MPCC Urdu News 16 May 23

شندے فڈنویس حکومت نے پرم ویرسنگھ کو ایم وی اے حکومت کو گرانے میں مدد کے انعام کے طور پربحال کیا ہے: ناناپٹولے

فڈنویس نے پرم ویر سنگھ کو مہرہ بناکر مہاراشٹر کوبدنام کیا

ممبئی:کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا ہے کہ بی جے پی نے ایک سازش کے تحت مہاوکاس اگھاڑی حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ اس کے لیے ممبئی کے سابق پولیس کمشنر پرم ویر سنگھ کو مہرے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ پٹولے نے کہا کہ اینٹیلیا دھماکہ خیز مواد کی سازش کے علاوہ اس وقت کے وزیر داخلہ پر مہاوکاس اگھاڑی حکومت کو بدنام کرنے کے لیے 100 کروڑ روپے کی وصولی کا جھوٹا الزام لگایا گیا۔ اس سازش میں مدد کرنے کے لیے اب انعام کے طور پر معطل شدہ پولیس آفیسر پروم ویرسنگھ کو شندے فڈنویس حکومت نے دوبارہ بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ اس مدد کے بدلے میں شندے-فڑنویس حکومت نے قانونی طریقہٴ کا رکو بالائے طاق رکھتے ہوئے پروم ویرسنگھ کی معطلی کو منسوخ کرکے دوبارہ و سروس میں واپس لوٹنے میں مدد کی ہے۔

پٹولے نے کہا کہ سی اے ٹی کے حکم میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ بامبے ہائی کورٹ نے سی بی آئی کو واضح حکم دیا تھا کہ وہ پرم ویر سنگھ کے خلاف چارج شیٹ داخل کرکے محکمہ جاتی تحقیقات کرے۔ لیکن شندے فڑنویس حکومت نے ایسا نہیں کیا۔ پرم ویر سنگھ کو معطل کر دیا گیا تھا لیکن ان کی معطلی کا ہر تین ماہ بعد جائزہ لیا جانا تھا اور اس میں توسیع کی ضرورت تھی۔لیکن شندے-فڑنویس حکومت نے پرم ویر سنگھ کے خلاف نہ تو محکمہ جاتی انکوائری کرائی اور نہ ہی ان کی معطلی میں توسیع کی۔ اسی لیے سی اے ٹی ٹریبونل کے سامنے سماعت میں ریاستی حکومت کے موقف سے پرم ویر سنگھ کو راحت ملی۔

پٹولے نے کہا کہ جب میں اسمبلی کا اسپیکر تھا تو دہلی میں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے ہوئی ملاقات میں انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں نے انہیں پرم ویر سنگھ کی کرپشن کی فائل دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ افراد کی جانب سے اس فائل کی کاپی وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو بھی دی گئی تھی۔ اس کے بعد پرم ویر سنگھ مجھ سے ملنے آئے۔ اس وقت جب میں نے خود ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے محکمے میں ایسے کام ہوتے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعظم کے دفتر، وزیر اعلیٰ کے دفتر اور لوک سبھا اسپیکر کے دفتر کو پرم ویر سنگھ کی بدعنوانی کے بارے میں پوری طرح علم تھا، لیکن اس کے باوجود بی جے پی حکومت نے ان کے خلاف کوئی کارروائی تو دور خانہ پری کے لیے انکوائری تک نہیں کروائی۔

کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ انٹیلیا کے قریب دھماکہ خیز مواد سے بھری کار کھڑی کرنا، وزیر داخلہ انل دیشمکھ پر 100 کروڑ روپے کی وصولی کا جھوٹا الزام لگانا، یہ سب مہا وکاس اگھاڑی کو بدنام کرنے کے لیے کیا گیا تھا اور اس کے پیچھے اس وقت کے اپوزیشن لیڈر دیویندر فڈنویس کا ہاتھ تھا۔ میں نے یہ بات اسمبلی میں بار بار کہی ہے اور اب یہ واضح ہوگیا ہے۔

پٹولے نے کہا کہ سی اے ٹی کے حکم کو دیکھتے ہوئے پرم ویر سنگھ کو کلین چٹ نہیں دی گئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ شندے-فڈنویس حکومت نے جان بوجھ کر کیس کو کمزور کیا ہے اور تکنیکی مشکلات کی بنیاد پر پرم ویر سنگھ کو بچانے میں مدد کی ہے۔ پرم ویر سنگھ کے معاملے میں شندے فڑنویس حکومت کی گندی ذہنیت ریاست کے لوگوں کے سامنے آ گئی ہے۔ پھلے، شاہو، امبیڈکر کے ترقی پسند نظریات کی حامل اس حالت میں سیاست کبھی بھی اتنی نچلی سطح پر نہیں گئی تھی۔ شندے-فڑنویس حکومت نے اس فیصلے سے مہاراشٹر کو بدنام کرنے کا گناہ کیا ہے۔

MPCC Urdu News 16 May 23.docx