(پریس ریلیز پٹنہ ) امارتِ شرعیہ اور بہار کی مختلف ملی تنظیمیں حکومتِ ہند کے سامنے نہایت واضح الفاظ میں یہ بات پیش کرنا چاہتی ہیں کہ اسلام اپنے ماننے والوں کو شرک کی زبانی اور عملی ہر صورت سے مکمل طور پر روکتا ہے۔ قرآنِ مجید کا اصولی اعلان ہے( ﴿إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ) (النساء: 48)۔ لہٰذا مسلمان کے لیے ایسے کسی بھی لفظ یا عمل کی ادائیگی جائز نہیں جس میں اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت، الوہیت یا تقدیس کی بو آتی ہو۔ یہ سیاسی رائےنہیں؛ بلکہ ایمان والوں کے ایمان اور ضمیر کا بنیادی مطالبہ ہے۔
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ آئین ہند کی پاسداری کرے اور مذہبی معاملات میں مداخلت نہ کرے ،ہمارے غیر مسلم بھائیوں کو اپنے مذہبی نعرے اور عقیدت کے الفاظ ادا کرنے کا مکمل حق حاصل ہے، اور ہم اس حق کا احترام کرتے ہیں۔ ہماری بات صرف اتنی ہے کہ حکومت کسی خاص مذہبی شعار کو سرکاری روایت یا لازمی معمول نہ بنائے، اور نہ ہی اسکولوں، کالجوں یا دفاتر میں لوگوں کو ایسے الفاظ زبان سے ادا کرنے پر مجبور کیا جائے۔ ریاست کا کام سب کو برابر سمجھنا ہے، نہ کہ کسی ایک مذہبی طریقے کو سب پر لازم کرنا۔ اسی رجحان کے تحت عوامی نظام میں “Vande …” جیسے مذہبی مفہوم رکھنے والے نام (مثلاً “Vande Bharat”) اور بعض مقامات پر “Jai Shri Ram” جیسے نعروں کا ادارہ جاتی دباؤ مسلمانوں میں شدید بے چینی اور عدمِ تحفظ پیدا کرتا ہے؛ کیونکہ یہ “اختیاری معاملہ” نہیں رہتا بلکہ عملاً ملک سے “وفاداری” کا پیمانہ بننے لگتا ہے۔
وزارتِ داخلہ کی جاری کردہ تازہ ہدایات میں “Vande Mataram” کے لیے “Official Version” کو معیار بنایا گیا ہے، جس کی مدت تقریباً 3 منٹ 10 سیکنڈ درج ہے، اس میں اجتماعی طور پر گانے کی بات کہی گئی ہے اور “audience shall stand to attention” جیسی لازمی زبان استعمال کرکے احتراماً کھڑا ہونے کو کہا گیا ہے۔ کاغذ پر بظاہر یہ “پروٹوکول” ہے، مگر زمینی حقیقت کے اعتبار سے یہی زبان اکثر اداروں میں جبر، ہراسانی اور امتیاز کا راستہ کھول دیتی ہے۔
آئینِ ہند کے آرٹیکل 25 (آزادیٔ ضمیر)، آرٹیکل 19(1)(a) (آزادیٔ اظہار—جس میں کسی کو اپنے ضمیر کے خلاف الفاظ ادا کرنے پر مجبور نہ کیا جانا بھی شامل ہے)، آرٹیکل 14 (مساوات) اور آرٹیکل 21 (وقار و شخصی آزادی) اس قسم کے دباؤ کی نفی کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ آف انڈیا نے Bijoe Emmanuel کے مقدمے میں واضح کیا کہ قومی ترانہ نہ گانے پر سزا دینا بنیادی حقوق (آزادیٔ ضمیر اور آزادیٔ اظہارِ رائے) کی خلاف ورزی ہے، اور احتراماً کھڑا رہنا کافی ہے۔
لہٰذا ہم حکومتِ ہند سے واضح اور دو ٹوک انداز میں مطالبہ کرتے ہیں کہ:
فوری طور پر واضح تحریری وضاحت جاری کی جائے کہ کسی شہری/طالب علم/ملازم پر “Vande Mataram” کی زبانی ادائیگی (sing/recite) لازم نہیں، اور ضمیر کی بنا پر خاموش رہنے پر کوئی تادیبی کارروائی یا ہراسانی نہیں ہوگی۔
تمام اسکولوں، کالجوں اور سرکاری دفاتر کو ہدایت ہو کہ احتراماً کھڑا ہونا کافی ہے؛ الفاظ کی ادائیگی پر دباؤ غیر آئینی سمجھا جائے؛ اور خلاف ورزی پر ذمہ دار اہلکار کے خلاف کارروائی ہو۔
سرکاری خدمات/منصوبوں/عوامی ملکیت کے ناموں اور سرکاری شعار میں مذہبی غیر جانب داری اور شمولیت کی پالیسی اپنائی جائے، تاکہ حکومت کسی ایک مذہبی مزاج کی نمائندہ نہ بنے اور سب شہری خود کو یکساں محفوظ سمجھیں۔
جاری کنندہ: امارتِ شرعیہ ودیگرملی تنظیمیں
مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب ،امیر شریعت ،امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ
مفتی محمد سعید الرحمٰن قاسمی ناظم امارت شرعیہ بہار ،اڈیشہ وجھارکھنڈ
مولانا رضوان احمد اصلاحی صاحب ،امیر جماعت اسلامی حلقہ بہار
ڈاکٹر فیض احمد قادری صاحب سکریٹری جمعیۃ علماء بہار(الف)
مولانا محمد ناظم قاسمی صاحب جنرل سکریٹری جمیعۃ علماء بہار (میم)
ڈاکٹر فرید امان اللہ صاحب سکریٹری ادراہ شرعیہ بہار
مولانا ابوالکلام قاسمی شمسی صاحب نائب صدر آل انڈیا مومن کانفرنس بہار
مولانا خورشید مدنی صاحب نائب امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث حلقہ بہار
مولانا سید امانت حسین صاحب جنزل سکریٹری مجلس علماء وخطباء امامیہ
ڈاکٹر انوار الہدیٰ صاحب سکریٹری جمیعۃ علماءبہار (الف)
ڈاکٹر عباس مصطفیٰ صاحب بہار ڈیموکریٹک فارم