وشال گڑھ میں تجاوزات کے نام پر فساد برپا کرنے کی سازش، حکومت فسادیوں کے خلاف سخت کارروائی کرے: کانگریس

  • اسمبلی انتخابات سے قبل ریاست میں مذہبی منافرت پیدا کرکے سیاسی پولرائزیشن کی کوشش کی جا رہی ہے
  • گجا پور فسادات کو الگ رنگ دینے کی وزیر داخلہ کی کوشش، ان کے بیان سے فسادیوں کے حوصلے بلند ہوں گے

  • سیاسی مفادات کے لیے مذہب کے نام پر سماجی ہم آہنگی کو بگاڑنے کی کوششیں ہرگز برداشت نہیں کی جائیں گی

ممبئی: راجرشی شاہو مہاراج نے تمام ذاتوں اور مذاہب کو ساتھ لے کر حکومت کی، اسی لیے انہیں لوک راجا کہا جاتا ہے۔ لیکن سماجی ہم آہنگی کو بگاڑنے کا گناہ ان کے خود کی جگہ اور ان کے نام پر کیا جا رہا ہے۔ یہ صرف سیاسی فائدے کے لیے ہے جو نتہائی افسوس ناک ہے۔ وشال گڑھ تشدد کا معاملہ مہاراشٹر کے چہرے پر سیاہ دھبہ بن گیا ہے۔ وشال گڑھ میں تجاوزات کے نام پر گجا پور گاؤں میں مسلمانوں کے پر حملہ کیا گیا اور ان کے مکانات، دکانوں و املاک کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے سے تحریری طور پر مطالبہ کیا ہے کہ فساد پھیلانے والوں سے سختی سے نمٹا جائے۔

وشال گڑھ کے تعلق سے کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے کی طرف سے وزیر اعلیٰ کو لکھے گئے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ مہاراشٹر سادھو و سنتوں، مفکروں اور سماجی مصلحوں کی سرزمین ہے۔ مہاراشٹر کو ایک ترقی پسند ریاست کے طور پر جانا جاتا ہے جس کی بنیاد شیو، شاہو، پھلے و امبیڈکر کے نظریات پر ہے۔ مگر گزشتہ چند دنوں سے حکمراں پارٹی کے کچھ لیڈران اپنے سیاسی فائدے کے لیے اشتعال انگیز بیانات دے کر ریاست میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان دراڑ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسمبلی انتخابات سے قبل جان بوجھ کر اس طرح کا مذہبی تنازعہ کھڑا کرنا انتہائی خطرناک ہے جو مہاراشٹر کی شبیہ کو داغدار کرتا ہے۔

کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ کسی کے ذہن میں کوئی شک نہیں ہے کہ وشال گڑھ قلعہ سے تجاوزات کو ہٹایا جانا چاہیے۔ چھترپتی شیواجی مہاراج کے قلعوں کے ورثے کو محفوظ کیا جانا چاہیے۔ تجاوزات کا یہ معاملہ عدالت میں ہے۔ سماعت کے دوران حکومت کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت وقت ضائع کر رہی ہے۔ دریں اثناء اچانک کچھ ایسے اقدامات سے تجاوزات کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ 14 تاریخ کو وشال گڑھ میں تجاوزات کے نام پر قلعہ سے 4 کلومیٹر دور گاجا پور گاؤں میں ایک مذہب کے لوگوں کے گھروں پر حملہ کیا گیا اور انہیں مارا پیٹا گیا۔ یہ انسانیت کو شرمسار کرنے والا واقعہ ہے۔ وشال گڑھ پر تجاوزات اور گاجا پور گاؤں میں فساد دو الگ الگ باتیں ہیں۔

وزیر اعلیٰ کو لکھے گئے خط میں نانا پٹولے نے کہا ہے کہ اس معاملے میں وزیر داخلہ دیویندر فڑنویس کا بیان ریاست میں امن قائم کرنے یا فسادیوں کے خلاف کارروائی کرنے سے متعلق نہیں ہے، بلکہ ایک خاص مذہب کو ڈرانے اور اس معاملے کو الگ رنگ دینے کے لیے ہے۔ وزیر داخلہ کا بیان فسادیوں کی حمایت کرنے جیسا ہے، جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔ 14 جولائی کو ہونے والا تشدد نہ صرف حکومت اور انتظامیہ کی ناکامی ہے بلکہ انتظامیہ کے تعاون سے سرزد ہونے والا جرم بھی ہے۔

پٹولے نے کہا کہ چھترپتی سنبھاجی راجے نے وشال گڑھ سے تجاوزات ہٹانے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد ہزاروں نوجوان وشال گڑھ پہنچ گئے۔ انتظامیہ اور پولیس نے مناسب احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر ان لوگوں کی مدد کرے جن کا گجا پور گاؤں میں نقصان ہوا ہے اور گاؤں والوں کو اطمینان دلانا چاہئے جو بہت زیادہ ڈرے ہوئے ہیں۔ حکومت اس سلسلے میں مکمل تحقیقات کرے اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کرے۔ ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے ریاست میں سماجی ہم آہنگی اور امن کو برقرار رکھنے کے لیے تشدد سے سختی سے نمٹنا وزیر اعلیٰ کی ذمہ داری ہے۔ پٹولے نے کہا کہ سیاسی فائدے کے لیے مذہب کے نام پر ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کرنے والوں کو کبھی برداشت نہیں کیا جانا چاہئے۔

Letter to Hon. Chief Minister 17 July 24.pdf

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading