راجستھان میں کانگریس کی حکومت گرانے کے لیے مہاراشٹر میں بی جے پی رہنماؤں نے ممبئی سے 500 کروڑ روپئے اکٹھے کیے

ممبئی:مہاراشٹرا میں بی جے پی رہنماؤں نے راجستھان سے ایم ایل اے خرید کر کانگریس حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے بلڈروں اور تاجروں سے 500 کروڑ روپئے اکٹھے کیے ہیں۔ یہ الزام مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری اور ترجمان سچن ساونت نے لگایا ہے۔

انہو نے کہا ہے کہ مرکز کی بی جے پی حکومت اپنے اقتدار ، سی بی آئی ، ای ڈی اورمحکمہ انکم ٹیکس کا استعمال کرکے مختلف ریاستوں میں حزب اختلاف کی حکومتوں کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور مہاراشٹر میں بی جے پی کے لیڈران اس کے لئے استعمال ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں بی جے پی لیڈران کرناٹک میں کانگریس جے ڈی ایس حکومت کا تختہ پلٹنے کے لئے بھی استعمال ہوئے تھے۔ کرناٹک کے ایم ایل اےز کو بی جے پی حکومت کے دوران ممبئی کے ایک ہوٹل میں پولیس تحویل میں رکھا گیا تھا۔مہاراشٹر کی عوام اس بات سے واقف ہے کہ مہاراشٹر میں بی جے پی کے ایک سینئر وزیر کی رہائش گاہ پر اس سلسلے میں میٹنگیں ہورہی تھیں۔ اس بات بھی مہاراشٹر کے لیڈران نے بلڈر وں اور کاروباریوں سے 500کروڑ روپئے جمع کرکے راجستھان کی حکومت گرانے کے لیے روانہ کیا ہے، جس کی اطلاع ہمیں نہایت باوثوق ذرائع سے ملی ہے اوراس ضمن میں ہم ریاست کے وزیرداخلہ انل دیشمکھ سے بات کی ہے۔

وزیرداخلہ نے اس تعلق سے اپنے محکمہ سے سے معلومات حاصل کی ہے۔ راجستھان حکومت کے اسپیشل آپریشن گروپ کے ذریعے کی گئی کارروائی اور پائے گئے آڈیو ٹیپ میں بی جے پی کی جانب سے بڑے پیمانے پر ایم ایل ایز کی خریدوفروخت کی سچائی اجاگر ہورہی ہے۔

اس سنگین معاملے میں وزیرداخلہ انل دیشمکھ سے ہم نے توجہ دینے کی درخواست کی ہے اور انہوں نے یہ منظور بھی کیا ہے۔ سچن ساونت نے مطالبہ کیا ہے کہ جمہوریت میں اس طرح کی قبیح حرکت کرنے والے مہاراشٹرمیں بی جے پی کے ماسٹر مائند کو تلاش کیا جانا چاہئے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading