- حکومت کی بے حسی کی وجہ سے کسانوں کی دیوالی تاریکی میں
-
کسانوں کی فوری مددکی جائے ورنہ وزیروں کا سڑکوں پر چلنا مشکل کردیا جائے گا
ممبئی: ریاست میں کسانوں کی حالت پہلے سے ہی نہایت خراب تھی کہ دوبارہ شروع ہونے والی شدید بارش نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔اس بارش سے فصلوں کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔خاص طور پر ودربھ و مراٹھواڑہ کے کسان اس حالیہ آسمانی آفت سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔شندے-فڈنویس حکومت کی طرف سے اعلان کردہ امداد ابھی تک کسانوں تک نہیں پہنچ سکی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے پنچنامے کا کام بھی سست رفتاری سے جاری ہے۔ ساتھ ہی بارش کی واپسی نے کسانوں کو گھاس سے بھی محروم کر دیا ہے۔ریاستی حکومت کی اس بے حسی کی وجہ سے کسانوں کی دیوالی میں تاریک ہوگئی ہے۔ ایسے میں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مہاراشٹر کو فوری طور پرآبی قحط زدہ قرار دیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس مطالبہ کو نظر انداز کیا گیا تو وزراء کا سڑکوں پر چلنا مشکل ہو جائے گا اورریاستی حکومت کے خلاف شدید احتجاج کیا جائے گا۔
اس ضمن میں مزید بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ اس سال قدرت نے کسانوں کو مشکلات میں مبتلا کردیا ہے۔ ودربھ، مراٹھواڑہ سمیت ریاست کے کچھ حصوں میں موسلادھار بارش ہوئی ہے، جس کی وجہ سے کھیتوں کی کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔ خاص طور پر سویا بین، کپاس، تور، مکئی اور باجرہ کی فصلوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ اس بارش سے باغات کی فصلوں کے علاوہ سبزیاں بھی متاثر ہوئی ہیں، مویشیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ ریاستی حکومت نے کی منترالیہ میں بیٹھ کر افسران کو پنچنامہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مقامی سطح پر انتظامیہ کام ہی نہیں کر رہی ہے۔ نانا پٹولے نے کہا کہ میں نے خود ودربھ اور مراٹھواڑہ کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور کسانوں سے بات چیت کی۔ اہلکار پنچنامہ کرنے نہیں آرہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی جو بھی پنچنامہ کیا جا رہا ہے، وہ حقائق کو دیکھ کر نہیں کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے کسانوں کو نقصان ہو رہا ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ ریاستی حکومت نے کسانوں کے لیے جو امدادی رقم کا اعلان کیا ہے وہ بہت کم ہے۔ ساتھ ہی یہ رقم بھی کسانوں کو ابھی تک نہیں ملی ہے۔
ناناپٹولے نے کہا کہ بھاری بارش کے بعد کسانوں کو ہوئے نقصانات کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت کو کسانوں کی مدد کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہیے تھے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ مہاوکاس اگھاڑی حکومت نے اپنے دور اقتدار میں کسانوں کو فوری طور پر 10,000 روپے کی نقد امداد دی تھی۔ ساتھ ہی کسانوں کے لیے 10 ہزار کروڑ کی مدد کا اعلان کیا گیا۔ کسانوں کے قرضے معاف کرنے کے بعد ان کے کھاتوں میں رقم جمع کرائی گئی۔مہاوکاس اگھاڑی حکومت نے شندے-فڈنویس حکومت کی طرح شرائط و ضوابط کا بہانہ بناکر کسانوں کو دن رات آن لائن قطاروں میں کھڑے نہیں ہونے دیا۔ پٹولے نے کہا کہ کسان حکومت کی ترجیح ہونی چاہئے، لیکن بی جے پی حکومت کسان مخالف ہے، اسی لیے مدد کا ہاتھ آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے کھینچ رہی ہے۔
نانا پٹولے نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے پہلے ہی ریاست میں گیلی خشک سالی کا اعلان کرنے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن ریاست کی شندے-فڑنویس (ای ڈی) حکومت نے اس مطالبے کو صاف طور سے نظر انداز کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی اس سال دوبارہ ہونے والی بارش نے کسانوں کے باقی ماندہ خوابوں کوبھی چکنا چور کر دیا ہے۔ پٹولے نے کہا کہ شندے-فڈنویس حکومت کے درمیان جھگڑا چل رہا ہے۔ جس کی وجہ سے انہیں کسانوں کی طرف توجہ دینے کا وقت ہی نہیں مل رہا ہے۔پٹولے نے یہ بھی کہا کہ ان کی پارٹی کسانوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔ اگر حکومت نے جلد از جلد ریاست کوآبی قحط زدہ قرار دے کر کسانوں کی مدد نہیں کرتی ہے تو پوری ریاست میں حکومت کے خلاف زبردست احتجاج کیا جائے گا۔