اہلِ ممبئی نے کانگریس پر جو اعتماد ظاہر کیا ہے ہم اس پر پورا اتریں گے

ممبئی میونسپل کارپوریشن میں شہری مسائل کو مضبوطی سے اٹھائیں گے: ورشا گائیکواڑ
کانگریس پارٹی میں جمہوریت ہے، ہر شخص کو اپنی بات رکھنے کا حق حاصل ہے، اگر کوئی تنقید کرے گا تو اس پر فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی
ممبئی میں کانگریس کے نو منتخب کونسلروں کا ممبئی کانگریس کی صدر ورشا گائیکواڑ کے ہاتھوں اعزاز

ممبئی: ممبئی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں کانگریس پارٹی کے 24 کونسلر منتخب ہوئے ہیں۔ ان نو منتخب کونسلروں کا اعزاز ممبئی کانگریس کی ریاستی صدر اور رکنِ پارلیمنٹ ورشا گائیکواڑ نے کیا۔ اس موقع پر سابق وزیر و رکنِ اسمبلی اسلم شیخ، رکنِ اسمبلی امین پٹیل، ممبئی کانگریس کے ترجمان سریش چندر راج ہنس اور پارٹی کے دیگر عہدیداران موجود تھے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ورشا گائیکواڑ نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں ایک طرف بے تحاشا دولت استعمال کی گئی، بڑے پیمانے پر پیسوں کی تقسیم ہوئی اور اپوزیشن کو کھلی دھمکیاں دی گئیں۔ سرکاری مشینری حکمراں پارٹی کے لیے کام کرتی دکھائی دی، جبکہ دوسری طرف عوامی طاقت تھی۔ ایسے انتہائی ناموافق و نامساعد حالات میں بھی ممبئی کے عوام نے کانگریس پر اعتماد ظاہر کیا اور 24 کونسلر منتخب کئے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ کانگریس کی تعداد میونسپل کارپوریشن میں کم ہے، لیکن یہ منتخب کونسلر ممبئی والوں کے بنیادی مسائل پر ایوان میں پوری قوت کے ساتھ آواز اٹھائیں گے اور عوامی مسائل کے حل کی سنجیدہ کوشش کریں گے۔ کانگریس کا مقصد ممبئی کو بہتر سڑکیں فراہم کرنا، صاف اور وافر مقدار میں پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانا، ٹریفک جام سے نجات دلانا، بیسٹ بس خدمات کو بہتر بنانا اور ممبئی کو آلودگی سے پاک شہر بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن کے مختلف محکموں میں جاری نجکاری کے عمل پر بھی کانگریس کے کونسلر گہری نظر رکھیں گے اور بدعنوانی کے خلاف مؤثر آواز بلند کی جائے گی۔
ایک سوال کے جواب میں ورشا گائیکواڑ نے کہا کہ بی جے پی میں آمریت ہے، جبکہ کانگریس پارٹی میں جمہوری روایت مضبوط ہے۔ کانگریس میں ہر شخص کو اپنی رائے رکھنے کا حق حاصل ہے۔ اگر کوئی تنقید کرتا ہے تو اس پر فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی۔ پارٹی نے انہیں ممبئی کانگریس کی ذمہ داری دی ہے اور کارکنان کا ان پر پورا اعتماد ہے۔ آنے والے وقت میں ممبئی میں کانگریس پارٹی کی تنظیم کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading