مودی-شاہ کے لیے مہاراشٹر ایک اے ٹی ایم کی طرح ہے

مہا وکاس اگھاڑی مہایوتی کو شکست دے کر یہ اے ٹی ایم بند کرے گی: نانا پٹولے

مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں مہا وکاس اگھاڑی ہی ہمارا چہرہ، کامیابی کے بعد مل کر وزیر اعلیٰ کا فیصلہ کریں گے

اکثریت جاتے ہی وزیر اعظم مودی کو سیکولرزم کی یاد آنے لگی: بالاصاحب تھورات

شنمکھا نند ہال میں مہاوکاس اگھاڑی کے مشترکہ اجلاس کا انعقاد

ممبئی: بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاس بدعنوانی سے حاصل کیا ہوا پیسہ ہے۔ دہلی میں بیٹھے ہوئے دو لیڈر مہاراشٹر کو اے ٹی ایم سمجھ کر لوٹ رہے ہیں۔ ان کا مقصد مہاراشٹر کو دیوالیہ کرنا ہے۔ مہاوکاس اگھاڑی اسمبلی انتخابات میں بی جے پی اتحاد کو شکست دے کر مودی-شاہ کا یہ اے ٹی ایم بند کرے گی اور مہاراشٹر کے پیسے کو مہاراشٹر کے عوام کے لیے ہی استعمال کرے گی۔ یہ بات مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کہی ہے۔

مہا وکاس اگھاڑی کا مشترکہ اجلاس شنمکھانند ہال میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے صدر شرد پوار، شیو سینا کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے، کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے، کانگریس قانون ساز پارٹی کے لیڈر بالاصاحب تھورات، سابق وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان، قانون ساز کونسل میں کانگریس کے گروپ لیڈر ستیج عرف بنٹی پاٹل، ریاستی کارگزار نائب صدر نسیم خان، ممبئی کانگریس کی صدر رکن پارلیمنٹ ورشا گائیکواڑ، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے ریاستی صدر جینت پاٹل، سابق وزیر اسلم شیخ، شیو سینا رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت، رکن پارلیمنٹ سپریا سولے، شیتکری کامگار پارٹی کے جینت پاٹل، سابق وزیر آدتیہ ٹھاکرے سمیت مہا وکاس اگھاڑی کے اہم لیڈران موجود تھے۔

اس موقع پر نانا پٹولے نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں اپوزیشن لیڈر کو اہم مقام حاصل ہوتا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں جمہوریت کے دو پہیے ہیں، لیکن جشنِ آزادی کی تقریب میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو مناسب مقام نہیں دیا گیا جو جمہوری روایات کی صریح خلاف ورزی اور قتل ہے۔ بی جے پی میں اب بھی اقتدار کا غرور اور تکبر ہے، اس مغرور رویے کو ہم اسمبلی انتخابات میں اقتدار سے بے دخل کیے بغیر نہیں رہیں گے۔

کانگریس قانون ساز پارٹی کے لیڈر بالاصاحب تھورات نے اس موقع پر کہا کہ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کی دس سالہ من مانی کا جواب عوام نے دے دیا ہے۔ مہاراشٹر کی آواز دہلی میں بلند ہوئی ہے۔ مہاراشٹر نے پارلیمنٹ میں شیرنیاں بھیجی ہیں، یہ خواتین ارکان پارلیمنٹ بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا میں راہل گاندھی کی پہلی تقریر نے 56 انچ کے سینے کو ہلا کر رکھ دیا۔ لوک سبھا انتخابات میں اکثریت ختم ہوتے ہی نریندر مودی کو سیکولرزم کی یاد آگئی ہے۔ لوک سبھا کی کامیابی نے مہاراشٹر میں جوش و خروش پیدا کر دیا ہے۔ ریاست میں غیر قانونی حکومت کو گھر بھیجنے کی عوامی خواہش ہے۔ تھورات نے کہا کہ ’پنّاس کھوکے، ایک دم اوکے‘ (پچاس کروڑ، سب کچھ ٹھیک) کو یہ عوام ابھی تک نہیں بھولی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہا وکاس اگھاڑی حکومت نے پہلے ہی ہفتے میں کسانوں کے قرضے معاف کیے تھے۔ آنے والے اسمبلی الیکشن میں ہم بی جے پی حکومت کے گھوٹالوں کو بے نقاب کرتے ہوئے عوام کو مہا وکاس اگھاڑی کے اچھے کاموں سے آگاہ کریں گے۔

ریاستی کارگزار نائب صدر نسیم خان نے اس موقع پر کہا کہ مہا وکاس اگھاڑی حکومت کے دور میں بدعنوانی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ قیمتیں بڑھا کر ٹینڈر دینا اور اس سے کمیشن وصول کرکے لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی میں اب کوکر گھوٹالہ شروع ہو چکا ہے۔ 600 روپے کے کوکر کو ڈھائی ہزار روپے میں خرید کر ہر وارڈ میں 40 سے 50 ہزار کوکر تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ نسیم خان نے کہا کہ بی جے پی نے وقف بورڈ کی زمینوں کا معاملہ اٹھایا ہے، لیکن ہندو مذہب کی دیوستھان زمین ہو یا مسلم مذہب کی وقف زمینیں، اگر ان کو ہاتھ لگایا گیا تو یہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

ممبئی کانگریس کی صدر رکن پارلیمنٹ ورشا گائیکواڑ نے کہا کہ لاڈکی بہین اسکیم کی بات ہو رہی ہے لیکن خواتین کے لیے مہالکشمی اسکیم سب سے پہلے کرناٹک اور تلنگانہ میں کانگریس حکومت نے شروع کی۔ مہا وکاس اگھاڑی حکومت خواتین کو نہیں بلکہ ووٹوں کے لیے پیسے دے رہی ہے، لیکن ان پیسوں کو واپس لینے کی دھمکی بھی دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں لاڈکی بہین اسکیم تو اب آئی ہے مگر لاڈکا (پیارا) دوست اسکیم تو ڈھائی سال سے چل رہی ہے۔ ممبئی کی تمام اہم جگہیں پیارے دوستوں کو دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہا وکاس اگھاڑی کے اقتدار میں آنے کے بعد ہم ممبئی میونسپل کارپوریشن کے دو سالہ کام کاج کا وائٹ پیپر جاری کریں گے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading