کوشیاری کے بیان کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت نہیں: مہیش تپاسے
ممبئی: مہاراشٹر کے گورنر کے عہدے سے ہٹائے گئے بھگت سنگھ کوشیاری کے بیانات کوسنجیدگی سے لینے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ وہ جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں وہ سیاست سے متاثر ہوکر کہہ رہے ہیں۔ یہ باتیں این سی پی کے ریاستی ترجمان مہیش تپاسے نے کہی ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ درحقیقت ان سے توقع کی جارہی تھی کہ گورنر کا عہدہ قبول کرنے کے بعد وہ ملک کے آئین کی حفاظت کریں گے اور ریاستی حکومت کی وقتاً فوقتاً رہنمائی کریں گے۔ لیکن انہوں نے حکومت سازی کی دعوت نہ دیتے ہوئے براہ راست ایکناتھ شندے ودیوندرفڈنویس کو حلف دلادیا۔ اس کا انکشاف ایک آرٹی آئی سے ہوا ہے۔
تپاسے نے کہا کہ بیشتر معاملات پر اپنے رائے ظاہر کرنے والے بھگت سنگھ کوشیاری کو اس بارے میں وضاحت کرنی چاہئے کہ حکومت سازی کے لیے دعوت نہ دیتے ہوئے کیونکر انہوں نے براہ راست حلف برداری کروادی۔ تپاسے نے کہا کہ مہاوکاس اگھاڑی حکومت کے خاتمے کے بعد شندے وفڈنویس کو حکومت سازی کے لیے دیا گیا مکتوب آخر کہا ں ہے؟ اس کا جواب کوشیاری کو دینا چاہئے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ کوشیاری وہ مکتوب عوام کے سامنے ظاہر کریں۔