بیڑ اور پربھنی کے واقعات پر عوام میں شدید ناراضگی، حکومت جواب دے: نانا پٹولے

پربھنی میں سوم ناتھ سوریہ ونشی کی موت حراستی تشدد سے ہوئی، پوسٹ مارٹم رپورٹ سے انکشاف، حکومت کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائےسابق وزیر رویندر چوہان کے بنگلے پر 9 کروڑ کی وصولی کے لیے نوجوان کو اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا

ایوان کے پہلے ہی دن حزب اختلاف کا جارحانہ رویہ، ای وی ایم اور بیڑ، پربھنی کے مسائل پر اسمبلی کی سیڑھیوں پر نعرے بازی

ناگپور: اسمبلی اجلاس کے پہلے ہی دن پربھنی اور بیڑ کے واقعات پر ایوان میں زبردست ہنگامہ ہوا۔ حزبِ اختلاف نے الزام عائد کیا کہ آئین کی بے حرمتی اور گاؤں کے سرپنچ کے بے رحمانہ قتل جیسے سنگین واقعات بی جے پی حکومت کے دوران رونما ہوئے ہیں۔ پربھنی میں ایک امبیڈکر وادی کارکن کی پولیس حراست میں موت ہوئی ہے، یہ معاملات نہایت سنجیدہ ہیں اور ریاستی عوام خاص طور پر امبیڈکر وادی افراد میں اس تعلق سے شدید غصہ پایا جاتا ہے۔ حکومت کو ان مسائل پر وضاحت دینی چاہیے۔

کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے اسمبلی میں پربھنی اور بیڑ کے واقعات کا مسئلہ اٹھایا۔ اس پر حکومت کی جانب سے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے یقین دلایا کہ اسمبلی اسپیکر جس دن بحث کا وقت طے کریں گے، اس دن اس مسئلے پر بات ہوگی۔ بعد ازاں اسمبلی کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ بیڑ ضلع کے مساجوگ گاؤں کے سرپنچ سنتوش دیشمکھ کے اغوا کی اطلاع پولیس کو تھی، لیکن ان کے بے رحمانہ قتل کے بعد ہی پولیس حرکت میں آئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا آخر کیا وجہ ہے کہ بی جے پی حکومت کے دوران دلت اور بہوجن سماج کے افراد پر مظالم میں اضافہ ہو رہا ہے؟ کیا ای وی ایم حکومت نے ریاست میں سیاسی قتل و غارت کا سلسلہ شروع کر دیا ہے؟

پربھنی کے واقعے پر بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ سوم ناتھ سوریہ ونشی کو پولیس حراست میں شدید اذیت دی گئی، جس کی وجہ سے ان کی موت ہو گئی، اور یہ بات پوسٹ مارٹم رپورٹ میں واضح ہو چکی ہے۔ یہ حکومت کی سرپرستی میں قتل ہے۔ اس معاملے میں حکومت کے خلاف ہی قتل کا مقدمہ درج کیا جانا چاہیے۔ پربھنی کے دوسرے واقعے پر نانا پٹولے نے کہا کہ آئین کی بے حرمتی کے الزام میں ایک شخص، جس کا نام پوار بتایا جاتا ہے، کو پولیس نے گرفتار کیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ وہ ذہنی طور پر بیمار ہے، لیکن یہ شخص بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر مظالم کے خلاف نکالے گئے احتجاجی مارچ میں شامل تھا۔ مساجوگ گاؤں کے سرپنچ سنتوش دیشمکھ بھی ہندو تھے، ان کے ہاتھ پاؤں کاٹے گئے، قتل کے بعد ان کی لاش پر ملزمان نے رقص کیا۔ اس واقعے پر کیا کہا جائے؟ جب آپ کہتے ہیں کہ بنگلہ دیش میں ہندو محفوظ نہیں تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ اپنے ملک کے ہندوؤں کے تحفظ کا کیا حال ہے؟ پربھنی اور بیڑ کے معاملات کیا ای وی ایم کے خلاف جاری بحث سے توجہ ہٹانے کی سازش ہیں؟ اس پر بھی شک پیدا ہوتا ہے۔

نانا پٹولے نے کہا کہ سابق وزیر رویندر چوہان کے بنگلے پر ایک نوجوان جس کا نام ویبھو بتایا جا رہا ہے، کو اغوا کر کے رکھا گیا ہے۔ 9 کروڑ روپے کی وصولی کے لیے اسے اغوا کیا گیا اور اس سے 4.5 کروڑ روپے پہلے ہی وصول کیے جا چکے ہیں۔ باقی 4.5 کروڑ کے لیے اس پر تشدد کیا جا رہا ہے۔ یہ کس قسم کی وصولی ہے؟ اتنی بڑی رقم رویندر چوہان کے پاس کہاں سے آئی؟ دریں اثنا اسمبلی کے پہلے دن مہاوکاس اگھاڑی کے اراکین اسمبلی نے اسمبلی کی سیڑھیوں پر احتجاج کیا۔ اس دوران ای وی ایم کو ہٹانے، پربھنی اور بیڑ کے مسائل پر حکومت کے خلاف زور دار نعرے بازی کی گئ.

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading