NCP-SP Urdu News 16 Dec 24

بیڑ اور پربھنی میں پیش آئے واقعات کا وزیر اعلیٰ فڑنویس کو جواب دینا ہوگا: سپریا سولے

نئی دہلی: بیڑ اور پربھنی میں پیش آئے واقعات افسوسناک ہیں۔ مہاراشٹر کو تین ہفتوں سے وزیر داخلہ میسر نہیں ہے۔ میری توقع تھی کہ مہاراشٹر کی عوام نے جنہیں بھاری اکثریت کے ساتھ منتخب کیا ہے وہ فوراً کام شروع کر دیں گے۔ ان خیالات کا اظہار این سی پی- ایس پی کی کارگزار صدر اور رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے نئی دہلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔

سپریا سولے نے کہا کہ پربھنی ریلوے اسٹیشن کے قریب ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے مجسمے کے ارد گرد موجود آئین کی علامت کی چند دن پہلے بے حرمتی کی گئی تھی، جس کے بعد پیدا ہونے والے تشدد کے سلسلے میں چند افراد کو حراست میں لیا گیا۔ ان میں شامل ایک نوجوان سومناتھ سوریہ ونشی کی عدالتی حراست میں موت ہو گئی ہے۔ جبکہ بیڑ کے کیج تعلقہ کے مساجوگ گاؤں کے سرپنچ سنتوش دیشمکھ کو پرانے تنازع کے سبب اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا۔ ان دونوں واقعات کے متعلق وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو جواب دینا ہوگا۔

سپریا سولے نے کہا کہ دیویندر فڑنویس اس سے قبل بھی مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں، اس لیے انہیں بیڑ اور پربھنی کے معاملات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ پربھنی میں عدالتی حراست میں موت کے واقعے کی جامع تحقیقات ہونی چاہیے اور عوام کو شفافیت کے ساتھ یہ بتایا جانا چاہیے کہ پربھنی میں نوجوان کی موت کیسے ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ تین ہفتے ہو چکے ہیں اور ابھی تک کابینہ کی تقسیم نہیں ہوئی۔ پہلے وزیر اعلیٰ کی تقرری میں وقت لگا، پھر کابینہ کی توسیع میں تاخیر ہوئی اور اب تک قلمدانوں کی تقسیم نہیں ہو سکی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی ہمیشہ فخر سے کہتی تھی کہ ہم دیگر پارٹیوں سے مختلف ہیں لیکن مہاراشٹر میں ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ یہ صورتحال مہاراشٹر کی روایات کے خلاف اور باعث تشویش ہے۔

سپریا سولے نے کہا کہ مہاراشٹر کے عوام نے بی جے پی کو بھاری اکثریت کے ساتھ منتخب کیا لیکن عوامی خدمت کے بجائے وزراء ناراضگی میں مبتلا ہیں۔ یہ لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم عوام کی خدمت کے لیے سیاست میں آئے ہیں اور یہی ہمارا اولین مقصد ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بیڑ اور پربھنی جیسے سنگین واقعات کے دوران حکومت کے کسی نمائندے نے ان جگہوں کا دورہ نہیں کیا اور نہ ہی عوام سے امن قائم رکھنے کی اپیل کی۔ اس سے حکومت کی عدم حساسیت ظاہر ہوتی ہے۔ انہوں نے چھگن بھجبل کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ شرد پوار کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور ان کا احترام کیا جاتا رہا ہے۔ چھگن بھجبل کے ساتھ جو بھی معاملات ہیں، وہ پارٹی کا اندرونی معاملہ ہیں اور اس پر تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ مہاراشٹر کی حکومت موجودہ بحران سے نمٹنے میں ناکام ہو رہی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading