ریاستی کانگریس صدر نانا پٹولے کا بی جے پی پر شدید حملہ
ممبئی:بھارتیہ جنتا پارٹی ای ڈی، سی بی آئی و انکم ٹیکس جیسی مرکزی ایجنسیوں کی مدد سے اپوزیشن کومسلسل ڈرانے کی کوشش کررہی ہے۔گزشتہ سات آٹھ سالوں میں بی جے پی لیڈروں کے بیانات پرنظر ڈالیں تو وہ حزبِ مخالف کو ڈرانے اور ان کی آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے کارروائیوں کی دھمکیاں دیتے نظر آتے ہیں۔جبکہ سچائی یہ ہے کہ دہشت گردی اوربلیک میلنگ ہی اب بی جے پی کا اصل کاروبار بن گیا ہے لیکن یہ جمہوریت میں زیادہ دنوں چلنے والا نہیں ہے۔بی جے پی پر یہ شدید حملہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے کیا ہے۔
مانسون اجلاس کے پہلے دن بدھ 17 اگست کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ مرکز میں برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی دہشت، خوف اور بھوک کا سہارا لے کر مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کا غلط استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے مظالم زیادہ دیر تک نہیں چلتے اور ایک دن بی جے پی کواپنی اوقات نظر آجائے گی۔پٹولے نے کہا کہ ہمارے ملک کے لوگ ظالم وجابر انگریزوں سے نہیں ڈرے تھے،لیکن اب آزاد ہندوستان میں بی جے پی انگریزوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسی طرز پر حکومت کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن اب ایسا ممکن نہیں ہے۔ یہی طریقہ بی جے پی نے مہاراشٹرسے مہاوکاس اگھاڑی حکومت کا تختہ پلٹنے کے لیے بھی اپنایا تھا۔ پٹولے نے کہا کہ بی جے پی کی طرف سے کارروائی کی کتنی ہی دھمکیاں دی جائیں، مہاوکاس اگھاڑی کے لیڈر اس طرح کی دھمکیوں سے نہیں ڈریں گے۔ اپوزیشن پارٹی ہونے کے ناطے ہم عوام کے مسائل اٹھا رہے ہیں، لیکن حکومت کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ اس لیے اب اپوزیشن کی آواز کو دبانے کے لیے مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کے نام پر اپوزیشن کو دہشت زدہ کرنے کی سیاست کی جا رہی ہے۔ نانا پٹولے نے یہ بھی کہا کہ اب ریاست میں ای ڈی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے۔
ودربھ کے بارش سے متاثرہ اضلاع میں فوری مدد پہنچائی جائے
نانا پٹولے نے کہا کہ وین گنگا ندی کے اوور فلو کی وجہ سے بھنڈارا ضلع میں زندگی ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے۔ شیوارت میں پانی بھر جانے کی وجہ سے دھان کی فصل سڑنے کے دہانے پر ہے۔ موہاڈی،لاکھندور، پونی تعلقہ کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ پٹولے نے اسمبلی میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ یہاں فوری راحت پہنچائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے گوندیا، بھنڈارا، گڈچرولی علاقوں میں زبردست بارش کی وجہ سے لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ کسانوں کی فصلوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے جبکہ کئی لوگوں کے مکانات گر گئے ہیں۔کسان اس وقت زبردست مشکلات میں ہیں۔ حکومت کو اس پرفوری توجہ دیتے ہوئے راحت پہنچانا چاہئے۔