کیا یہ اپوزیشن کو ختم کرنے کی سازش ہے؟ناناپٹولے
سابق وزیراعلیٰ اشوک چوہان وایم پی سنجئے راؤت معاملے میں خاطیوں کو گرفتار کیا جائے
شندے فڈنویس حکومت آنے کے بعد سے ریاست کا امن وامان تباہ ہوگیا ہے
ممبئی::سابق وزیر اعلیٰ اشوک چوہان کی جاسوسی کی جارہی ہے اور ان کی جان کو نقصان کو پہونچانے کی سازش سامنے آئی ہے۔ جبکہ دوسری جانب ممبرپارلیمنٹ سنجئے راؤت پرحملہ کرنے کی سپاری دینے کی بھی خبر ہے۔ اس طرح کے معاملے میں ریاست میں بڑھتے جارہے ہیں۔ کیا یہ اپوزیشن کو ختم کرنے کی حکمراں پارٹیوں کی سازش ہے؟ یہ سوال مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے کیا ہے۔
میڈیا کے سامنے سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس پارٹی کے سینئر لیڈر اشوک چوہان نے پولیس سے شکایت کی ہے کہ ایک پرائیویٹ شخص ان پر نظر رکھے ہوئے ہے اور انہوں نے پولیس میں شکایت درج کرائی ہے کہ ان کی جان کو نقصان کوپہنچایا جاسکتا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ریاست کے ایک سابق وزیراعلیٰ کی جاسوسی کی کیوں کی جارہی ہے؟ریاستی حکومت ومحکمہ پولیس سے ہم سخت مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کی تفتیش کرکے خاطیوں کو فوراً گرفتار کرے۔ ایسے لوگوں کو سخت سزاملنی چاہئے۔
پٹولے نے کہا کہ ممبرپارلیمنٹ سنجے راؤت نے بھی شکایت کی ہے کہ انہیں جان سے مارنے کی سپاری دی گئی ہے۔ حکومت میں بیٹھے لوگ اگر اپوزیشن کو ختم کرنے کے لیے اس طرح کی حرکتیں کررہے ہی تو یہ جمہوری نظام پر ایک بدنما داغ ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہو، پھولے اور امبیڈکر کے اس مہاراشٹر میں اپوزیشن کو ختم کرنے کی اس کوشش کو ہر گز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پٹولے نے کہا کہ اس طرح کی سیاست مہاراشٹر میں پہلے کبھی نہیں ہوئی۔ اگر ایسے کام اقتدار میں بیٹھے شرپسندلوگوں کے ایماء پر ہو رہے ہیں تو یہ ریاست کے لیے بہت تشویشناک ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کو اشوک چوہان اور سنجے راؤت کے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔
کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ پچھلے چھ سات مہینوں میں ریاست میں امن و امان کی صورتحال بدسے بدترہوگئی ہے۔ خاص طور پر حکمران جماعت کے لوگ اب خود غنڈہ گردی کرنے لگے ہیں۔ اپوزیشن کو دشمن سمجھ کر انہیں ختم کرنے کی سازش رچی جارہی ہے۔گزشتہ ماہ کانگریس کی خواتین ایم ایل اے ڈاکٹر پرگیہ ساتو پر حملہ کیا گیا۔ اورنگ آباد میں سابق وزیر آدتیہ ٹھاکرے کی گاڑی پر حملہ ہوا۔ حکمراں جماعت کے ایم ایل اے نے اپوزیشن پارٹی کے کارکنوں پر گولی چلائی۔ حکمراں طبقے کے لوگ لوگوں کے ہاتھ پیرتوڑنے کی بات کررہے ہیں۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ اس طرح کے بدبختانہ واقعات مہاراشٹر جیسی ترقی یافتہ ریاست میں ہورہے ہیں۔ناناپٹولے نے یہ بھی کہا کہ ریاستی حکومت کو اس معاملے پر فوری توجہ دیتے ہوئے خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔