زبردست بارش سے 100سے زائد کی موت، لاکھوں ہیکٹر فصل برباد لیکن ’حکومت‘ غائب ہے
بغیرکابینہ کی شندے حکومت پرریاستی کانگریس کے چیف ترجمان اتل لونڈھے کی تنقید
ممبئی:ریاست میں شندے-فڈنویس حکومت کی حلف برداری کے 15 دن گزر چکے ہیں، لیکن ابھی تک کابینہ میں توسیع نہیں کی گئی ہے۔ ریاست میں وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ کی دو پہیہ گاڑیوں کی حکومت چل رہی ہے۔ موسلا دھار بارش نے ریاست میں تباہی مچا رکھی ہے، 100 سے زائد افراد کی موت ہوچکی ہے اور لاکھوں ہیکٹر زرعی اراضی زیر آب آگئی، اس کے باوجود حکومت غائب ہے۔ ریاست کی شندے حکومت پر یہ تنقید مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے چیف ترجمان اتل لونڈھے نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شندے-فڈنویس کے اقتدار کے بھوکے رویہ کی وجہ سے مہاراشٹر کی صورتحال یتیم جیسی ہو گئی ہے، کیونکہ ریاست میں حکومت کا کوئی وجود نہیں ہے۔
اتل لونڈھے نے کہا کہ اگرچہ بڑے سیاسی ڈرامے کے بعد ریاست میں بی جے پی کی قیادت والی حکومت بنی ہے لیکن ابھی تک کابینہ میں توسیع نہیں کی گئی ہے۔ حکومت میں نائب وزیر اعلیٰ ہیں، لیکن ان کے پاس کوئی قلمدان نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ کے دفتر میں ابھی تک انتظامیہ کا کوئی نظام نہیں ہے۔ پچھلے 15 دنوں میں شندے اور فڈنویس کی حکومت صرف مہا وکاس اگھاڑی حکومت کے فیصلے کو منسوخ کرکے پرانی بی جے پی حکومت کے فیصلے کو آگے بڑھانے کا کام کر رہی ہے۔ لونڈھے نے کہا کہ نئی حکومت نے حلف اٹھانے کے بعد ریاست میں کسانوں، مزدوروں اور عام لوگوں کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے ممبئی کے لوگوں کی زندگی اور ماحول کو خطرے میں ڈالتے ہوئے گوریگاؤں کے آرے کالونی میں میٹرو کار شیڈ بنانے کا فیصلہ کیا۔ ساتھ ہی سرپنچ اور میئر کا براہ راست انتخاب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اتل لونڈھے نے کہا کہ نئی حکومت صرف ایم وی اے حکومت کے فیصلوں کو منسوخ کر کے اپنے ایجنڈے کو نافذ کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔
اتل لونڈھے نے کہا کہ بارش کی وجہ سے ریاست کے لوگ پریشانی کے شکار ہیں۔ ندیوں میں زبردست طغیانی ہے۔ ایسے میں لوگوں کو فوری مدد کی ضرورت ہے لیکن سی ایم کا کیمرہ ایکشن اور ویڈیو ٹیپ میں پھنسا ہوا نظر آرہا ہے۔ جب یہ لوگ اقتدار سے باہر تھے تو او بی سی ریزرویشن کا مسئلہ جلد حل کرنے کی بات کرتے تھے، لیکن اب وہ اقتدار میں آگئے ہیں تو او بی سی ریزرویشن کا مسئلہ عدالت میں مضبوطی سے پیش تک نہیں کر پارہے ہیں۔ مہاراشٹر کی اگھاڑی حکومت کو مدھیہ پردیش پیٹرن کا حوالہ دینے والے لیڈر بھی خاموش ہیں۔ اتل لونڈھے نے کہا کہ ریاست کی موجودہ صورتحال’اندھیر نگری، چوپت راجہ‘ جیسی ہو گئی ہے