پنڈت نہرو ماضی میں اہم تھے، حال میں بھی اہم ہیں اور مستقبل میں بھی اہم رہیں گے: پروفیسر پرشوتم اگروال
نہرو کے نظریات جب تک زندہ رہیں گے اس وقت تک آئین وجمہوریت برقرار رہے گی: مکل واسنک
نئی نسل کو پنڈت نہرو سے واقف کرانے کے لئے ریاست بھر میں پروگرام کا انعقاد کیا جائے گا: ناناپٹولے
’نہرو: کل، آج اور کل ‘کے موضوع پر پروفیسر پرشوتم اگروال کے لکچر اور ’بھارت ماتاکون؟ ‘نامی کتاب کااجراء
ممبئی:آزادی کے ایک سال کے اندر ہی سردار پٹیل نے اس بات کا برملا اظہار کردیا تھا کہ مہاتماگاندھی کے ذریعے پنڈت نہرو کو ملک کا لیڈر منتخب کیا جانا نہایت مناسب تھا۔ لیکن کچھ لوگ جھوٹا دعویٰ کر کے الجھن پیدا کرتے ہیں کہ نہرو اور پٹیل کے درمیان تنازعہ تھا۔ پنڈت جواہر لال نہرو اس وقت کے لیڈران میں سب سے آگے کا سوچنے والے ایک دوراندیش لیڈر تھے۔ پنڈت نہرو تاریخ میں اہم تھے، حال میں بھی اہم ہیں اورمستقبل میں بھی اہم رہیں گے۔ پنڈت جواہرلعل نہروسے متعلق ان خیالات کا اظہار آج یہاں پروفیسر پرشوتم اگروال نے کیا۔
آزادی کی ڈائمنڈجوبلی کی مناسب سے ملک کی تعمیروترقی میں پنڈت نہرو کی حصہ داری سے نوجوان نسل کومتعارف کرانے کی غرض سے کانگریس دفتر تلک بھون دادر میں پروفیسر پرشوتم اگروال کے لکچر بعنوان’نہرو: کل، آج اور کل‘ کاانعقاد کیا گیا تھا۔پروفیسرپرشوتم اگروال اس موقع پر خطاب کررہے تھے۔اس موقع پراسٹیج پر آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری مکل واسنک، ریاستی صدر نانا پٹولے، سابق وزیراعلیٰ پرتھوی راج چوہان، ریاستی ورکنگ صدر نسیم خان،شیواجی راؤ موگھے، چندرکانت ہنڈور،ایم ایل اے پرینیتی شندے، آل انڈیا کانگریس کمیٹی سکریٹری اورمہاراشٹر کے نائب انچارج اشیش دووا، سابق وزیر سریش شیٹی، الہاس دادا پوار اور ریاستی جنرل سکریٹری اور ترجمان اتل لونڈھے موجود تھے۔
پروفیسر اگروال نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ آج نہرو کے بارے میں بات کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستانی ثقافت اور تہذیب کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔’آئیڈیا آف انڈیا‘ چھوڑ کر ’دوسری آئیڈیا آف انڈیا‘ تھوپی جارہی ہے۔ ہم اس آئیڈیا کی مخالفت نہیں کررہے ہیں لیکن یہدوسری آئیڈیا ملک کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ نہرو نے اپنی ڈسکوری آف انڈیا اور سوانح عمری میں ’بھارت ماتا کی جئے‘ کاذکر کیا ہے، لیکن آج’بھارت ماتا کی جئے‘ کودھمکی کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔پروفیسر پرشوتم اگروال نے کہا کہ مہاتما گاندھی، سبھاش چندر بوس، سردار پٹیل کو بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ میں موضوع ِبحث بنایاجاتا ہے، لیکن پنڈت نہرو پر کو اس طرح موضوع بحث نہیں بنایا جاتا۔نہرو کے بارے میں غلط باتیں مشتہر کی جاتی ہیں اور انہیں منفی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ پنڈت نہرواس بات سے واقف تھے کہ اس ملک کو سب سے بڑا خطرہ کمیونزم نہیں بلکہ کمیونلزم یعنی کہ فرقہ واریت سے ہے۔ پنڈت جواہر لال نہرو نے درمیانی راستے کا انتخاب کیا کیونکہ ہندوستانی تہذیب کا جوہر صحیح اوردرمیانی راستہ ہی ہے۔ تنوع میں وحدت محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ہماری طرز زندگی ہے۔ بابائے قوم مہاتما گاندھی، پنڈت جواہر لال نہرو، سردار پٹیل اور سبھاش چندر بوس کے درمیان یقینی طور پرنظریاتی اختلافات تھے لیکن وہ اختلافات اقتدار کے لیے نہیں تھے۔سچائی یہ ہے کہ بڑے لیڈروں کے درمیان کے اختلافات بودے لوگوں کی سمجھ سے بالاتر ہوتے ہیں۔ہندوستان کی آزادی سامراج کے خاتمے کا آغاز تھا اور یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بہت سے ممالک ہندوستان کی آزادی کے بعد آزاد ہو گئے۔ آج بھی اگر آپ دوسرے ممالک میں جاتے ہیں تو ہندوستان کو گاندھی و نہرو کے ملک کے طور پر شناخت کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں جب ہمارے وزیر اعظم نے امریکہ کا دورہ کیا تو صدر جو بائیڈن نے اپنی تقریر کے آغاز میں ہی مہاتما گاندھی اور نہرو کا ذکر کیا۔ اس پر ہمارے وزیراعظم نے سرہلایا لیکن اپنے ملک واپس آتے ہی انہوں نے گاندھی ونہرو کے بارے میں جھوٹاپرچار شروع کردیا۔ دراصل یہ لوگ جھوٹی باتوں کوہی تشہر کرتے ہیں۔ اس موقع پر پروفیسر پرشوتم اگروال نے لوگوں سے یہ اپیل بھی کی کہ آپ کچھ پڑھیں یا نہ پڑھیں لیکن نہرو کی ڈسکوری آف انڈیا ضرور پڑھیں۔
اس موقع پر ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ ’بھارت ماتا کون ہے؟‘ جو لوگ یہ نہیں جانتے وہی اس بھارت کو‘بھارت ماتا کی جئے‘ کہہ کر بیچ رہے ہیں۔ پروفیسر پرشوتم اگروال نے پنڈت نہرو کے خیالات اور ہندوستان کی تعمیر وترقی میں ان کی حصہ داری کی اہمیت کو نہایت سادہ انداز میں ہمارے سامنے پیش کیا۔ اس طرح کے پروگرام ریاست بھر میں منعقد کئے جائیں گے تاکہ نوجوان نسل پنڈت نہرو سے واقف ہوسکے۔نہرو سے متعلق اس طرح وضاحت کے ساتھ اگر نوجوان نسل واقف ہوگی تو جوجھوٹی تشہیر کی جارہی ہے اس کا اثر خود بخود زائل ہوجائے گا۔
؎اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مکل واسنک نے کہا کہ جب سے نانا پٹولے ریاستی صدر بنے ہیں، کارکنوں میں توانائی اور جوش وخرش صاف طور سے دکھائی دیتا ہے۔ وہ ایک جارح لیڈر ہیں اور کانگریس کے تنظیمی امور کو مضبوط کرنے کے طریقے پر خاص زور دیتے ہیں۔ مہاراشٹر سنتوں کی سرزمین ہے، بہادروں کی سرزمین ہے، انقلاب کی سرزمین ہے، شیواجی کی سرزمین ہے، ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کی سر زمین ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں سے ’کوئیٹ انڈیا موومنٹ‘ شروع ہوئی اور جہاں سے ’آزادی میرا پیدائشی حق ہے اور وہ میں حاصل کرکے ہی رہونگا‘کا نعرہ اٹھا۔انہوں نے مودی کا نام نہ لیتے ہوئے کہا کہ 2014 کے انتخابات میں لوگوں کوگمراہ کرکے اقتدار میں آنے والے لیڈر نہیں بلکہ ولن نکلے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کچھ لوگ پنڈت نہرو کو ایک بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں، لیکن جواہر لال نہرو کے خیالات جب تک ہندوستان میں زندہ رہیں گے، آئین و جمہوریت بھی برقرار رہے گی۔ آج ملک، جمہوریت و آئین کو خطرہ لاحق ہے۔میں اپیل کرتا ہوں کہ اس صورت حال کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے کانگریس کے نظریات اور تحریک آزادی میں اس کی حصہ داری کو عوام تک پہونچائیے۔
سابق وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوان نے اس موقع پر پروفیسر پرشوتم اگروال کی کتاب’بھارت ماتا کون؟‘ پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں اس کتاب کے بارے میں مختصر معلومات بھی دی۔ اس پروگرام میں تعارفی تقریر سینئر لیڈر اورسابق ایم ایل اے الہاس پوار نے کی جبکہ جنرل سیکرٹری اور چیف ترجمان اتل لونڈھے نے نظامت کی اور ونائک دیشمکھ نے شکریہ ادا کیا۔