MPCC Urdu News 15 Jan 21

بی جے پی ارنب گوسوامی کے لیک واٹس ایپ چیٹ کے بارے میں وضاحت کرے: سچن ساونت

ٹی آر پی گھوٹالہ میں بی جے پی کا ہاتھ ہونے کا انکشاف

ممبئی: میڈیا میں سابق بی اے آر سی سربراہ پارتھوداس گپتا اور ری پبلک چینل کے سربراہ ارنب گوسوامی کے مابین واٹس ایپ پر ہوئی بات چیت وائرل ہوئی ہے جو انتہائی حیران کن ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ٹی آر پی گھوٹالہ میں بی جے پی اور مودی حکومت کا ہاتھ ہے۔ اس معاملے میں بی جے پی اور مودی حکومت وضاحت کرے۔ یہ مطالبہ آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری وترجمان سچن ساونت نے کیا ہے۔ وہ کانگریس پارٹی کے دفترگاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کررہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ممبئی پولیس نے ٹی آر پی گھوٹالہ بے نقاب کیاتھا جس میں ری پبلک چینل کی تفتیش ہورہی ہے۔ اسی کے ساتھ بی اے آر سی کے سابق سربراہ پارتھودس گپتا کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ اس ٹی آر پی گھوٹالہ کو مودی حکومت کی جانب سے دبانے کی کوشش ہوئی ہے جس کے لیے اترپردیش میں اس معاملے میں علاحدہ کیس درج کیا گیا۔ وائرل ہوئے واٹس ایپ چیٹ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اترپردیش میں کیس اس لیے درج کیا گیا تا کہ ٹی آر پی کے گھوٹالے پر پردہ ڈالا جاسکے۔ اس واٹس ایپ چیٹ میں ری پبلک چینل کے سربراہ یہ بتاتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ان کا پی ایم او، وزارت اطلاعات ونشریات اور اے ایس سے نزدیکی تعلقات ہیں۔ اسی کے ساتھ حکومت سے تعلق رکھنے والے یہ دونوں شخص ری پبلک چینل کے ٹی آر پی میں اضافہ کرنے کی ترکیب تیار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس معاملے میں اے ایس نامی شخص کون ہے؟ یہ بی جے پی کو بتانا چاہیے۔ اس وائرل چیٹ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ری پبلک چینل کے خلاف وزارات اطلاعت ونشریات کو موصول شکایت پر پردہ ڈالاگیا جو متعلقہ محکمہ کے وزیر راج وردھن سنگھ راٹھوڑ نے بتا یا، جس کا اس چیٹ میں تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ری پبلک چینل کو بچانے کی کوشش مرکزی حکومت کی جانب سے ہورہی تھی۔ اس دوران ناظرین کی پوشیدہ رکھی جانے والی معلومات کو اجاگر کیا گیا۔ اس لیے یہ معاملہ انتہائی خطرناک ہے۔ ٹی آر پی بدعنوانی میں مرکزی حکومت کا کیا تعلق ہے؟ کریٹ سومیا ورام کدم جیسے بی جے پی کے لیڈران ری پبلک چینل کی پشت پناہی کیوں کرتے رہے؟ نیز اس پورے معاملے میں بی جے پی کا کیا رول ہے؟ یہ منظرعام پر آنا ضروری ہے۔ سچن ساونت نے اس یقین کا بھی اظہار کیا کہ ممبئی پولیس اس پورے معاملے کی تہہ تک پہونچے گی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading