میرے بیان کو توڑ مروڑ کر دیویندر فڑنویس ریاست میں کشیدگی پھیلانا چاہتے: ہرش وردھن سپکال
ملک اور ریاست کے بنیادی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے
ممبئی: کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کیا گیا اور جان بوجھ کر اس کا غلط مفہوم نکالا گیا تاکہ ریاست میں غیر ضروری تنازع کھڑا کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ چھترپتی شیواجی مہاراج ریاست کی آن، بان اور شان ہیں اور ان کی قائم کردہ ہندوی سوراج کی فکر نے آئین کی تشکیل کو بھی تحریک دی ہے۔ ہمیں بی جے پی سے چھترپتی شیواجی مہاراج کی تعلیم لینے کی ضرورت نہیں۔
سپکال نے کہا کہ ملک اور ریاست میں کئی بنیادی مسائل درپیش ہیں، جن میں معیشت، بے روزگاری اور دیگر عوامی معاملات شامل ہیں۔ ان موضوعات سے توجہ ہٹانے کے لیے ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا اور اسے مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد ہرگز کسی مذہب یا شخصیت کی توہین نہیں تھا بلکہ سوال یہ تھا کہ کیا عظیم تاریخی شخصیات کے نام پر سیاست کی جانی چاہیے؟
ٹیپو سلطان کے حوالے سے پیدا کی گئی غلط فہمی پر سپکال نے دو ٹوک کہا کہ ٹیپو سلطان برصغیر کی جدوجہد آزادی کی ایک نمایاں اور باوقار شخصیت ہیں اور وہ انہیں دیگر مجاہدین آزادی اور ملک کی عظیم شخصیات کی اولین صفوں میں شمار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ان کے بیان کا مقصد یہ سوال اٹھانا تھا کہ اگر حالیہ میونسپل انتخابات میں بی جے پی کے پوسٹروں اور بینروں پر ٹیپو سلطان کی تصویر موجود تھی اور اس وقت کوئی اعتراض نہیں تھا، تو آج اسی نام پر سیاست کیوں کی جا رہی ہے؟ اسی طرح اگر بعض مقامات پر ایم آئی ایم کے ساتھ سیاسی مفاہمت کی گئی ہے تو پھر دوسروں پر اعتراض کا کیا جواز بنتا ہے؟انہوں نے کہا کہ پونے میں پیش آئے واقعے میں بی جے پی کے کارکنان نے کانگریس دفتر پر حملہ کیا جو جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ اختلاف رائے جمہوری طریقے سے ہونا چاہیے، تشدد یا دباؤ کی سیاست مناسب نہیں۔ سپکال نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی غیر جانب دارانہ جانچ ہو اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
سپکال نے مزید کہا کہ ان کے بیان کو مذہبی تنازع بنانے کی کوشش دراصل اصل عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کی حکمت عملی ہے۔ کانگریس آئین، جمہوریت اور سماجی ہم آہنگی کے اصولوں پر قائم ہے اور کسی بھی شخصیت یا برادری کی دل آزاری اس کی پالیسی نہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تاریخ کی عظیم شخصیات کو تقسیم کی سیاست کا ذریعہ بنانے کے بجائے ان کی جدوجہد اور اقدار سے رہنمائی لینی چاہیے۔