کاشی کے مقدس منی کرنیکا گھاٹ کو مسمار کر دیا گیا: نانا پٹولے
خود کو ہندوؤں کا محافظ کہنے والی مودی–یوگی حکومت کے دور میں ہی کاشی کے سیکڑوں قدیم مذہبی مقامات کو مسمار، یہ کیسا ہندوتوا ہے؟
ممبئی: کانگریس کے سابق ریاستی صدر اور رکنِ اسمبلی نانا پٹولے نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت نے تاریخ اور مذہبی ورثے کے احترام کے تمام دعووں کو پامال کرتے ہوئے کاشی میں واقع مقدس منی کرنیکا گھاٹ کو مسمار کر دیا ہے، جو راج ماتا اہلیہ بائی ہولکر نے تعمیر کروایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اہلیہ بائی ہولکر نے عدل، رواداری اور عوامی فلاح کی بنیاد پر حکومت کی اور کاشی وشوناتھ، سومناتھ سمیت کئی عبادت گاہوں کی از سر نو تعمیر میں اہم کردار ادا کیا۔ آج انہی کی یادگار کو نقصان پہنچانا نہ صرف دھن گر سماج بلکہ پورے ملک کے لیے ایک افسوسناک مثال ہے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ کاشی صرف ایک شہر نہیں بلکہ برصغیر کی ایک قدیم تہذیبی اور روحانی علامت ہے، جہاں صدیوں سے مختلف مذاہب اور روایتوں کے ماننے والوں کا آنا جانا رہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اسی کاشی سے تین مرتبہ منتخب ہوئے، مگر ترقی کے نام پر اسی شہر میں قدیم مذہبی مقامات کو نقصان پہنچایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ منی کرنیکا گھاٹ کو ہندو روایت میں خاص اہمیت حاصل رہی ہے، مگر کسی بھی حکومت کو یہ اختیار نہیں کہ وہ مذہبی یا تاریخی ورثے کو مٹا دے۔ یہ طرزِ عمل مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے، چاہے وہ کسی بھی مذہب یا سماج سے تعلق رکھتے ہوں۔
نانا پٹولے نے مزید کہا کہ اس معاملے پر حکومت کی جانب سے وضاحتیں گمراہ کن ہیں۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ کوئی مسماری نہیں ہوئی اور جو مناظر سامنے آئے وہ اے آئی کے ذریعے بنائے گئے ہیں، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس بتائے جا رہے ہیں۔ ہولکر خاندان کے افراد نے خود کاشی جا کر صورتِ حال کا جائزہ لیا ہے اور حکومت کو تحریری طور پر آگاہ کیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ خود بھی کاشی جا کر حقائق دیکھیں گے اور اس اقدام کے خلاف پرامن اور جمہوری طریقے سے احتجاج کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی حکومت کو ترقی کے نام پر مذہبی ہم آہنگی اور تاریخی ورثے سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ نانا پٹولے نے زور دے کر کہا کہ کانگریس کا مؤقف کسی ایک مذہب یا سماج کے خلاف نہیں بلکہ تمام شہریوں کے تاریخی، مذہبی اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے ہے۔ ملک کی خوبصورتی اسی میں ہے کہ ہر مذہب، ہر ثقافت اور ہر طبقے کے ورثے کا احترام کیا جائے، اور اسی اصول کے تحت کانگریس اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔
ریاستی امور پر بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس بیرونی سرمایہ کاری کے نام پر عالمی اجلاسوں میں شرکت کر رہے ہیں، مگر زمینی سطح پر بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے، ریاست مالی بحران سے دوچار ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ٹھیکیداروں کے واجبات ادا نہیں ہو پا رہے۔ اگر واقعی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری آ رہی ہے تو عوامی زندگی میں اس کے مثبت اثرات کیوں نظر نہیں آ رہے؟ انہوں نے کہا کہ ترقی کے دعوے اور عوام کی حقیقت میں واضح فرق ہے، جس کا جواب حکومت کو دینا ہوگا۔