سپریم کورٹ سے ہمیں انصاف ملے گا: جیتندر اوہاڈ
ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی شرد چندر پوار کی عرضداشت پر سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران مہاراشٹر میں پارٹی اور پارٹی کے نام سے متعلق جو کچھ ہو رہا ہے اس کا موازنہ پاکستان بالواسطہ طور پر پاکستان سے کیا ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ تبصرہ نہایت سنگین ہے۔ یہ باتیں آج یہاں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی شرد چندر پوار کے لیڈر و ایم ایل اے جیتندر اوہاڈ نے کیا ہے۔ وہ پارٹی دفتر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
جتیندر اوہاڈ نے کہا مہاراشٹر کی سیاست اتنی آلودہ ہو چکی ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے موقف اور فیصلوں میں اس کاموازنہ پاکستان سے کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے ہمیں پارٹی کا نام استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ درحقیقت عدالت آٹھ دنوں کی مدت دیتی ہے لیکن عدالت کوایسا محسوس ہوا کہ یہ جمہوریت کے لیے خطرناک ہے۔ اس سے ہمیں توقع پیدا ہوتی ہے۔ جتیندر اوہاڈ نے امید ظاہر کی کہ عدالت کوئی کچھ فیصلہ کرے گی۔
جتیندر اوہاڈ نے مزید کہا کہ عدالت کے مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ اجیت پوار نے جو موقف اختیار کیا ہے وہ پاکستان کی مانند ہے۔ دھرت راشٹر کے پاس سنجے نام کا کم از کم ایک مشیر توتھا لیکن صدر کو صرف لکھ کر دیا ہوا اسکرپٹ ہی پڑھنے اور اس پر عمل کرنے آتا ہے۔ صدرکو جو حکم ہے وہ بھیانک ہے۔عدالت کا کہنا ہے کہ سبھاش دیسائی کے بارے میںجو فیصلہ دیا ہے اس کے خلاف نہیں جاسکتا۔ جتیندر اوہاڈ نے کہا کہ 2دن پہلے سپریم کورٹ میں ہماری پارٹی کے حوالے سے سماعت ہوئی تھی۔ اس وقت سپریم کورٹ نے کچھ ریمارکس دیے جن کا تعلق بالواسطہ پاکستان سے تھا۔ججوں نے کہا کہ کیا یہاں پاکستان کی طرح سیاست کی جا رہی ہے؟ جتیندر آواد نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اس تبصرے سے ایک مہاراشٹرین اور ایک ہندوستانی کے طور پر بھی میں شرمندہ ہوں۔
جتیندر اوہاڈ نے کہا کہ عدالت نے سات دن کے اندرانتخابی نشانی دینے کے لیے کہا ہے۔ سپریم کورٹ کا معمول ہے کہ جب بھی کوئی پٹیشن آتی ہے تو نوٹس جاری کر دیا جاتا ہے۔ تاہم، ہمارے معاملے میں ہمیں بغیر نوٹس جاری کیے نام کے حوالے سے عبوری حکم دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس نے چندی گڑھ کے معاملے میں جو کردار ادا کیا اس نے بھی جمہوریت کو زندہ رکھا۔ ہمیں بھی عدالت سے کچھ ایسی ہی امید ہے۔