MPCC Urdu News 2 April 21

ریاست میں 18سال کی عمر سے زائد تمام لوگوں کو کورونا ویکسین دی جائے: ناناپٹولے

عمر کی حد میں نرمی لانے کے لیے ریاستی حکومت مرکز سے بات کرے

ممبئی: ریاست میں کورونا کا پھیلاؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ شہری علاقوں کے ساتھ ہی اب دیہی علاقوں میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ کورونا کے مریضوں میں 20سے 45سال کے نوجوانوں کی خاصی تعداد پائی جارہی ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملازمت وکاروبار کے سلسلے میں یہ نوجوان باہر جاتے ہیں جس کی وجہ سے یہ بڑی تعداد میں کورونا سے متاثر ہورہے ہیں۔ یہ صورت حال پیشِ نظر رکھتے ہوئے 18سال سے زائد تمام لوگوں کو کورونا کی ویکسین کی دی جائے۔ یہ مطالبہ مہاراشٹرپردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے کیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ریاست میں اگر ایک جانب کورونا کا بحران بڑھتا جارہا ہے تو دوسری جانب ٹیکہ کاری کی مہم بھی موثر طریقے سے جاری ہے۔ یکم اپریل سے 45سال سے زائد عمر کے لوگوں کو ٹیکہ لگانا شروع کردیا گیا ہے جو نہایت بہتر فیصلہ ہے۔ لیکن فی الوقت نوجوانوں میں کورونا کے اثرات جس تیزی سے بڑھ رہے ہیں وہ تشویشناک ہے جس پر فوری طور پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ نوجوانوں کو بھی کورونا کا ٹیکہ لگایا جائے جس کے لیے ٹیکہ کاری کے لیے عمر کی جو حد مقرر کی گئی ہے اس میں نرمی لائی جائے۔ نوجوانوں کو ٹیکہ لگانے کے لیے ریاستی حکومت کو مرکزی حکومت سے 18سال کی عمر سے زائد لوگوں کو ٹیکہ لگانے کی اجازت حاصل کرتے ہوئے ریاست بھر میں وسیع پیمانے پر ٹیکہ کاری کی مہم شروع کرنی چاہیے۔ ناناپٹولے نے کہا کہ کوورنا کی تبدیل شدہ صورت نہایت خطرناک ہے اور اس کے پھیلاؤ کی رفتار بھی کافی تیز ہے۔ فروری سے کورونا متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہونا شروع ہوا جس کے بعد سے 20سے 45سال کی عمر کے نوجوانوں میں اس کے اثرات نظر آنے شروع ہوگئے۔ یہ نوجوان ملازمت ودیگر کاموں کی وجہ سے گھر سے باہر جاتے ہیں اور کورونا سے متاثر ہوکر گھر کے دیگر افراد کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔ اس لیے اب 18سال کی عمر سے زائد لوگوں کو کورونا کا ٹیکہ لگانا ضروری ہے۔ اس عمر کے تمام لوگوں کو اگر کورونا کا ٹیکہ لگایا جائے تو کورونا کی زنجیر توڑنا آسان ہوگا۔ ملک میں خاطر خواہ مقدار میں کورونا ویکسین کی دستیابی کے باوجود محض عمر کی حد کی وجہ سے نوجوانوں کو ویکسین نہ دیا جانا افسوسناک ہے۔ جس تیز رفتاری کے ساتھ کورونا کے مریضوں میں اضافہ ہورہا ہے اس سے زیادہ تیزرفتاری کے ساتھ ٹیکہ کاری کرنی چاہیے۔

کانگریس کے ریاستی صدر نے مزید کہا کہ مہاراشٹر میں کورونا ویکسین کی مسلسل اور اشد ضرورت کے باوجود مرکزی حکومت نہایت مقدار میں اس کی فراہمی کررہی ہے۔ دوسری جانب مرکزی حکومت پاکستان سمیت دیگر ممالک کو مفت ویکسین فراہم کررہی ہے۔ مہاراشٹر میں کورونا کے مریضوں کی تعداد ملک کی دیگر ریاستوں سے زیادہ ہے اس لیے صورت حال قابو سے باہر جانے سے قبل بھرپور مقدار میں ویکسین فراہم کی جائے۔ اسی کے ساتھ عوام بھی کورونا سے بچاؤ کے حفاظتی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔ ماسک پہنیں، صابن سے اچھی طرح سے ہاتھ دھوئیں وجسمانی فاصلہ برتیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں پہلی بار کوئی وبا نہیں پھیلی ہے۔ کانگریس کے دورِ حکومت میں بھی مہاماری کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اس کے لیے اس وقت کی کانگریس حکومت نے مناسب حکمت عملی اپناتے ہوئے اس پر نہایت کامیابی سے قابو پایا تھا۔ پولیو کی ٹیکہ کاری مہم نہایت کامیابی سے چلائی گئی۔ بس اسٹینڈ، ریلوے اسٹیشن ودیگر عوامی مقامات بڑے پیمانے پر ٹیکہ کاری کی مہم چلاکر اس پر قابو پانے میں کامیابی حاصل کی گئی۔ اگر پولیو پر قابو پایا جاسکتا ہے تو کورونا پر بھی قابو پانا ممکن ہے۔ اگر ضرورت ہے تو مرکزی حکومت کے پختہ فیصلے اور بڑے پیمانے پر وتمام لوگوں کو ٹیکہ لگانے کی۔ مرکزی حکومت اگر ریاستی حکومتوں کو بڑے پیمانے پر ویکسین کی فراہمی کی تو کورونا کی وبا پر یقینی طور پر قابو پایاجاسکتا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading