ممبئی: ری پبلک ٹی وی کے ایڈیٹرارنب گوسوامی اور بارک کے سابق افسر پارتھوداس گپتا کے درمیان ہونے والی واٹس ایپ چیٹ سے کئی سنگین باتیں اجاگر ہوئی ہیں۔

خاص طور سے پلوامہ میں سی آرپی ایف کے جوانوں پر ہوئے حملے کے بعد پاکستان کے بالاکوٹ پر ہندوستانی نے جو فضائی حملہ کیا تھا، اس کی اطلاع تین دن قبل یعنی کہ ۲۳فروری ۲۰۱۱کو ہی ارنب گوسوامی کو کیسے ہوگئی تھی؟

ارنب نے یہ معلومات مزید کن کن لوگوں کو دی؟ ارنب گوسوامی نے گپتاکے ساتھ ہوئے واٹس ایپ چیٹ میں خود یہ بات کہی ہے کہ اسے یہ معلومات جس کے ذریعے حاصل ہوئی ہے وہ مودی حکومت کا ایک اہم شخص ہے۔ اس لیے اس پورے معاملے کی سخت اور باریک بینی سے تفتیش کیا جانا انتہائی ضروری ہے۔ ارنب گوسوامی کا عمل آفیشیل سیکریٹ ایکٹ ۱۹۲۳کی دفعہ۵ کے تحت دفتری رازداری کی صریح خلاف ورزی تو ہے ہی یہ ملک سے غداری بھی ہے۔ اس لیے ارنب گوسوامی کو فوری طور پر گرفتار کرتے ہوئے اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ان مطالبات کے ساتھ کانگریس پارٹی ۲۲جنوری یعنی کہ آج ریاست گیر مظاہرہ کرے گی۔ یہ اعلان آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ووزیرمحصول بالاصاحب تھورات نے کیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ارنب گوسوامی کو ملک کی دفاع کے تعلق سے اس قدر حساس معلومات کس نے دی ؟ ارنب نے وہ معلومات مزید کن کن لوگوں کو دی نیز مرکزی حکومت کا وہ اہم شخص کون ہے جو ارنب کو یہ معلومات فراہم کررہا تھااور مزید کوئی ہے کیا جو اس طرح کی معلومات ارنب جیسے لوگوں کودے رہا ہے؟ ایسے کئی سوالات کے جواب ملنے انتہائی ضروری ہیں۔ ارنب گوسوامی اور اس کے ری پبلک ٹی وی نے کئی غیرقانونی کام کیے ہیں۔ دوردشن کے سیٹیلائیٹ فریکونسی کا غیرقانونی استعمال کرتے ہوئے پرسار

بھارتی کے کروڑوں روپیے کا نقصان کیا ہے۔ری پبلک ٹی وی نے دوردرشن کو پیسے نہ دیتے ہوئے اس کی فریکونسی کا استعمال کرنا جرم ہے۔ ٹی آر پی گھوٹالے میں الجھی ہوئے اس چینل نے سرکاری ملکیت کے دوردرشن کی فریکونسی کا استعمال کرتے ہوئے ٹی آر پی بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ٹی آر پی گھوٹالے کی تفتیش کرتے ہوئے ان جرائم کی بھی تفتیش ہونی چاہیے۔ دوردرشن نے اطلاعات ونشریات کے وزیر راج وردھن راٹھوڑ کے پاس اس ضمن میں شکایت بھی کی تھی لیکن وزیرموصوف نے ان شکایات کو کوڑے دان

میں ڈال دیا تھا۔ اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ مودی حکومت کی ارنب گوسوامی کو بھرپور حمایت حاصل ہے۔اس معاملے میں عوامی پیسے کے لوٹ اجاگر ہوتی ہے اس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مرکزی حکومت نے ارنب کے خلاف سخت کارروائی کیوں نہیں کی