونیئر کالج کے زیرِ اہتمام توسیعی لیکچر میں مولانا سعد عبداللہ ندوی کا فکر انگیز خطاب
ناندیڑ، 21 جنوری – مدینۃ العلوم جونیئر کالج میں منعقدہ توسیعی لیکچر کے دوران معروف عالمِ دین اور خطیب، مولانا سعد عبداللہ ندوی نے طلبہ سے وقت کی اہمیت پر مدلل خطاب کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دورِ حاضر میں طلبہ کو اپنے وقت کا صحیح استعمال سیکھنا چاہیے۔ انہوں نے وقت کی ناقدری کے انجام پر روشنی ڈالتے ہوئے طلبہ کو آگاہ کیا اور امام مسلم جیسے کامیاب شخصیات کی مثالوں کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ کامیاب لوگ اپنے وقت کو غیر ضروری سرگرمیوں پر ضائع کرنے کے بجائے حصولِ علم اور خدمتِ خلق میں لگاتے ہیں۔

مولانا نے طلبہ کو ترغیب دلائی کہ وہ وقت کو غنیمت جان کر اپنی زندگی کا لائحہ عمل تیار کریں اور اس پر سختی سے کاربند رہیں۔ انہوں نے کہا کہ غفلت اور وقت کا ضیاع انسان کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ خوفِ خداوندی اور تقویٰ کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور کے ایک مشہور واقعہ کا ذکر کیا، جس میں ایک لڑکی نے اپنی والدہ کے کہنے کے باوجود دودھ میں پانی ملانے سے انکار کر دیا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اللہ ہر حال میں دیکھ رہا ہے۔ مولانا نے اس واقعے کو مثال بنا کر طلبہ کو گناہوں سے بچنے اور اللہ کے خوف میں زندگی گزارنے کی تلقین کی۔

مولانا نے سورۂ احزاب کی ایک آیت کا حوالہ دے کر طلبہ کو کامیابی کے لیے دس اہم صفات اپنانے کی تلقین کی، جن کے ذریعے نہ صرف دنیاوی بلکہ آخرت کی کامیابیاں بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔
خطاب کے دوران مولانا سعد عبداللہ ندوی نے متعدد واقعات اور مثالوں کے ذریعے طلبہ کی توجہ مرکوز رکھی، اور سوا گھنٹے کے اس خطاب میں طلبہ نے انہماک اور دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ خطاب سے قبل صدر مجلسِ انتظامیہ شفیع احمد قریشی اور معزز رکن عبدالجلیل سر نے مولانا کا شال اور گلدستے کے ساتھ استقبال کیا۔ اس موقع پر صدر المدرسین سمیت تمام اساتذہ بھی موجود تھے۔
پروگرام کی نظامت کے فرائض حبیب مسعود نے عمدگی سے انجام دیے، اور خطاب کے اختتام پر انہوں نے مہمانِ خصوصی اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ یوں یہ توسیعی لیکچر کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔