اسمبلی میں کانگریس کے ریاستی صدر اور ایم ایل اے نانا پٹولے نے کا مطالبہ
ممبئی:ملک کی عوام پہلے سے ہی مہنگائی سے جوجھ رہی ہے کہ وہیں اب پٹرول وڈیژل کے دام آسمان چھونے لگے ہیں۔ ایندھن کی قیمتوں میں اس اضافے کی وجہ سے عام لوگوں کے ساتھ کسانوں کو بھی زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایسے میں ریاستی حکومت کو ڈیزل پر سبسڈی دینے پر غور کرنا چاہیے۔ کانگریس کے ریاستی صدر اور ایم ایل اے نانا پٹولے نے جمعرات کو اسمبلی کے مانسون اجلاس میں یہ مسئلہ اٹھایا۔
انہوں نے کہا کہ زرعی کاموں میں ٹریکٹر کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر کاموں کے لیے بھی ڈیزل کا استعمال ضروری ہوتاہے۔ ڈیزل کی موجودہ قیمت بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے کسان اسے خریدنے میں بہت مشکلات جھیل رہے ہیں۔ پٹولے نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسانوں کو ڈیزل پر سبسڈی دینے پر غور کرے تاکہ انہیں راحت مل سکے۔اسمبلی میں بحث میں حصہ لیتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ جی ایس ٹی کا دائرہ بڑھا کر مرکزی حکومت نے کئی ضروری اشیاء پر بھی ٹیکس لگادیا ہے۔ اس کی وجہ سے عام لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔گوکہ ریاستی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر کچھ ٹیکس کم کیا ہے لیکن پھر بھی پڑوسی ریاستوں کے مقابلے مہاراشٹر میں قیمتیں زیادہ ہیں۔ مرکزی حکومت نے اسکول میں کام آنے والی اشیاء بشمول دودھ، دہی، پنیر، آٹا پر بھی جی ایس ٹی لگا دیا ہے۔ شہری علاقوں میں ماہانہ 15000 روپے کمانے والے خاندان کے لیے بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے زندہ رہنا مشکل ہو گیا ہے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت کو پٹرول اور ڈیزل پر ٹیکس کم کرنے کے ساتھ کسانوں کو سبسڈی دینے کے بارے میں بھی جلد فیصلہ کرنا چاہئے تاکہ عام لوگوں کے ساتھ ساتھ کسانوں کو بھی راحت مل سکے۔