سونیا اور راہل کے خلاف ای ڈی کارروائی سیاسی ہتھکنڈہ، کانگریس کا دوٹوک مؤقف ’ہم جھکنے والے نہیں!‘

ناگپور میں کانگریس کا ’سدبھاؤنا شانتی مارچ‘، مندر، مسجد اور دِکشا بھومی میں دعائیں، عوام کا والہانہ استقبال

’فسادات کی آڑ میں مہاراشٹر کو لوٹا جا رہا ہے!‘ سپکال، وڈیٹی وار کا حکومت پر سخت حملہ

ناگپور: کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کے خلاف ای ڈی کی کارروائی کو سیاسی انتقام کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے انچارج رمیش چنّیتھلا نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ مودی حکومت کانگریس کے لیڈروں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی سونیا گاندھی اور راہل گاندھی سے ای ڈی نے پوچھ گچھ کی تھی لیکن کانگریس ان ہتھکنڈوں سے نہ پہلے ڈری تھی، نہ اب ڈرے گی۔ پارٹی کا ہر کارکن ان کارروائیوں کے خلاف متحد ہو کر جدوجہد کرے گا۔

ناگپور میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ اور امن کے قیام کے لیے کانگریس کی جانب سے ’سدبھاؤنا شانتی مارچ‘ نکالا گیا۔ مارچ کی قیادت رمیش چنّیتھلا اور مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کی۔ یہ مارچ دِکشا بھومی سے شروع ہوا اور تاج الدین بابا درگاہ اور ٹیکڑی گنیش مندر تک پہنچا۔ اس دوران تمام مذاہب کی عبادت گاہوں میں ملک و ریاست میں امن و بھائی چارے کے لیے دعائیں کی گئیں۔ شہر کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے مارچ کا خیرمقدم کیا، جو کانگریس کے امن کے پیغام کو مقبولیت ملنے کا ثبوت ہے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ ناگپور میں حالیہ فرقہ وارانہ تشدد کے دوران بی جے پی کے ہی ایک ایم ایل اے نے انکشاف کیا تھا کہ وزیر اعلیٰ پولیس کو فون کر رہے تھے، لیکن پولیس جواب نہیں دے رہی تھی۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ حالات کو جان بوجھ کر بگاڑا گیا اور پسِ پردہ سازش کے تحت ریاست کو غیر مستحکم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فسادات کی آڑ میں مہاراشٹر کو لوٹا جا رہا ہے، صنعتکاروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے زمینیں بانٹی جا رہی ہیں۔ کانگریس ایسے ہتھکنڈوں کو ہرگز برداشت نہیں کرے گی اور آئین، شیو، شاہو، پھولے، امبیڈکر کے نظریات کو لے کر عوام کو بیدار کرے گی۔ سپکال نے راہل گاندھی کے ’محبت کی دکان‘ کے نظریے کو پھیلانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ گھٹیا سیاست کرنے والے لوگ بھائی کو بھائی سے لڑا رہے ہیں، انہیں روکنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔

اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر وجے وڈیٹی وار نے کہا کہ مہاراشٹر جیسی ترقی پسند ریاست میں آگ لگانے کا کام وہی لوگ کر رہے ہیں جو اقتدار میں ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اورنگزیب کی قبر کا مسئلہ اٹھا کر دانستہ طور پر ریاست کی فضا کو پراگندہ کیا گیا۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ ایک وزیر مسجد میں گھس کر مارنے کی دھمکی دیتا ہے اور وزیر اعلیٰ خاموش رہتے ہیں، جو نہ صرف ناقابل قبول ہے بلکہ خطرناک بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناگپور تشدد کے بعد ایک ملزم کے گھر پر بلڈوزر چلایا گیا، جس پر بعد میں متعلقہ افسران کو معافی مانگنی پڑی۔ سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت کو ’کمزور حکومت‘ قرار دیا، جو انتہائی شرمناک ہے۔

اس موقع پر کانگریس کے دیگر اہم رہنماؤں جن میں مانک راؤ ٹھاکرے، کنال چوہدری، ڈاکٹر نیتن راؤت، سنیل کیدار، انیس احمد، رکن پارلیمنٹ پرتبھا دھانورکر، وکاس ٹھاکرے، ابھیجیت ونجاری، ویلاس اوتاڈے، کیلاش کدم اور اتل لونڈھے شامل تھے، نے بھی مارچ میں شرکت کی اور مختلف مقامات پر عوام سے خطاب کیا۔ تمام مقررین نے فرقہ واریت، نفرت، اور حکومتی نااہلی کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس امن، محبت اور اتحاد کے پیغام کو لے کر عوام کے درمیان جائے گی اور ریاست کو سازشوں سے بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading