- ووٹ چوری کے گناہ کو چھپانے کے لیے مرکز کی بی جے پی حکومت کا نیا قانون
-
بی جے پی اتحاد کی طرف سے بہنوں کے اعتماد کے ساتھ دھوکہ، تمام بہنوں کو ۲۱۰۰ روپے دیے جائیں
ممبئی: بیڑ اور پربھنی میں پیش آنے والے واقعات بی جے پی اتحاد حکومت کے حمایت یافتہ ہیں اور مہایوتی حکومت اصل ملزمان کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ حکومت یہ کھیل بند کردے اور بیڑ واقعہ میں ملوث ملزمان کو پھانسی دے۔ یہ مطالبہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کیا ہے۔
بھنڈارا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ بیڑ ضلع کے ماساجوگ کے سرپنچ سنتوش دیشمکھ کو انتہائی بے رحمی سے قتل کیا گیا ہے۔ مہاراشٹر میں اس طرح کے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ ملزمان کو سخت ترین سزا دی جائے۔ بیڑ اور پربھنی کے واقعات نے مہاراشٹر کی شبیہ کو داغدار کیا ہے۔ ان دونوں واقعات پر بی جے پی اتحاد حکومت کا جاری تماشہ عوام معاف نہیں کرے گی۔
نانا پٹولے نے کہا کہ اسمبلی انتخابات میں الیکشن کمیشن نے جرم کیا ہے۔ رات کے اندھیرے میں ۷۶ لاکھ ووٹ کیسے بڑھائے گئے؟ اس کا تسلی بخش جواب الیکشن کمیشن دینے میں ناکام رہا۔ کانگریس پارٹی نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا تھا کہ انتخابی دن شام ۶ بجے کے بعد ووٹروں کی قطاروں کی ویڈیوز دکھائے جائیں، لیکن کمیشن نے وہ ثبوت فراہم نہیں کیے۔ اسمبلی میں ریاست کے وزیر اعلیٰ نے الیکشن کمیشن کی وکالت کی۔ ووٹ چوری کے گناہ کو چھپانے کے لیے مرکز کی بی جے پی حکومت نے اب ایک نیا قانون بنایا ہے، جس کے تحت الیکشن کمیشن کوئی معلومات فراہم نہیں کرتا۔ بی جے پی اور الیکشن کمیشن نے ووٹوں پر ڈاکا ڈالنے کا کام کیا ہے۔ عوام اس حکومت کو اپنی حکومت نہیں مانتی۔
ریاستی کانگریس کے صدر نے کہا کہ اسمبلی انتخابات میں خواتین کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے لاڈکی بہن یوجنا کے تحت تمام بہنوں کو ڈیڑھ ہزار روپے دیے گئے، لیکن حکومت کے قیام کے بعد بی جے پی کو بہنوں کی ضرورت نہیں رہی، اس لیے بہنوں کو دھمکیاں دے کر پیسے واپس لینے کی بات کہی جا رہی ہے۔ یہ دھوکہ ہے۔ بی جے پی اتحاد حکومت کو اپنے وعدے پورے کرنے چاہیے اور تمام بہنوں کو ہر ماہ ۲۱۰۰ روپے فراہم کرنے چاہیے.