ریاست کی 175 ؍گرام پنچایتوں میں کانگریس کی جیت، بی جے پی کا دعویٰ جھوٹا

645
  1. ریاستی کانگریس صدر نانا پٹولے کا بی جے پی پرجوابی حملہ
  2. مہاراشٹر کو کمزور کرکے گجرات کی ترقی میں تعاون نہ کریں

  3. دیویندر فڈنویس! آپ مہاراشٹر کے لیڈر ہیں یا گجرات کے؟

ممبئی:بی جے پی ریاست میں ہوئے گرام پنچایت انتخابات کے نتائج کے بارے میں غلط معلومات دے کر عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔ کانگریس پارٹی کے ساتھ مہا وکاس اگھاڑی میں شامل دیگرپارٹیوں نے اس الیکشن میں زبردست جیت حاصل کی ہے اور کانگریس نے اپنی طاقت کے بل بوتے پر 175 گرام پنچایتوں میں جیت حاصل کی ہے۔یہ باتیں ریاستی کانگریس کے صدر ناناپٹولے نے کہی ہیں، وہ یہاں پارٹی دفتر میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کررہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا آئی ٹی سیل گرام پنچایت انتخابات کے نتائج کے بارے میں غلط معلومات دے رہا ہے۔سچائی یہ ہے کہ بی جے پی کا اس الیکشن میں نمبر ون ہونے کا دعویٰ سراسرجھوٹا ہے۔ بی جے پی زیادہ سیٹیں جیتنے کا دعویٰ کرکے اپنے ہاتھوں خود اپنی پیٹھ تھپتھپا رہی ہے،جبکہ ہم نے تمام اضلاع سے معلومات لی ہیں اور اس کے مطابق بات کررہے ہیں۔ پٹولے نے کہا کہ مقامی سطح سے حاصل معلومات کے مطابق اس الیکشن میں کانگریس پارٹی کو زبردست کامیابی ملی ہے۔ گرام پنچایت انتخابات کے نتائج نے ظاہر کردیاہے کہ لوگوں کا کانگریس پارٹی پر پورا بھروسہ ہے۔ گرام پنچایت کا انتخاب پارٹی کے نشان پر نہیں لڑا جاتا۔

ناناپٹولے نے کہا کہ شندے-فڈنویس حکومت ویدانتا فاکسکان معاملے میں عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔ بی جے پی لیڈر یہ کہہ کر اپنی ناکامی چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا گجرات پاکستان میں ہے۔ نائب وزیر اعلی دیویندر فڈنویس مہاراشٹر کے مفادات کے تحفظ کے بجائے گجرات میں پروجیکٹوں کی منتقلی کے حق میں نظر آتے ہیں۔ پٹولے نے کہا کہ گجرات میں سرمایہ کاری کے خلاف کوئی نہیں ہے لیکن سوال یہ ہے کہ مہاراشٹر میں لگایا جانے والا پروجیکٹ گجرات کیسے چلا گیا؟ اس کی توضیح

لوگوں کے گلے نہیں اتررہی ہے۔ اگر مہاراشٹرا کو کمزور کرکے گجرات کی ترقی میں تعاون کیا جا رہا ہے تو ہم اسے قطعی برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروجیکٹ کے لیے مہاوکاس اگھاڑی حکومت نے ویدانتا-فوکسکان کو بجلی ل، پانی، زمین سمیت کئی معاملات میں رعایتوں کا بڑا پیکیج دیا تھا۔ اس کے باوجود ایسا کیا ہوا کہ یہ پروجیکٹ مہاراشٹر کے ہاتھ سے نکل گیا۔ نانا پٹولے نے کہا کہ مرکزی حکومت کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 2014-19 کے دوران مہاراشٹر ملک میں سرمایہ کاری میں سب سے آگے تھا اور آج بھی وہی ہے۔ حالانکہ حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔

ملک کے تمام اضلاع میں ’آئین بچاؤ ریلی‘

اس پریس کانفرنس میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے درج فہرست ذات ڈویژن کے صدر راجیش للوٹھیا نے کہا کہ کانگریس لیڈر اور رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کی قیادت میں کنیا کماری سے بھارت جوڑو یاترا شروع کی گئی ہے اور اس یاترا کو عوام کا زبردست ردعمل مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس یاترا کے طرز پر اب ہر ضلع میں آئین بچاؤ ریلی نکالی جائے گی۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے درج فہرست ذاتوں کے ڈویژن کی نئی مقرر کردہ ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ قومی صدر راجیش للوٹھیا کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ اس میٹنگ کے بعد وہ میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ اس پروگرام کی قیادت کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کی۔ ان کے علاوہ اس میں سابق وزیر ورشا گائیکواڑ، مہاراشٹرا ایس سی ڈویژن کے صدر سدھارتھ ہتمبیر، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری اور شریک انچارج سمپت کمار، مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے چیف ترجمان اتل لونڈھے اور ریاستی جنرل سکریٹری دیوآنند پوار کے علاوہ پارٹی کے دیگر عہدیداران وکارکنان بڑی تعداد موجود تھے۔

اس موقع پر للوٹھیا نے کہا کہ ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے ملک کو جو آئین دیا ہے وہ بی جے پی اور آر ایس ایس کو قبول نہیں ہے۔ وہ آئین کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بی جے پی لیڈر نے آئین سے سیکولر اور سوشلسٹ الفاظ کو ہٹانے کی درخواست بھی دائر کی ہے۔ بی جے پی کا منصوبہ ملک میں مسلمانوں سے ووٹ کا حق چھیننے کاہے، لیکن بی جے پی اور سنگھ پریوار کے اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے کانگریس آئین کے محافظ کا کردار ادا کرنے جارہی ہے۔ للوٹھیا نے یہ بھی کہا کہ ہم آئین کو کمزور کرنے والوں کے خلاف مضبوطی سے کھڑے رہیں گے۔